آپ آف لائن ہیں
بدھ9؍ربیع الثانی 1442ھ25؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سبز تعمیرات (Green Construction)کے نظریے میں ماحول موافق تعمیر، معقول شہری منصوبہ بندی کے ایک عنصر کے طور پر شامل ہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک پائیدار (Sustainable)اور توانائی کے کم خرچ سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے والی تعمیر ہے، جو ساز و سامان کے کم سے کم ضیاع اوراستعمال کوبھی یقینی بناتی ہے۔ ان عملی اقدامات سے پرے سبز تعمیرات کا نظریہ ایک فلسفے کی نمائندگی کرتا ہے، جہاں فنِ تعمیر اور فطرت ایک دوسرے سے مربوط معلوم ہوتے ہیں اور ان میں ایک طرح کی ہم آہنگی نظر آتی ہے۔

امریکی گرین بلڈنگ کونسل (USGBC)کے مطابق، ’سبز‘ یا ’پائیدار‘ عمارت کے طریقوں میں ماحولیاتی، اقتصادی،طبی اور سماجی فوائد ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں عمارتیں (رہائشی اور تجارتی) بجلی اور توانائی کی کھپت اور ماحولیات پر کس طرح اثرانداز ہوتی ہیں۔ 

ایک اندازے کے مطابق امریکا میں پیداکی جانے والی تقریباً 42فیصد بجلی عمارتوں میں استعمال ہوتی ہے، مجموعی توانائی کی کھپت میں عمارتوں کا حصہ تقریباً39فیصد ہے جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں حصہ 38 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ استعمال شدہ 40فیصد خام مال، 30فیصد فضلہ کی پیداوار اور 14فیصد پینےکے پانی کی کھپت امریکا کی رہائشی اور تجارتی عمارتوں کے مرہونِ منت ہے۔ اس تمام صورتحال کے پیش نظر، انسان کی سہولت اور زندگی کے معیار کو بہتر سے بہتر کرنے کے لیے سبز عمارتوں یا پائیدار فنِ تعمیر کا مقصد کھپت اور فضلہ کم کرنا ہے۔

ماحولیاتی فوائد

سبز فنِ تعمیر کے ماحولیاتی فوائد اہم ہیں۔ سبز عمارتیں ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے، ان کے تحفظ، ہوا اور پانی کی کیفیت کو بہتر بنانے، ٹھوس فضلہ کو کم کرنے اور قدرتی وسائل کو تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یو ایس جی بی سی کے مطابق، روایتی طور پر تعمیر شدہ تجارتی عمارت کے مقابلے میں سبز عمارتیں 26 فی صد کم توانائی استعمال کرتی ہیں، اس کی قیمت تقریباً13 فی صد کم ہوتی ہے، 27 فیصد زیادہ پیشہ ورانہ طور پر اطمینان بخش ہوتی ہیں اور 33 فی صد کم گرین ہاؤس گیسز کا اخراج کرتی ہیں۔ امریکا کی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کا کہنا ہے کہ تعمیراتی ماحول، قدرتی ماحول پر دیرپا اثرات مرتب کرتا ہے اور یہ کہ سبز فن تعمیر اور سبز عمارت قدرتی وسائل کی کھپت کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ 

اس بات کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ امریکا میں مجموعی طورپر پانی کی کھپت26ارب گیلن یومیہ ہے، جس میں سے تقریباً 7 ارب گیلن یا 30 فیصد بیرونی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جیسا کہ زمین کی تزئین۔ ماحول دوست عمارتیں اکثربیرونی مقاصد کے لیے برساتی پانی کےاستعمال کو بہتر بناکر پانی کی بچت کی حکمت عملی کو شامل کرتی ہیں، تاکہ زیرِ زمین پانی حاصل کرنے لیے کنویںکی کھدائی نہ کرنی پڑے۔

اقتصادی فوائد

پائیدار عمارت سے بہت سارے فوائد اُٹھائے جاتے ہیں، بشمول آپریٹنگ اخراجات میں کمی، اعلیٰ پیشہ ورانہ اطمینان اور پیداوار میں اضافہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ ایک سروے کے مطابق، ایک روایتی عمارت کے مقابلے میں سبز عمارت جلد فروخت ہوجاتی ہے۔ پائیدار عمارتوں کے کم آپریٹنگ اخراجات کی وجہ سے روایتی عمارتوں کے مقابلے میں انھیں بحال اور قابلِ استعمال حالت میں برقرار رکھنا نسبتاً آسان ہوتاہے۔ 

سبز عمارتوں میں عام طور پر درجہ حرارت کو بہتر طور پر کنٹرول رکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور ان میں وینٹی لیشن کو بہتر بنایا جاتاہے۔ عام الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ سبز یا پائیدار عمارتیں ایسی صحت مند ہوتی ہیں جو مصنوعی توانائی کے استعمال سے پیدا ہونے والی روشنی کے مقابلے میں قدرتی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرتی ہیں، جس کے باعث ان عمارتوں کو تعمیر کرنے والے اور انھیں رہائشی یا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے لوگ خود کو سماجی طور پر زیادہ ذمہ دار اور بہتر محسوس کرتے ہیں۔

صحت اور کمیونٹی کے فوائد

یو ایس جی بی سی کے مطابق، ماحول دوست عمارات کا صحت اور معاشرتی فوائد میں کردار ثابت شدہ ہے۔ یہ کم توانائی خرچ کرنے سے لے کر کم فاضل مادے پیدا کرنے اور انسان کی جیب سے لے کر صحت تک ہر شعبے میں انسان دوست اور معاون ثابت ہوتی ہیں۔ سبز تعمیرات سے عمارتوں اور ارد گرد کا درجہ حرارت قابلِ برداشت حد میں رہتا ہے، ہوا کا معیار اچھا ہوتا ہے اور ان کا ڈھانچہ ماحولیات اور زمین پر کم بوجھ بنتا ہے۔ لارنس برکلی نیشنل لیبارٹری کے محقق، ولیم جی فاسس کا کہنا ہے کہ سبز عمارتیں صحت مند عمارتیں ہوتی ہیں اور یہ الرجی اور دمہ کی بیماری میں مبتلا مریضوں کے لیے فطری علاج کا کام کرتی ہیں۔

مقامی منظرنامہ

ہرچندکہ پاکستان میں ابھی تک روایتی طریقے سے تعمیرات کا رجحان زوروں پر ہے اور سبز تعمیرات پر کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں شامل ہونے کے باعث پاکستان میں عمارتوں کی تعمیر میں سبز طریقوں کو اپنانا ہوگا اور پائیدار مستقبل کے لیے وفاق اور صوبوں میں کام کرنے والی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسیوں، شہری تعمیر و ترقی کے اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو مل کر جتنا جلدی ہوسکے، کوئی لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا، کیونکہ مستقبل سبز تعمیرات کا ہے۔