آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ربیع الثانی 1442ھ 5؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بھار ت میں صحافیوں پر بغاوت کے مقدمات،انٹر نیشنل صحافتی تنظیموں کا اظہار تشویش

لندن(آئی این پی)آزادی صحافت کے لیے مدیروں، میڈیا سربراہان اور نامور صحافیوں کے عالمی نیٹ ورک انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ (آئی پی آئی)اور صحافیوں کی یونیز اور تنظیموں کی عالمی فیڈریشن، انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) نے بھارت میں صحافیوں کے خلاف بغاوت کے الزامات کے استعمال میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے نام لکھے ایک خط میں دونوں عالمی تنظیموں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ سے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد پر انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 124 اے کے تحت فرد جرم عائد کی گئی جو بغاوت پر 3 سال قید کی سزا دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 5 اکتوبر کو کیرالہ کے ایک صحافی صدیق کپن اتر پردیش کے ضلع ہتھراس میں ایک ریپ متاثرہ کے اہلِخانہ تک پہنچنے کی کوشش کررہے تھے کہ انہیں گرفتار کر کے بغاوت کا مقدمہ درج کردیا گیا۔ خط میں کہا گیا کہ 6 اکتوبر کر کیرالہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس نے صدیق کپن کی گرفتاری کے خلاف حبس بیجا کی درخواست دائر کی جو کہ یونین کے دہلی یونٹ کے سیکریٹری بھی تھے۔ تنظیموں نے کہا کہ اسی طرح مئی میں گجراتی نیوز پورٹل فیس آف نیشن کے مالک اور مدیر کوایک رپوٹ شائع کرنے پر پولیس نے قید کر کے بغاوت کا مقدمہ درج کرلیا، رپورٹ میں خیال ظاہر کیا

گیا تھا کہ ریاست کی سیاسی قیادت تبدیل ہوجائے گی۔ان پر ڈزاسٹر منیجمنٹ ایکٹ کی دفعہ 54 کے تحت جھوٹی افراتفری پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

یورپ سے سے مزید