آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہمارے روکنے کے باوجود امریکا نے یکطرفہ طور پر ایران سے معاہدہ ختم کیا، یورپی یونین

یوروپین یونین نے ایران کے خلا ف امریکی پابندیوں کی قرارداد کی حمایت کرنے سے واضح طور پر انکار کر دیا۔ اس حوالے سے یورپین خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ ہمارے بار بار یاد دہانی کے باوجود امریکا خود ایران کو ممکنہ ایٹمی طاقت بننے سے روکنے والے (JCPOA ) سے علیحدہ ہوا۔

اس کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف پیش کردہ نام نہاد پابندیوں کی " اسنیپ بیک میکانزم" قرارداد 2231 کو ہم نے نوٹ کیا ہے۔ یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کے برسلز سے جاری اعلامیے کے مطابق یورپین خارجہ امور کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ نے 8 مئی 2018 کو ایک امریکی صدارتی آرڈر کے ذریعے یکطرفہ طور پر جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن ( JCPOA) میں شراکت داری ختم کردی، اور اس کے متعلق کسی بھی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا۔

لہٰذا اس قرارداد کے ذریعے پیش کی جانے والی ممکنہ پابندیوں کی اس قرارداد کے مقاصد کیلئے اسے ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے والے جوائنٹ کمپری ہینسوو پلان آف ایکشن ( JCPOA ) کی شریک ریاست نہیں سمجھا جا سکتا۔

اسی اعلامیے میں انہوں نے یقین دلایا کہ وہ جے سی پی او اے کے کو آرڈینیٹر کی حیثیت سے اس کے مقاصد کی تکمیل اور اس پلان کو محفوظ بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے، کیونکہ JCPOA ہی عالمی ایٹمی عدم پھیلاؤ کا بنیادی ستون ہے جو علاقائی سلامتی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید