آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پنجاب، لفٹ لینے والی لڑکی سے 6 افراد کی زیادتی


پنجاب کے سب سے بڑے شہر لاہور کے قریب جڑانوالہ روڈ پر لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے۔

جڑانوالہ روڈ پر تھانہ مانگٹانوالہ کے قریب 6 افراد نے لڑکی کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا یا ہے، پولیس نے 5 دن بعد واقعے کا مقدمہ درج کر لیا، تاہم کوئی ملزم گرفتار نہیں ہو سکا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب انعام غنی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کر لی۔

لاہور میں موٹر وے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کے واقعے کے 22 دن بعد ایک اور اجتماعی زیادتی کا اندوہناک واقعہ سامنے آ گیا۔

لاہور جڑانوالہ روڈ پر بھی 6 افراد نے لڑکی سے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کی۔

ایک جانب موٹر وے اجتماعی زیادتی کیس کا مرکزی ملزم عابد ملہی 22 دن گزرنے کے باوجود پولیس کے لیے چھلاوا بنا ہوا ہے، دوسری جانب جڑانوالہ روڈ اجتماعی زیادتی کے ملزم بھی گرفتار نہیں کیئے جا سکے۔

پولیس کے مطابق جڑانوالہ روڈ پر مبینہ اجتماعی زیادتی کا واقعہ 24 ستمبر کی رات کو پیش آیا۔

شیخو پورہ کی رہائشی خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی ہمشیرہ کے ہمراہ لاہور سے جڑانوالہ جا رہی تھی کہ رات ساڑھے 8 بجے کے قریب تھانہ مانگٹانوالہ کی حدود میں ان کی بس خراب ہو گئی۔


خاتون نے بتایا کہ اسی دوران سفید رنگ کی ایک کار میں سوار اکمل اور عمران نامی افراد نے انہیں موڑ کھنڈا تک لفٹ دینے کی پیش کش کی تو اس کی بہن اس کار میں سوار ہو گئی۔

ملزم اس کی ہمشیرہ کو ایک ڈیرے پر لے گئے، جہاں 4 نامعلوم افراد بھی موجود تھے، ملزمان نے اس کی ہمشیرہ کو نشہ آور مشروب پلا کر مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسے فصل میں پھینک کر فرار ہو گئے۔

پولیس کی جانب سے اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے تاہم اب تک کوئی ملزم گرفتار نہیں ہو سکا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے آر پی او شیخو پورہ سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ملزمان کو جلد گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

قومی خبریں سے مزید