آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’یومِ استحصال کشمیر‘‘ پر اہم ویب نار

ایک سال قبل 5اگست 2019کو بھارتی حکومت نے اپنے آئین کی دفعہ 370میں تبدیلی اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا اور کشمیریوں کو اپنے ظلم و ستم اور بربریت کا نشانہ بنایا۔ بھارت کے اس یکطرفہ ظالمانہ اقدام کو پوری کشمیری اور پاکستانی قوم مسترد کرچکی ہے۔ گزشتہ دنوں کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کا ایک سال پورا ہونے پر پاکستانی قوم نے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ’’یومِ استحصال کشمیر‘‘ بڑی گرمجوشی سے منایا اور اُن کی آواز کو دنیا کے ہر فورم پر اُٹھایا۔ دن کے آغاز پر کمشنر کراچی افتخار شلوانی کی جانب سے کراچی کے ساحل سی ویو پر ایک بڑی ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں، میں نے اور میرے بھائی مرزا اختیار بیگ نے بھی شرکت کی۔ ریلی کی قیادت وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کی جبکہ ریلی میں صوبائی وزراء اور عوامی نمائندوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

’’یومِ استحصال کشمیر‘‘ کے تاریخی دن کے حوالے سے میں نے اپنی رہائش گاہ پر ایک اہم ویب نار کا انعقاد کیا جس میں ملک کی اہم شخصیات نے حصہ لیا اور کشمیر پر غاصبانہ بھارتی قبضے اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم رکوانے کے سلسلے میں اپنی تجاویز پیش کیں۔ ویب نار میں حریت پسند کشمیری رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک اور ترکی کے قونصل جنرل ٹولگا یوک نے خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ دیگر اسپیکرز وفاقی شرعی عدالت کے سابق چیف جسٹس آغا رفیق، سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹیڈیز کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ہارون اسلم، ملک کے بزنس مینوں کی اپیکس باڈی ایف پی سی سی آئی کے صدر انجم نثار، سابق سینئر نائب صدر ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ، کینیڈا میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر طارق عظیم، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر یاسین آزاد، وومین ایکٹوسٹ اور معروف شوبز شخصیت زیبا بختیار، کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر احمد ملک اور کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پیرزادہ قاسم نے بھی شرکت کی۔ ویب نار میں ای یو پاک فرینڈشپ فیڈریشن کے چیئرمین پرویز لوسر نے بھی بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کرنا تھی مگر وہ اس وقت ’’یومِ استحصال کشمیر‘‘ کے حوالے سے یورپی ملک پرتگال میںمنعقدہ ریلی کی قیادت کررہے تھے تاہم ان کی نمائندگی ای یو پاک فرینڈشپ فیڈریشن کے چیف آرگنائزر حیدر شاہ نے کی۔ ویب نار سے خطاب میں مشعال ملک نےکہا کہ 5اگست کے اقدامات کے بعد بھارت کا گھنائونا چہرہ دنیا کے سامنے آیا جسے عالمی میڈیا نے دنیا بھر میں بے نقاب کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی سلامتی مسئلہ کشمیر کے پرامن حل سے منسلک ہے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھارتی مظالم سے نجات دلانے کیلئے عملی کردار ادا کرے۔ ترکی کے قونصل جنرل ٹولگا یوک نے اپنی تقریر میں کہا کہ ترکی نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت کی ہے اور وہ آج کے دن ’’یومِ استحصال کشمیر‘‘ کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارتی مظالم کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترک صدر طیب اردوان کی حالیہ ٹیلیفون کال میں صدر پاکستان سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ترک عوام اور حکومت، مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر اپنے پاکستانی بھائیوں کے ساتھ کھڑےہیں۔ ویب نار کے آرگنائزر کے طور پر میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج سے ایک سال قبل غاصب بھارت نے کشمیریوں سے اُن کا تشخص چھینا مگر ایک سال پورا ہونے پر بھی 365دن کا کرفیو کشمیریوں کو بھارتی مظالم کے آگے نہ جھکا سکا، آزادی کی اس جدوجہد میں ہم مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب جبر کی طویل رات ختم ہوگی اور آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔مقررین نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور او آئی سی سے بھارتی مظالم رکوانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپیل کی کہ بھارت کے غاصبانہ قبضے اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے۔ویب نار کے دوران اپنے شوہر یاسین ملک اور کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم بیان کرتے ہوئے مشعال ملک کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ مشعال ملک کشمیر کاز اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف جس طرح دنیا بھر میں آواز بلند کررہی ہیں، وہ قابل ستائش ہے اور ’’یومِ استحصال کشمیر‘‘ کے دن کے حوالے سے وہ بہت متحرک نظر آئیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت پر پاکستان کی مذمت کے باوجود سید علی گیلانی سمیت دیگر حریت پسند کشمیری لیڈرز مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی موجودہ پالیسی اور او آئی سی کی طرف سے کشمیریوں کی حمایت میں موثر آواز بلند نہ کرنے پر نالاں نظر آتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیری اور پاکستانی حکمرانوں کے مابین عدم اعتماد کی فضا ختم کی جائے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت پاکستان نے حریت رہنما سید علی گیلانی کو جدوجہد آزادی کشمیر کی خدمات کے صلے میںملک کے اعلیٰ اعزاز ’’نشان پاکستان‘‘ سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ حکومت کشمیری حریت پسند رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کی جدوجہد آزادی کشمیر کے پیش نظر اُنہیں یا اُن کے شوہر کو بھی ’’سول ایوارڈ‘‘ سے نوازے جس سے یقیناً اُن کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ میں نے ویب نار کے دوران مقررین کی دی گئی تجاویز مرتب کرکے اُسے عالمی اداروں، پاکستان میں قائم غیرملکی سفارتخانوں اور اہم عالمی شخصیات کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر بھرپور طریقے سے اجاگر کرکے بھارت کا مکروہ چہرہ بےنقاب کیا جا سکے۔