آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اسپیکر نے شاہ محمود قریشی کی مخالفت پر بلاول کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی


پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں اسپیکر نے شاہ محمود قریشی کی مخالفت پر بلاول بھٹوزرداری کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر بلاول نے ترمیم جمع نہیں کرائی ہے تو بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاسکتا۔

اسپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا، جس میں اپوزیشن  عددی اکثریت کے باوجود حکومتی بلوں کی منظوری نہ روک سکی۔ جبکہ دونوں ایوانوں میں مجموعی طور پر اپوزیشن کے پاس حکومتی بینچز سے 10 زیادہ ووٹ موجود ہیں۔ 

پارلیمینٹ کے اجلاس کے دوران حکومتی و اپوزیشن اراکین میں جھگڑا بھی ہوا، جبکہ پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی نے اسپیکر کی ڈائس کا گھیراؤ بھی کیا، پورے اجلاس کے دوران ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا۔                                                                                                                       


   جس طرح ایوان چلارہے ہیں، اس سے ایوان کی عزت ہی ہورہی ہے، شاہد خاقان                                                                                

مسلم لیگ ن کے رہنما و سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اسپیکر اسد قیصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جس طرح ایوان چلا رہے ہیں، اس سے ایوان کی عزت ہی ہورہی ہے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ایوان میں کوئی آواز نہیں آرہی، پتہ ہی نہیں چل رہا آپ کون سی ترمیم پر بات کر رہے ہیں، ترامیم سے پہلے عام بحث کرنا ضروری ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے شاہد خاقان عباسی سے پوچھا کہ آپ ترمیم پیش کرنا چاہتے ہیں یا نہیں؟۔

اسپیکر نے شاہد خاقان عباسی کی پیش کردہ ترمیم پر رائے شماری کرائی، لیکن ترمیم مستردکردی گئی، جس کے بعد اسپیکر نے شاہد خاقان عباسی کو دوسری ترمیم پیش کرنے کی دعوت دی، مگر شاہد خاقان عباسی نے ترمیم پیش نہیں کی۔

اپوزیشن نے پارلیمنٹ کےمشترکا اجلاس سے واک آؤٹ کردیا، جس کے بعد شور شرابا تھم گیا، مگر پارلیمنٹ کی کارروائی جاری رہی، جبکہ اینٹی منی لانڈرنگ بل میں ترامیم کی شِق وار منظوری دے دی گئی۔

قومی خبریں سے مزید