آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

امریکی صدارتی انتخابات کی دوڑ شروع

امریکا میں صدارتی انتخابات رواں برس نومبر کے پہلے ہفتے میں ہوں گے، جس کے لیے مہم کا باقاعدہ آغاز ہو چُکا ہے۔ڈھائی سو سالہ امریکی تاریخ کی روایات کے پیشِ نظر اِس مرتبہ بھی ڈیموکریٹک پارٹی اور ری پبلکن پارٹی کے امیدوار میدان میں اُترے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے جوبائیڈن صدارتی امیدوار ہیں، جب کہ اُن کے ساتھ نائب صدر کی نشست کے لیے بھارتی نژاد خاتون، کملا ہیرس ہیں۔یہ پہلی خاتون ہیں، جو امریکا میں نائب صدر کے عُہدے کے لیے امیدوار نام زد ہوئی ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ہیں، جو دوسرے ٹرم کے لیے الیکشن لڑیں گے۔اُن کے ساتھ مائیک پینس نائب صدر کے امیدوار ہیں۔

اِس مرتبہ امریکی صدارتی انتخابات میں وہ گہماگہمی نظر نہیں آ رہی، جو2016 ء میں دیکھی گئی تھی، جب ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں ایک غیر روایتی امیدوار دنگل میں اُترا اور سیاست میں ہلچل مچا دی۔اُن کی اینٹری سے انتخابات کی بہت سی روایات بدل گئیں۔اخلاقی روایات اور میڈیا سب ہی میں انقلاب سا برپا ہوگیا۔فروری سے شروع ہونے والے ابتدائی انتخابی عمل سے لے کر پولنگ کے دن تک دنیا بھر میں اُن انتخابات کے نتائج کا انتظار رہا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد اُن پر شدید ترین تنقید ہوئی، تو تعریف کرنے والوں کی بھی کمی نہیں رہی۔

دنیا یہ جاننے میں دِل چسپی رکھتی ہے کہ عالمی سُپر پاور کا نیا صدر کیا پالیسیز اختیار کرے گا؟ اور اُس کے عالمی سیاست پر کیا اثرات مرتّب ہوں گے؟ اِسی لیے امریکی صدارتی انتخابات کو دنیا بھر میں خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔اِس ضمن میں بیش تر ناقدین کا یہی کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ صدر منتخب ہوں یا جوبائیڈن وائٹ ہاؤس کے مکین بنیں، پہلے چار سال میں تو کچھ بھی بدلنے والا نہیں۔ کیوں؟ اِس لیے کہ جوبائیڈن امریکی سیاست کا نیا نام نہیں، وہ گزشتہ الیکشن میں بھی اسی عُہدے کے لیے کھڑے ہوئے تھے، تاہم بعد میں ہلیری کلنٹن کو ٹرمپ سے براہِ راست مقابلے کا موقع دینے کے لیے دست بردار ہوگئے۔ 78سالہ جوبائیڈن کا تعلق متوسّط طبقے سے ہے اور وہ اوباما کے دورِ حکومت میں دو مرتبہ نائب صدر رہ چُکے ہیں۔اب کی بار صدر کی نشست کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ وہ اُن پالیسیز کے وارث ہیں، جو صدر اوباما نے شروع کی تھیں۔جوبائیڈن چھے مرتبہ سینیٹر بھی رہ چُکے ہیں۔امریکی روایات کے مطابق نائب صدر سلیپنگ پارٹنر کا کردار ادا کرتا ہے، اِسی لیے جوبائیڈن کا کردار بھی کم کم ہی نظر آیا، تاہم کئی معاملات اور بلز میں اُن کا کردار خاصا فعال رہا، جیسے اصلاحات سے متعلق بِل اور عالمی اقتصادی بحران کے دَوران اقتصادی پیکیج میں اُن کا نام نمایاں تھا۔

جوبائیڈن کا اصل تجربہ خارجہ امور میں ہے۔ وہ سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی کے چیئرمین بھی رہ چُکے ہیں۔اُنہوں نے اوباما دَور میں اُن خارجہ پالیسیز کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، جو 2008ء سے 20016 ء تک امریکا کا خاصّہ رہیں۔اُن میں سب سے اہم صدر اوباما اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے امریکی فوج کی عراق، افغانستان اور دیگر مقامات سے واپسی کے وعدے تھے۔ ان وعدوں کا مقصد مُلکی امیج بہتر بنانا تھا، جو جارج بش کے زمانے میں اختیار کردہ پالیسیز کے سبب بُری طرح مجروح ہوا تھا۔ کیا وہ ایسا کرسکے؟ اس کا جواب موجودہ عالمی صُورتِ حال کے تناظر میں دیا جاسکتا ہے۔ عراق، افغانستان اور مِڈل ایسٹ میں اب بھی امریکی افواج موجود ہیں۔صدر اوباما کہتے رہے کہ وہ جنوب مشرقی ایشیا کو امریکی پالیسیز کا محور بنائیں گے، جسے وہ’’ پوٹ‘‘ کا نام دیتے تھے۔

یقیناً جوبائیڈن کا اس پالیسی سازی میں اہم کردار تھا، لیکن عمل درآمد کے لحاظ سے دیکھا جائے، تو یہ اعلان ابھی تک صرف ابتدائی شکل میں ہے۔ دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی مِڈل ایسٹ پر جس طرح فوکس کیا، وہ حیرن کُن ہے۔امریکا نے ایران سے نیوکلیر ڈیل کی تھی، جس کا بڑا چرچا رہا اور اسے اوباما دَور کی امن کے سلسلے میں ایک بڑی کام یابی قرار دیا گیا، لیکن وہ ڈیل اب کہیں نظر نہیں آ رہی۔ایران، امریکا دشمنی پہلے سے گہری ہوچُکی ہے۔ نیز، جوبائیڈن ایک معتدل مزاج رہنما ہیں اور اُن کی شخصیت ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں کوئی زیادہ کرشماتی بھی نہیں ہے،اِسی لیے اگر ان کی صدر کے عُہدے کے لیے نام زد ہونے کے بعد کی گئی تقریر دیکھیں، تو وہ بس روایتی سی تھی۔

اُنہوں نے اپنے ہم وطنوں سے کہا کہ’’ اگر اُنہیں صدر منتخب کر لیا گیا، تو وہ موجودہ تاریکی کا دَور ختم کردیں گے اور قوم کو دوبارہ متحد کریں گے۔‘‘اِس وقت امریکا کورونا وائرس کے بحران سے گزر رہا ہے، جوبائیڈن نے اس حوالے سے الزام لگایا کہ ٹرمپ اس بحران سے نمٹنے میں ناکام رہے اور وہی اقتدار میں آکر اسے ختم کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ اُنہوں نے سیاہ فاموں پر پُرتشدّد واقعات کا بھی ذکر کیا اور اُنہیں ٹرمپ انتظامیہ کی ناکامی قرار دیا۔

جوبائیڈن کے جس قدم نے سب سے زیادہ توجّہ حاصل کی ہے، وہ بھارتی نژاد کملا ہیرس کو نائب صدر کے امیدوار کے طور پر چُننا ہے۔کملا ہیرس کا تعلق کیلی فورنیا سے ہے۔2014 ء میں یہاں کی اٹارنی جنرل منتخب ہوئیں۔کہا جاتا ہے کہ اس انتخاب کا مقصد رنگ ونسل سے متعلق امریکیوں کے جذبات کا خیال رکھنا ہے۔رواں برس سیاہ فاموں کی ہلاکت کے واقعات کے بعد امریکا میں سیاہ فاموں کا مسئلہ خاصی شدّت اختیار کرچکا ہے اور اس کے الیکشن پر بھی گہرے اثرات مرتّب ہوں گے۔ کملا ہیرس امریکا میں پیدا ہوئیں، جب کہ ان کی والدہ شیامالا گوپلان بھارت سے امریکا منتقل ہوئی تھیں اور والد کا تعلق جمیکا سے ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ کملا کا انتخاب اِس لیے کیا گیا تاکہ آبادی کے دیگر طبقات کے لیے کشش پیدا کی جائے، جو ٹرمپ کی اُن پالیسیز کی وجہ سے ناراض ہے، جو وہ وقتاً فوقتاً تارکینِ وطن کی امریکا آمد اور اُن کی ملازمتوں سے متعلق دیتے رہے ہیں۔ یاد رہے، میڈیا نے بھی ٹرمپ کا امیج کچھ زیادہ ہی’’ اینٹی امیگرینٹ‘‘ بنا دیا ہے۔اِس سلسلے میں دئیے جانے والے بیانات اور مظاہرے ہمیشہ شہ سُرخیوں میں رہتے ہیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ امریکا میں مقیم بھارتی شہریوں کی، جن کی تعداد تو زیادہ نہیں، لیکن اُن کا سیاسی لابیز اور تجاتی حلقوں میں اثر روز بہ روز گہرا ہوتا جارہا ہے، حمایت حاصل کرنے کے لیے یہ چال چلی گئی ہے۔شاید ڈیمو کریٹس مودی اور ٹرمپ کی ذاتی دوستی سے بھی خوف زدہ ہیں، جس کا مظاہرہ گزشتہ سال مودی شو میں ہوا، اِس لیے بھی وہ بھارتی نژاد امریکیوں کو اپنے ساتھ ملانا چاہتے ہیں۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ امریکی نائب صدر کا کردار بہت ہی محدود ہوتا ہے، وہ صرف اُن اہداف پر توجّہ مرکوز رکھتا ہے، جو صدر کی جانب سے سونپے جاتے ہیں۔یوں کملا ہیرس کا براہِ راست تو کوئی کردار نظر نہیں آتا،البتہ اگر وہ منتخب ہوگئیں، تو اُن کی وائٹ ہاؤس تک رسائی ضرور ہوجائے گی۔ ڈیمو کریٹس ویسے بھی بھارت کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔صدر اوباما اپنے دورِ حکومت میں دو مرتبہ بھارت گئے اور ایک مرتبہ تو پورا ایک ہفتہ قیام کیا۔دوسری طرف ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، جو دوسری ٹرم کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ٹرمپ کے اندازِ سیاست میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔اب بھی اُن کا انداز ویسا ہی جارحانہ ہے، جیسا پچھلی انتخابی مہم میں تھا۔ اگر اُنہیں محسوس ہوکہ مدّمقابل کو دبانے کے لیے اخلاقی حدود توڑنا ضروری ہیں، تو وہ اس میں ذرا بھی تاخیر نہیں کرتے۔امریکی اور مغربی میڈیا اب بھی اُن کا شدید مخالف ہے اور روز اُن کے خلاف نت نئی کہانیاں سامنے لائی جا رہی ہیں، لیکن ٹرمپ بھی قسمت کے دَھنی ہیں کہ وہ مواخذے کی تحریک سے بھی باآسانی نکل گئے۔

2016 ء میں جب ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی انتخاب لڑ رہے تھے، تب اُنہوں نے سب سے زیادہ توجّہ امریکی معیشت پر مرکوز کی تھی۔ وہ ووٹرز کو بار بار یاد دِلاتے رہے کہ اوباما دَور نے اُن کی زندگی دوبھر کر دی ہے۔امریکی مِڈل کلاس نے، جو عالمی اقتصادی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی تھی، اُنھیں بھرپور حمایت فراہم کی اوریوں وہ دنیا بھر کے میڈیا اور سیاسی ماہرین کی پیش گوئیوں کے برعکس بھاری اکثریت سے جیت کر وائٹ ہاؤس پہنچ گئے۔ بلاشبہ، صدر ٹرمپ نے امریکی معیشت کو بہت ترقّی دی اور گزشتہ سال کے شروع تک وہ دنیا کی سب سے تیز رفتار ترقّی کرنے والی معیشت بن چُکی تھی۔ٹرمپ کی پالیسیز کے سبب بے روز گاری تقریباً صفر ہوگئی۔گو کہ کورونا وائرس نے امریکا میں بہت تباہی مچائی، لیکن ٹرمپ نے امریکی تاریخ کے سب سے بڑے ریلیف پیکجز دیے، جو تین ٹرلین ڈالرز سے زاید تھے۔

تاہم، اس سب کچھ کے باوجود اُنھیں شدید تنقید کا سامنا ہے کہ وہ وبا پوری طرح کنٹرول نہ کرپائے۔ معاشی میدان میں وہ چین کے بہت بڑے ناقد ہیں۔اُن کے چار سالہ دَور میں امریکا اور چین ٹریڈ وار کی سی کیفیت میں رہے، لیکن اُنہوں نے اسے ایک ماہر تاجر کی طرح کبھی بھی بے قابو نہیں ہونے دیا، اِسی لیے آج بھی دونوں بڑی طاقتیں تمام تر اختلافات کے باوجود مذاکرات کی میز پر موجود ہیں۔ دِل چسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنے انتخابی منشور میں خارجہ پالیسی کو زیادہ اہمیت نہیں دی تھی، لیکن صدر کا عُہدہ سنبھالنے کے بعد وہ خارجہ امور میں غیر معمولی طور پر فعال نظر آئے۔اپنے انتخابی وعدے کے مطابق امریکا کو ایران کے ساتھ نیوکلیر ڈیل سے نکال لیا۔اس سلسلے میں اُنہوں نے امریکا کے روایتی یورپی حلیفوں کی بھی پروا نہیں کی۔اسی کے ساتھ عرب ممالک سے دوبارہ قریبی تعلقات قائم کیے، سعودی عرب خاص طور پر اُن کی عرب پالیسی کا محور رہا۔ایران پر مسلسل دبائو بڑھاتے رہے۔ 

اقتصادی پابندیاں سخت سے سخت تر ہوتی گئیں۔ اِس سال کے شروع میں ایران کے دوسرے سب سے طاقت وَر شخص اور مِڈل ایسٹ پالیسی کے معمار، جنرل قاسم سلیمانی کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا، جو یقیناً ایران کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ٹرمپ ہی کے دور میں داعش کا عراق اور شام سے صفایا ہوا، تاہم وہ صدر اسد، ایران اور روس کی کام یابیوں کو شام میں روک نہ سکے یا پھر اُن کی پالیسی میں یہ سب کچھ شامل تھا۔ قاسم سلیمانی کے بعد صدر اسد،حزب اللہ اور ایران خود کو بہت کم زور محسوس کرتے ہیں، جو ٹرمپ کی امریکی نقطۂ نظر سے ایک بڑی کام یابی ہے۔صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال بیت المقدِس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا، تو دنیا کے بیش تر ممالک نے اس اقدام کی مخالفت کی، لیکن گزشتہ ماہ کے شروع میں متحدہ عرب امارات نے نہ صرف اسرائیل کو تسلیم کرلیا، بلکہ تیزی سے تعلقات بھی بحال کرنے شروع کردیے۔

یہ کس کی جیت اور کس کی ہار ہے؟اِس کا جواب تو تاریخ ہی دے گی، لیکن فی الحال تو یہ اقدام الیکشن سے پہلے صدر ٹرمپ کی کام یاب خارجہ پیش رفت کی مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ افغانستان سے فوجوں کی واپسی کا ایجنڈا ڈیمو کریٹس کا تھا، لیکن اوباما اس میں بُری طرح ناکام رہے، بلکہ اُن کے آخری دو سالوں میں نہ صرف طالبان کی پُرتشدّد کارروائیوں میں اضافہ ہوا، بلکہ امریکی فوجوں کی تعداد بھی بڑھانی پڑی۔ صدر ٹرمپ نے بھی اسی واپسی کی پالیسی کو اپنا مطمعِ نظر بنایا۔ابتدائی دنوں میں تو اُنہوں نے طالبان پر زبردست فوجی دبائو بڑھایا اور اس کے ساتھ ہی پاکستان پر بھی شدید تنقید کا آغاز کردیا۔ ایک وقت میں تو ایسا لگا کہ دونوں ممالک کے تعلقات بس لپٹنے والے ہیں، لیکن پھر صُورتِ حال تبدیل ہوئی۔طالبان اور امریکا میں قطر معاہدہ ہوچُکا ہے، جس کے تحت امریکی فوجوں کی واپسی ہوگی۔

اس عمل میں پاکستان، امریکا کا سب سے اہم معاون بنا اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔اب انٹرا افغان ڈائیلاگ شروع ہونے کو ہیں، بلکہ پسِ پردہ شروع ہوچُکے ہیں، تاہم کورونا کی وجہ سے رفتار کچھ دھیمی رہی۔اِسی طرح دیکھا جائے، تو ٹرمپ کا ایک انتخابی وعدہ یہ بھی تھا کہ وہ تارکینِ وطن کی تعداد میں کمی کریں گے۔اُنھوں نے اقتدار سنبھالتے ہی اِس حوالے سے سخت احکامات جاری کیے، جو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنے۔ اُنہوں نے پانچ مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا آنے پر پابندی عاید کی (پاکستان اُن میں شامل نہیں تھا)، تو اس فیصلے پر بھی بہت لے دے ہوئی، لیکن وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ کوئی ایسی بات بھی دیکھنے میں نہیں آئی، جس سے یہ تاثر ملتا ہو کہ ٹرمپ حکومت تارکینِ وطن پر زیادہ سختی کرنا چاہتی ہے۔