آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گزشتہ اتوار ایک سیاسی جماعت کے سپریم لیڈر نے اے پی سی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ نے ایک ڈکٹیٹر کو تین سال کی مدت حکومت کرنے کی عطا کی جس کا کوئی جواز نہ تھا۔ یہ اشارہ میری (یعنی ارشاد حسن خان) کی طرف تھا۔ چند لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ظفر علی شاہ کیس میں مشرف کو ارشاد حسن خان نے وہ دے دیا جو مانگا نہ گیا تھا۔ تنقید کرنے والے یہ بھول گئے کہ ظفر علی شاہ کا فیصلہ اکیلے میں نے نہیں کیا تھا۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے 12جج صاحبان کا متفقہ فیصلہ تھا۔ البتہ بطور چیف جسٹس میں برابر میں ’’اول‘‘ تھا۔

یہ بھی کہتا چلوں کہ یہ فیصلہ ظفر علی شاہ اور مسلم لیگ کے نامور وکیل کے دلائل کی روشنی میں دیا گیا۔ جناب خالد انور نے اس فیصلے سے اتفاق کیا۔ جب اُن سے نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کو کہا گیا تو اُنہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ جب میر ی بات سے سپریم کورٹ نے اتفاق کر لیا تو نظر ثانی کیسی؟ اور پھر نظر ثانی کیلئے معروف قانون دان جناب وسیم سجاد پیش ہوئے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ خالد انور نے اپنی ویب سائٹ میں بھی ظفر علی شاہ کیس کے متعلق تحریر کیا۔

''He was also engaged to challenge the military takeover by the then Chief of Army Staff General Pervaiz Musharraf. He persuaded the Supreme Court to lay down a road map for the restoration of democracy and a three year time limit for holding fresh election''

میرے خلاف یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ کسی نے نہیں مانگا جبکہ ارشاد حسن خان نے مشرف کو تین سال دے دیے۔ ظفر علی شاہ کیس کے دوران میں نے ہر وکیل سے پوچھا کہ یہ معاملہ بڑی حساس نوعیت کا ہے، بہت اہم ہے، اس کے دوررس نتائج ہیں، آپ میری مدد کریں۔ تین مہینے کی سماعت کے اختتام پر ہم نے کہا ٹیک اوور تو ہو گیا اب اس کو کیا کریں کہ جو درست اور آئین کے مطابق ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی امنگوں پر بھی پورا ُترتا ہو، آئیں رائے دیں تاکہ اس کی روشنی میں کوئی فیصلہ کر سکوں۔ ہم نے خالد انورسے پوچھا آپ بتائیں۔ انہوں نے جو کہا فیصلے میں تحریر ہے۔

"Sir, I will not ask Court to do the impossible "

Refer: PLD 2000 SC 869 page 1031, para (73 (i))

ناممکن کیا ہے کہ نواز شریف کو بحال کر دو۔ پھر کیا طریقہ اختیار کریں، خالد انور نے کہا کہ طریقہ یہ ہے بطور پٹیشنرز تو ہم یہی کہیں گے ہماری پٹیشن کو قبول کریں مگر یہ ناممکن ہے، آپ یہ کریں جو ہو چکا اسے کنڈیم کریں اس کو ریورس تو نہیں کر سکتے اگر کنڈیم نہیں کریں گے تو ملک میں انارکی پھیلے گی۔ ملک میں افراتفری ہو گی جو ہم نہیں چاہتے لیکن ساتھ ہی ایک معقول ٹائم فریم دے دیں کہ یہ کب واپس جائیں گے۔ میں نے سپریم کورٹ بارکے صدر سے پوچھا، وہ بھی پیش ہوئے تھے۔

ان کا کہنا تھا ان کو جانے میں 12مہینے دے دیں۔ میں نے اٹارنی جنرل عزیز اے منشی صاحب سے پوچھا، انہوں نے کہا ہم کوئی ٹائم نہیں دے سکتے کیونکہ یہ بڑا پیچیدہ مسئلہ ہے۔ ہم نے الیکشن کرانے ہیں، انتخابی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرانا ہے۔

جناب ایس ایم ظفر نامور قانون دان کو بطور ایک ’معاون دوست‘ (amicus curiae)طلب کیا تھا۔ نصرت بھٹو بنام جنرل ضیاء الحق کے فیصلے میں خامی کا ذکر کرتے ہوئے اُنہوں نے یہ درخواست کی تھی کہ ’’اگر عدلیہ جنرل مشرف کو عارضی طور پر اقتدار کے جواز کا حق دار سمجھتی ہے تو اسے اس بات پر مشروط کیا جائے کہ وہ جلد سے جلد افواج پاکستان کو ان کی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے لئے اقتدار سے واپس کرتے ہوئے ایک طے شدہ مدت میں ملک میں انتخابات کرا کر اقتدار عوام کے نمائندوں کے حوالے کرنے کا پابند ہوگا اور عدلیہ وہ غلطی نہ کرے جو اُس سے نصرت بھٹو کیس میں ہوئی جب فوج کی واپسی کا مکمل نظام نہیں دیا گیا تھا‘‘

Refer: PLD 2000 SC 869: Para 166. Finally, (S M Zafar) summed up his arguments as follows:

(i) If it (takeover) is to be extended, it should be on positive…programme, (and) formula for the earliest possible (return).

(ii) Whatever be the social causes for the military to come, the Armed Forces should go back to their professionalism and defend the borders of the country. The loopholes in Begum Nusrat Bhutto's case as have been pointed out in Mahmood Khan Achakzai's case should be plugged.

عدالت کے دوست اور معاون وکیل محترم جناب ایس ایم ظفر، دونوں نے اپنی بحث میں واضح کر دیا تھا کہ وہ کسی ایسے فیصلے کے متمنی نہیں جس سے ملک انتشار کا شکار ہو جائے جہاں تک جنرل مشرف کو تین سال دینے کے الزام کا تعلق ہے، وہ ظفر علی شاہ کیس میں آئین و قانون کے نامور قانون دانوں خالد انور اور ڈاکٹر ایس ایم ظفر ’’معاون دوست‘‘ (amicus curiae) اور دیگر صاحبان کے دلائل اور سرتاج عزیزکی پٹیشن کی روشنی میں دیے گئے۔

فیصلے میں فوج کو دو ٹوک بتا دیا گیا کہ اس کی مدت متعین ہے۔ فوج کے پاس اس کے سوا کو ئی چارہ نہیں ہوگا کہ انتخابات کے بعد بیرکوں میں واپس چلی جائے اور یہ انتخابات 12اکتوبر 2002سے پہلے ہونے چاہئیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ محض ظفر علی شاہ کیس کی وجہ سے جنرل مشرف نے سپریم کورٹ کی طے شدہ مدت میں انتخابات کرائے اور جمہوری ادارے بحال ہوئے۔

ظفر علی شاہ کیس کی بدولت جمہوریت کو بحال ہوئے بےشمار سال ہو گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پانچ پانچ سال حکومت کر چُکی ہے اور اب پاکستان تحریکِ انصاف حکومت کر رہی ہے۔ ظفرعلی شاہ کیس میں الیکشن کرانے کی حتمی تاریخ دینے کے بعد میں نے فیصلے کو فالو کیا جس کی میڈیا میں بہت تحسین کی گئی اور معروف اخبارات نے ایڈیٹوریل لکھے۔