آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

برطانوی صحافی مہدی حسن بہت دلچسپ انداز میں چہکارتے (ٹویٹ کرتے )ہیں ۔پچھلے دنوں انہوں نے ٹویٹ کی کہ اگر کوئی شخص کہے کہ باہر بارش ہو رہی ہے اور دوسرا شخص کہے کہ بارش نہیں ہو رہی تو صحافی کا کام یہ خبر بنانا نہیں کہ الف کہہ رہا ہے کہ بارش ہو رہی ہے جبکہ ب کا کہنا ہے کہ نہیں ہو رہی ، ایک کھراصحافی کھڑکی کھول کر دیکھے گا اور بتائے گا کہ حقیقت کیاہے ۔یہ تو ہوا خبر نگاری کا اصول۔

کالم کا معاملہ ذرا مختلف ہے ، یہاں ذاتی رائے کی کافی گنجائش ہوتی ہے ، موضوع کے چناؤ میں بھی کالم نگار آزاد ہوتا ہے اور اپنے نظرئیے کی حمایت میںدلائل دینے کی بھی اسے آزادی ہوتی ہے۔تاہم نقطہ نظر جو بھی ہو ،حقائق کو درست انداز میں پیش کرنے کی ذمہ داری سے کوئی کالم نگار مبرّا نہیں ہو سکتا۔

اورآج کی تاریخ تک کے حقائق یہ ہیں کہ پاکستان کورونا وائرس سے نمٹنے میں کامیاب ہو چکا ہے ،وہ ملک جو دو ماہ پہلے تک وائرس کے پھیلاؤ میں دنیا میں بارہویں نمبر پر تھا آج اُس فہرست میں نیچے جا چکا ہے ۔بل گیٹس اِس بات پر حیران ہے ، جوتشی پشیمان ہیں ۔اِس کامیابی کا سہرا بے شک حکومت کے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سر ہے مگر اِس کے علاوہ بھی کچھ لوگ اِس سہرے کے حقدار ہیں ۔ وہ لوگ کون ہیں ؟

پاکستان میں چھوٹی عید 24مئی کو منائی گئی ، لوگوںنے یوں خریداری کی جیسے یہ اُن کی آخر ی عید ہو، وائرس کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے ہم نے اِس بات کو زیادہ اہم جانا کہ نئے جوڑے کے ساتھ جوتا کون سا پہنا جائے۔ ٹھیک تین ہفتوں بعد ایسی خوفناک لہر آئی کہ بڑے شہروں میں اسپتال مریضوں سے بھر گئے، آکسیجن کے سلنڈر مہنگے ہو گئے ، ضروری ادویات اور ٹیکے نایاب ہو گئے ،لوگوں نے خوف کے مارے جنازوں میں جانا چھوڑ دیا۔

اُن دنوں جس دوست رشتہ دار کو فون کرتے تو پتا چلتا کہ اُس کے گھر میں کوئی نہ کوئی کورونا کا مریض ہے ۔ میرے کئی دوست رشتہ دار شدید اذیت کا شکار ہوئے ، کچھ کو اِس وائرس نے بے حد تکلیف پہنچائی جبکہ کچھ خوش قسمت محض دو چار کھانسیوں کے بعد ہی ٹھیک ہوگئے ۔یہ وہ وقت تھا جب ایک دن میں کورونا وائرس کے پانچ سے چھ ہزار کیس روزانہ سرکاری طور پر رپورٹ ہو رہے تھے جبکہ اصل مریضوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی ۔اِس کے بعد حکومت نے کچھ سختی کی اور ملک میں’’اسمارٹ لاک ڈاؤن‘‘کیا ۔

اسمارٹ لاک ڈاؤن کی اصطلاح ایک ذہین بیوروکریٹ راشد محمود لنگڑیال کے ذہن کی اختراع تھی ، اِس افسرنے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک مختصر سا مقالہ لکھا جس میں حکومت کو تجویز دی کہ اِس وبا پر قابو پانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جو علاقے وائرس کے گڑھ بن رہے ہوں اُن کی مکمل ناکہ بندی کرکے اسمارٹ لاک ڈاؤن کر دیا جائے۔ میں نے یہ بات ایک سطر میں بیان کر دی ہے جبکہ اصل میں یہ تحقیقی مضمون کہیں زیادہ مفصل تھا اور اِس میں بے شمار عملی تجاویز تھیں ۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ راشد لنگڑیا ل جیسے قابل اور اعلیٰ ساکھ کے افسر پاکستان میں ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔آپ میں سے جن لوگوں کو اِس بات میں غلو کا شائبہ ہو وہ صرف آدھ گھنٹہ نکال کر یہ مضمون پڑھ لیں جو PIDEکی ویب سائٹ پر موجود ہے ،آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا۔اِسی طرح پنجاب میں جس افسر نے دن رات کام کیا وہ سیکرٹری ہیلتھ نبیل اعوان ہے ، یہ ہے تو میرا بیچ میٹ ، مگر میں ذرا ’بمار شمار ‘ رہا ہوں۔

اسی طرح سندھ میں مراد علی شاہ اور کے پی میں سلیم جھگڑا نے بے پناہ کام کیاجبکہ وفاقی سطح پردو افراد کو اِس کام کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی ، ایک اسد عمر اور دوسرے فیصل سلطان، این سی او سی میں کلیدی کردار انہی کا تھا۔ مگر سب سے بڑھ کر اِس وبا میں جو لو گ ہیرو بن کر سامنے آئے وہ ہمارے ڈاکٹرز اور گمنام سرکاری ملازم ہیں جنہوں نے اِس محاذ پر یوں کام کیا جیسے کوئی فوجی ملک کے لیے جان پر کھیل جاتا ہے۔

سلام ہے ڈاکٹرز کو جنہوں نے اگلے پچھلے تمام دھونے دھو دیے ، میں ایسے ڈاکٹرز کو بھی جانتاہوں جو کئی کئی ہفتے اپنے خاندان والوں سے نہیں مل پائے کیونکہ انہیں وائرس لگنے کا خدشہ تھا اور بے شمار تو جان سے چلے گئے ۔ ایک تاریخ ہے جو اِن ڈاکٹرز نے رقم کی ہے ۔

آخری تجزیے میں ایسے کاموں کا ’’کریڈٹ‘‘ بہرحال حکومت وقت کو ہی جاتاہے ۔ تا دم تحریر پاکستان میں کورونا وائرس کاخط نیچے کو جارہا ہے ، اسپتالوں سے حاصل کردہ اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ اب وہاں کورونا کے اِکا دُکا مریض ہیںاورنجی لیبارٹریوں میں کورونا کے جو ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں اُن میں مثبت کیسوں کی شرح پہلے کے مقابلے میں کئی گنا کم ہے۔ فدوی کا خیال ہے کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے علاوہ جس چیز نے پاکستان میں کورونا وائرس کا زور توڑا وہ Herd Immunityہے ۔

ایک تحقیق کے مطابق اگر پچیس فیصد آبادی میں وائرس پھیل جائے تو پھر اس کے مزید پھیلنے کی شرح جسے تکنیکی زبان میں Rناٹ کہتے ہیں ، ایک سے کم ہوجاتی ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کی پچیس فیصد آبادی یعنی ساڑھے پانچ کروڑ لوگوں کو کورونا ہو چکا ہے تو جواب ہے نہیں۔ اِس بارے میں صرف یہی قیاس آرائی کی جا سکتی ہے کہ لاہور کراچی جیسے بڑے شہروں کو شاید یہ اجتماعی مدافعت حاصل ہو چکی ہو کیونکہ وبا کازیادہ زور انہی شہرو ں میں تھا۔

مثلاً لاہور میں اگر پچیس لاکھ افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں ، جو کہ ایسی نا قابل یقین بات نہیں ، تو کوئی بعید نہیں کہ یہاں اجتماعی مدافعت کی وجہ سے وائرس ختم ہو رہا ہو۔یہی صورتحال کراچی میں بھی ہو سکتی ہے ۔

اصل امتحان ابھی باقی ہے ۔بڑی عید گزرچکی،اب اگلے دو ہفتوں میں پتا چل جائے گا کہ عید پر میل ملاپ کی وجہ سے وبا کی دوسری لہر آئے گی یا نہیں ۔

اسی طرح یکم ستمبر کو دس محرم ہے ۔اگر ستمبر کے تیسرے ہفتے تک وبا میں تیزی نہ آئی تو پھر شاید ہم سکھ کا سانس لے سکیں ۔ اُس وقت تک ویسے ہی احتیاط لازمی ہے جیسی اب تک کرتے آئے ہیں ،یقین کریں کہ وائرس کو اِس بات کا نہیں پتا کہ ہم نے وبا کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔یہ وائرس بڑا بے غیرت ہے ۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)