آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

رئیس صاحب سے میری پہلی ملاقات اٹھارہ سال پہلے ٹرین میں ہوئی تھی۔ میں نے کراچی کی سیٹ بک کروائی ہوئی تھی، وقت مقررہ پر اپنی بوگی میں پہنچا تو وہاں ایک موٹے سے صاحب میری سیٹ پر براجمان تھے۔ میں نے انہیں اپنی بکنگ دکھائی اور گزارش کی کہ سیٹ چھوڑ دیں۔ انہوں نے غصیلی نظروں سے میری طرف دیکھا اور کڑک کر بولے ’’بکنگ کروائی ہے تو کیا ہوا، اِس وقت تو سیٹ پر میں بیٹھا ہوں‘‘۔ میں نے بےچارگی سے ادھر اُدھر دیکھا اور ان سے پھر منت سماجت کی کہ میں نے بکنگ کروائی ہی اس لئے تھی تاکہ سکون سے سفر کر سکوں لہٰذا آپ کی مہربانی آپ یہ سیٹ خالی کردیں‘‘۔ انہوں نے گھور کر میری طرف دیکھا اور بولے ’’کیا مجھے سکون سے سفر کرنے کا کوئی حق نہیں؟‘‘۔

’’بالکل ہے، لیکن آپ کو چاہئے تھا کہ آپ بھی پہلے سے بکنگ کروا لیتے‘‘۔ میں نے جلدی سے کہا۔ ہماری گفتگو سن کر ارد گرد کے مسافر بھی متوجہ ہو گئے۔ سب نے میری حمایت کی اور رئیس صاحب کو مجبوراً سیٹ چھوڑنا پڑی۔ تاہم جب وہ سیٹ سے اٹھے تو انہوں نے میرے قریب ہوتے ہوئے ایک جملہ کہا ’’میرے پاس تھوڑے پیسے زیادہ ہوتے تو میں بھی بکنگ کروا لیتا‘‘۔ یہ سنتے ہی یکدم مجھے ان سے ہمدردی سی پیدا ہو گئی۔ چونکہ میری سیٹ کے ساتھ برتھ بھی بک تھی لہٰذا میں نے انہیں آفر کی کہ ہم دونوں باری باری برتھ اور سیٹ استعمال کر لیتے ہیں۔ یہ تجویز انہیں پسند آئی اور یوں ان سے دوستی ہو گئی اور ہم فیملی فرینڈ بن گئے۔ رئیس صاحب ایک سستی سگریٹ بنانے والی کمپنی میں پیکنگ ڈپارٹمنٹ میں کام کرتے ہیں۔ تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، بیٹا ایک ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں ٹانگوں سے محروم ہو چکا ہے لہٰذا اب سارے گھر کا بوجھ رئیس صاحب ہی اٹھاتے ہیں۔ میں نے ایک دفعہ ان سے کہا کہ ماشاء اللہ آپ کی تینوں بیٹیاں پڑھی لکھی ہیں، آپ انہیں جاب کرنے کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟ رئیس صاحب شدید برہم ہو گئے ’’کیا میں بیٹیوں کی کمائی کھاتا اچھا لگوں گا؟‘‘۔ مجھے ہنسی آگئی ’’حضور! آپ بیٹیوں کی نہیں، اپنی اولاد کی کمائی کھائیں گے جس کا آپ کو پورا پورا حق ہے‘‘۔ اس روز ہماری لمبی چوڑی بحث ہوئی۔ رئیس صاحب نے طوفانی انداز میں دلائل دیے کہ لڑکیوں کی نوکری کتنی بری ہوتی ہے، لڑکیوں کو گھر رہنا چاہئے، لڑکیاں باہر جائیں تو خراب ہو جاتی ہیں، جو لوگ اپنی لڑکیوں سے نوکری کرواتے ہیں وہ اچھا نہیں کرتے…وغیرہ وغیرہ!

انہی دنوں رئیس صاحب نے راولپنڈی کی کوئی اور کمپنی جوائن کرلی اور بیوی بچوں سمیت راولپنڈی شفٹ ہو گئے۔ چھ سات سال ہماری کوئی ملاقات نہیں ہو سکی۔ دو دن پہلے مجھے ایک ضروری کام سے اسلام آباد آنا پڑا، کیش کی ضرورت پڑی تو میں نے ایک بینک کے اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے کی کوشش کی، پتا چلا کہ میرا کارڈ اندر ہی پھنس گیا ہے۔ مجبوراً بینک کے اندر چلا گیا۔ سامنے کائونٹر پر نظر پڑتے ہی میری حیرت کی انتہا نہ رہی جہاں رئیس صاحب کی بڑی بیٹی براجمان تھی۔ اس نے بھی مجھے پہچان لیا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ رئیس صاحب تو لڑکیوں کی نوکری کے سخت مخالف تھے پھر آج ان کی بیٹی کیسے بینک میں نوکری کر رہی ہے۔ میرے پوچھنے پر ان کی صاحبزادی نے ہنستے ہوئے مجھے اپنے گھر کا ایڈریس دیا اور کہنے لگی ’’آپ ابو سے خود ہی یہ بات پوچھ لیں‘‘۔ میں نے اپنا اے ٹی ایم کارڈ وصول کیا اور پہلی فرصت میں رئیس صاحب کے گھر جا پہنچا۔ مجھے دیکھتے ہی رئیس صاحب کھل اٹھے، زور سے جپھی ڈالی اور ڈرائنگ روم میں لے آئے۔ میں نے جائزہ لیا، گھر کافی اچھا تھا۔ ’’کیا کرایہ ہوگا اس گھر کا؟‘‘ میں نے پوچھا۔ رئیس صاحب اطمینان سے بولے ’’یہی کوئی ساٹھ ستر ہزار ماہانہ‘‘۔ میری آنکھیں پھیل گئیں ’’ساٹھ ستر ہزار…تو کیا آپ یہ کرایہ افورڈ کر لیتے ہیں؟‘‘ وہ چہکے ’’میں کیوں کرایہ دوں بھائی !کرایہ تو وہ دے گا جو اس گھر کو کرایہ پر لے گا‘‘۔ پتا چلا کہ رئیس صاحب کی تینوں بیٹیاں نوکری کر رہی ہیں اور اچھی خاصی تنخواہ بن جاتی ہے۔ اسی معقول آمدنی کی بدولت انہوں نے پیسے جوڑ کر یہ گھر بھی خرید لیا ہے اور اب انتہائی خوشی سے زندگی بسر ہورہی ہے۔ میرے ذہن میں برسوں پہلے کی ایک پھانس اٹکی ہوئی تھی، بالآخر میں نے اسے اگل ہی دیا…’’رئیس صاحب! آپ تو لڑکیوں کی نوکری کے سخت خلاف تھے، پھر یہ سب…‘‘۔ ڈرائنگ روم میں رئیس صاحب کا ایک قہقہہ گونجا…’’ہاں! میں ایسا ہی تھا، مجھے لگتا تھا کہ بیٹیاں نوکری کریں تو باپ کی عزت خاک میں مل جاتی ہے، مجھے لگتا تھا کہ بیٹیاں نوکری کریں گی تو ان کی شادیاں نہیں ہوں گی، لیکن میں غلط تھا۔ جن بیٹیوں کو میں زمانے سے بچانے کے جتن کرتا رہا انہی بیٹیوں نے مجھے زمانے کے تھپیڑوں سے بچا لیا ہے۔ ماشاء اللہ تینوں بیٹیاں نوکری کر رہی ہیں، کچھ عرصے تک بڑی بیٹی کی شادی ہورہی ہے، میری بیٹیوں نے اپنی تعلیم کی بدولت اپنا آپ ثابت کیا ہے، انہیں اچھے برے کی تمیز ہے، یہ بہت اچھی طرح جانتی ہیں کہ زمانے میں کس طرح خود کو بچانا اور آگے بڑھنا ہے،اب ان کی شادیاں ہوں گی تو یہ زیادہ بہتر طریقے سے اپنے گھر کو سنبھال سکیں گی‘‘۔

ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو لڑکیوں کی نوکری کے خلاف ہیں، اچھل اچھل کر دلیلیں دیتے ہیں لیکن پھر وقت کے چکر میں ایسے پھنستے ہیں کہ جب خود ان کی بیٹیاں نوکری کرتی ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ کبھی یہ کس قسم کے دلائل دیا کرتے تھے۔ اصل میں ہمارے ہاں ’عورت کی کمائی‘ کو ایک مخصوص پیشے سے تعبیر کرکے دیکھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے یہ لفظ ’کمائی‘ ہمیں ہضم نہیں ہوتا۔ یہ جو بیٹیاں نوکری کرتی ہیں یہ اپنے ماں باپ کی زندگیوں کو آسان بنانے کیلئے، اپنے گھر کو خوشحال رکھنے کے لئے، اپنی صلاحیتیوں کو استعمال کرنے کیلئے کرتی ہیں۔ قابلِ تحسین ہیں وہ خواتین جو محنت اور لگن کے ساتھ نوکری کرتی ہیں اور اپنے گھر کی خوشیوں میں حصہ دار بنتی ہیں۔