آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

باقی باتیں بعد میں، میرے گزشتہ کالم میں سہواًڈاکٹر جمیل جالبی کو ’’کالم نگار‘‘لکھا گیا تھا، وہ کبھی کالم نگار نہیں رہے۔ اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔

میں جوانی میں، یعنی یہی کوئی دوچار سال پہلے کی بات ہے، زبردست محبِ وطن ہوا کرتا تھا۔ پاکستان کے حوالے سے ذرا سی بھی کوئی بات ناگوار گزرتی تو جھگڑ پڑتا اور برسوں کے تعلقات کو خیرباد کہہ ڈالتا تھا۔ ایک بار حلقہ اربابِ ذوق کی سیاسی شاخ نے یومِ پاکستان منانے کا اعلان کیا، تو مجھے بہت خوشی ہوئی کہ مجھے اُن سے یہ امید نہ تھی۔ میں وہاں اجلاس میں شرکت کے لئے پہنچا تو میں نے محسوس کیا کہ تمام مقرر پاکستان کے حوالے سے جو باتیں کر رہے ہیں، وہ میری حب الوطنی کے معیار پر پوری نہیں اُترتیں چنانچہ کچھ دیر تو میں نے صبر کیا مگر کب تک، بالآخر میں کھڑا ہو گیا اور چیخ کر کہا ’’بند کرو یہ بکواس‘‘ بس میرا یہ کہنا تھا کہ اِس کے بعد میرے خلاف نعرے بازی شروع ہو گئی۔ ’’سی آئی اے کا ایجنٹ، مردہ باد‘‘ وغیرہ۔ پھر بات نعرے بازی سے آگے نکل کر مارکٹائی تک جا پہنچی۔ کیونکہ وہاں میرے جیسے کچھ محبِ وطن اور بھی موجود تھے چنانچہ ایک دوسرے پر کرسیاں پھینکی گئیں۔ میں نے بھی جوابی طور پر ایک کرسی اُٹھانے کی کوشش کی مگر اُٹھائی نہ گئی کیونکہ اُس پر ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ قصہ مختصر جلسے کے اختتام کا اعلان کر دیا گیا۔ اگلے روز انتظار حسین نے اِس پر ایک کالم لکھا بلکہ بی بی سی سے پورے ہنگامے کی خبر بھی نشر ہوئی۔ بس نقصان یہ ہوا کہ میرے جیسے شریف اور پُرامن شخص کو اِن غیر محبِ وطن لوگوں نے ’’ادبی غنڈے‘‘ کا نام دے دیا۔

اس طرح کے بےشمار واقعات ہیں، جن کی تفصیل میں گیا تو ایک نہیں کئی کالم لکھنا پڑیں گے۔ بس آپ یہ جان لیں کہ ایک طویل عرصے تک میری حب الوطنی اس نہج پر پہنچ چکی تھی کہ میں اپنے سوا سب کو پاکستان دشمن سمجھتا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ جب مشرقی پاکستان میں ہنگامے شروع ہوئے اور ہماری طرف سے یعنی مغربی پاکستان کی طرف سے شرپسندوں کے خلاف کارروائی کی گئی تو میرے سمیت بےشمار محب وطن اس کارروائی کے حق میں تھے مگر لیفٹ کے بہت سے دانشوروں نے اُس کارروائی کی مذمت کی اور کہا، اِس سے بنگالیوں میں نفرت پیدا ہوگی اور احتجاج علیحدگی کی تحریک میں بدل جائے گا۔ مجھ ایسے اور دوسرے یعنی محبِ وطن پاکستانیوں کو اُن دانشوروں کی باتوں میں پاکستان دشمنی کی بو آئی اور اُن کے خوب لتّے لئے لیکن بالآخر مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا اور بنگلہ دیش کے نام سے ایک نیا ملک وجود میں آ گیا۔ میں اُس رات سو نہ سکا اور روتے روتے میری آنکھ بھیگ بھیگ جاتی تھی۔ یحییٰ خاں چونکہ شرابی تھا چنانچہ ہم سب محبِ وطن پاکستانیوں کو یقین تھا کہ اسلامی تاریخ کا یہ بہت بڑا سانحہ شراب نوشی کی وجہ سے پیش آیا ہے چنانچہ شدید غصے اور صدمے کی حالت میں شراب کی دکانوں پر حملے کئے گئے، بوتلیں سڑک پر توڑی گئیں، کچھ لوگ مجبوراً ساتھ بھی لے گئے کہ راہ چلتے پیدل لوگوں کے پائوں کہیں اُن بوتلوں کے ٹکڑوں سے زخمی نہ ہوں۔ اُن دنوں مجھ سمیت لاکھوں محب وطن پاکستانیوں کے سینے اُس وقت غم سے چھلنی ہو جاتے تھے، جب انڈین ریڈیو سے ہمارے قیدی فوجیوں کے پیغامات ’’ہم خیریت سے ہیں‘‘ نشر ہوتے تھے اور ہم سوچتے تھے کہ شدتِ غم سے اگر ہمارا یہ حال ہے تو اُن کے اہلِ خانہ کے دلوں پر کیا گزرتی ہو گی؟

اِس سانحہ کے بعد میرے اورمجھ جیسے لاکھوں محبِ وطن پاکستانیوں کے زخمی دلوں سے پہلے سے کہیں زیادہ خون رسنے لگا تھا۔ میں نے ہر اُس دانشور کو پاکستان دشمن سمجھنا شروع کر دیا جو اس سانحہ کا ماتم کرنے کے بجائے اس کی وجوہات بیان کرنے لگتا تھا۔ وہ اعلیٰ افسران بھی میری نظروں سے گرگئے جنہوں نے سقوطِ مشرقی پاکستان پر کتابیں لکھیں اور غدار بنگالیوں کی مذمت کے بجائے اپنوں ہی کو رگیدتے رہے۔ مجھے ایسے محب وطن کو کبھی فیضؔ، ناصر کاظمیؔ، انتظار حسینؔ اوربہت سے دوسرے ادیب اچھے لگتے تھے مگر جب انہوں نے اپنی شاعری اور افسانوں میں سقوط مشرقی پاکستان کا نوحہ کھل کر پڑھنے کے بجائے اشاروں کنایوں میں دکھ کا اظہار شروع کیا تو مجھے ان کی بزدلی بہت بری لگی لیکن جب یحییٰ خاں مرا اور اُسے پاکستان کے قومی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا گیا اور جب میں نے ایک دن دیکھا کہ انڈین فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے والا اے کے نیازی ایک تحریک کے دوران سر پر کلاہ پہنے ایک سیاسی جماعت کی ریلی میں ٹرک پر سوار سڑک کے کنارے کھڑے لوگوں کی آمد کا شکریہ ہاتھ ہلا ہلا کر ادا کر رہا تھا، تو میرا دل مزید شکستہ ہو گیا اور میں نے سوچا کہ کیا پاکستان کی محبت کی ساری ذمہ داری مجھ ایسے دوسرے محب وطن لوگوں ہی کے سر ہے، تو میں اندر سے بدل گیا! میں نے سوچنا شروع کیا کہ ہماری سیاسی تربیت جن ہاتھوں سے ہوئی تھی، کیا وہ ہاتھ ہمارے ہی لوگوں کے تھے؟

اب جبکہ ہر اس شخص کو غدار قرار دیا جا رہا ہے جو کسی قومی مسئلے پر مختلف رائے رکھتا ہے تو میں پاگل ہوں جو ماضی کی طرح اپنی ذاتی نوعیت کی حب الوطنی کے تحت انہیں بھی غدار سمجھنا اور کہنا شروع کر دوں؟ بس بہت ہو گئی، میں اب اخبار میں اشتہار دینے کی سوچ رہا ہوں کہ میرا ان محب الوطنوں سے کوئی تعلق نہیں جو غداری اور حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ میں حب الوطنی کے اس پرانے معیار سے اعلانِ لاتعلقی کرتا ہوں جس کے تحت کسی فرقہ پرست مُلا کی طرح کسی کو مسلمان اور کسی کو کافر قرار دینے کا فیصلہ اس اکیلے نے کرنا ہوتا ہے۔ وما علینا الا البلاغ۔

اور اب آخر میں سعید دوشی کی ایک غزل:

کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا

میں کم شناس مروت ميں مارا جاؤں گا

میں مارا جاؤں گا پہلے کسی فسانے میں

پھر اس کے بعد حقیقت میں مارا جاؤں گا

مجھے بتایا ہوا ہے مری چھٹی حس نے

میں اپنے عہدِ خلافت میں مارا جاؤں گا

مرا یہ خون مرے دشمنوں کے سر ہوگا

میں دوستوں کی حراست ميں مارا جاؤں گا

میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر

گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا

فراغ میرے لیے موت کی علامت ہے

میں اپنی پہلی فراغت میں مارا جاؤں گا

نہیں مروں گا کسی جنگ میں یہ سوچ لیا

میں اب کی بار محبت میں مارا جاؤں گا

تازہ ترین