آپ آف لائن ہیں
بدھ12؍ صفر المظفّر 1442ھ30؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نیب کی دہشتگردی کا سامنا کیا، گاڑی بلٹ پروف نہ ہوتی تو جانی نقصان ہوجاتا، مریم نواز


پاکستان مسلم لیگ (ن) مریم نواز نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں بلانے کے پیچھے جانی نقصان پہنچانے کی سازش تھی، اگر گاڑی بلٹ پروف نہ ہوتی تو ان کا جانی نقصان ہوجاتا، نیب کی دہشتگردی کا سامنا کیا۔

ماڈل ٹاؤن لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کے والد اور پارٹی قائد نواز شریف اپنے حصے کا کام کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لیگی صدر شہباز شریف سمیت پوری مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے بیانیے کے پیچھے کھڑی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ خاموش اس لیے تھی کہ یہاں بولتی ہوں تو وہاں نواز شریف کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کی دہشت گردی کا سامنا کیا ہے، اگر گاڑی بلٹ پروف نہ ہوتی تو ان کا جانی نقصان ہو جاتا۔

مریم نواز کا یہ بھی کہنا تھا کہ جبر سہہ لیا ہے، عمران خان کی چھ ماہ کی مہلت ختم ہوگی تو ان کا کیا بنے گا۔

لیگی نائب صدر نے کہا کہ ناکام خارجہ پالیسی کے ذریعے کشمیر کھو دیا اور سعودی عرب سمیت دوست ممالک کو ناراض کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے خاموش رہنا بولنے سے زیادہ مشکل ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کی ہدایت ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں اے پی سی کی بھرپور حمایت کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوامی سروے سے پی ٹی آئی حکومت گھبرا گئی ہے، پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کلین سوئپ کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ لوگ اتنے ظلم کر بیٹھے ہیں کہ اب انھیں اپنے انجام سے خوف آتاہے۔

مریم نواز نے کہا کہ پاناما، اقاما بھی ختم ہوگیا، ن لیگ نے بہت برداشت کرلیا اب انھیں اپنی فکر کرنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ جو حکومت وارننگ سے ملی ہو تو خوف تو آئے گا۔

لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ چھ ماہ بعد عمران خان کو پتہ ہے کہ معاملات کہاں چلے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ کشتیاں جلا دینے کا مقصد اتنے ظلم کر دیے اب دوسرا راستہ نہیں، آپ کی ترحیجات پہلے سے آخر تک نواز شریف ہی ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ کابینہ اور خفیہ میٹنگز نواز شریف تک ختم ہو جاتی ہیں، نواز شریف چائے پیے، واک کرے یا جہاز سے جائے تو عمران خان کو تکلیف ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی کسٹڈی میں نواز شریف موت کے منہ تک پہنچا، آپ کے فیصلے سے وہ باہر گیا۔

مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کی صحت پر بھی سیاست کی جس پر شرم آنی چاہیے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ کرپشن کرپشن کا راگ الاپتے رہتے ہیں، نواز شریف کے دور میں آٹا چینی کے کیا ریٹ تھے اب کیا ہیں۔

مریم نواز نے عمران خان کے ماضی کے ایک بیان سے متعلق کہا کہ حکمران کرپٹ ہوتا تو آئل قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، تاہم اب کون کرپٹ ہے؟

’میر شکیل الرحمٰن کو حبس بےجا میں رکھے 140 دن سے زائد ہوچکے‘

مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ میر شکیل الرحمٰن کے حوالے سے ایک وزیر فرما رہے تھے کہ وہ وزیرِ اعظم سے درخواست کریں گے کہ میر شکیل کو چھوڑ دیں۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن کو حبس بےجا میں رکھے 140 دن سے زائد ہوچکے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن کو کیا عمران خان نے پکڑا ہے؟ میر شکیل الرحمٰن کو تو نیب نے پکڑا ہے، کیا عمران خان کے کہنے پر نیب ان کو چھوڑ دے گی؟

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ یہ نیب کی حالت زار ہے جس پر مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ نیب کا اصول ہے، ناانصافی ہونی نہیں چاہیے، ہوتی ہوئی نظر آنی چاہیے۔

قبل ازیں آج مریم نواز نیب لاہور کے دفتر میں اپنا بیان ریکارڈ کروانے لیے پیش ہوئیں۔

لاہور کے نیب دفتر کے باہر نون لیگی کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہونے والے پتھراؤ میں مریم نواز کی گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔

اس دوران اپنی گاڑی کے باہر گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ مجھے نقصان پہنچانے کے لیے گھر سے نیب آفس بلایا گیا۔

قومی خبریں سے مزید