آپ آف لائن ہیں
منگل8ربیع الثانی 1442ھ 24؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تادم تحریر نواز شریف نے اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم سے ایک ہی تقریر کی ہے لیکن اس ایک تقریر سے بہت کچھ بدل گیا۔ سوچ بدل گئی ، سماج بدل گیا، یہ ملک بدل گیا۔ اس ایک تقریر سے یہ بیانیہ دم توڑ گیا ہے کہ نواز شریف کسی ڈیل کے متلاشی ہیں ،این آر او مانگ رہے ہیں۔ مصلحت پسند ہو کر خاموشی اختیار کر گئے ہیں۔ایک تقریر نے یہ سب الزامات دھو دیئے ہیں۔ اب نواز شریف کو جوچاہے جو بھی کہے مگر کوئی بھی یہ کہنے کی جرات نہیں کر سکتا کہ نواز شریف کسی رعایت کے طلب گار ہیں اور بند دروازوں کے پیچھے کسی خفیہ ڈیل کے چکر میں ہیں۔

آج تک ہم سنتے آئے ہیں کہ پنجاب نے ہمیشہ طاقتوروں کے سامنے سر خم کیا۔ کسی لیڈر نے ہمت نہیں دکھائی ، کسی نے جرات کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ہر ایک پنجابی حکمران نے غیر جمہوری قوتوں کی مدد سے اس ملک پر حکمرانی کی۔ ہمیشہ پنجابیوں کی’’کنڈ‘‘ لگوائی۔ لیکن اب یہ بات ختم ہو گئی ہے۔ نواز شریف نے جو کچھ ایک تقریر میں کہہ دیا وہ کہنے کی کسی کو جرات نہیں رہی۔ پنجابیوں کے چہرے سے دہائیوں کی بدنامی کا یہ داغ نواز شریف نے ایک ہی تقریر میں دھو دیا۔

تقریریں تو بہت سی ہوتی ہیں لیکن اس ایک تقریر کے بعد اب وہ بات جو لوگ ادھر ادھر دیکھ سن کر کہتے تھے ،اِس کا اظہار برملا کرنے لگے ہیں۔ یہ بات اب صرف سیاسی مبصرین یا دانشوروں کی بحث نہیں رہی۔ اس کا ذکر گلی کوچوں میں ہو رہا ہے۔ بنیادی تبدیلی ہمیشہ عوام سے اٹھتی ہے۔ یہ بیانیہ اب عام لوگوں تک رسائی حاصل کر چکا ہے۔اس بیانیے کی پذیرائی صرف پنجاب میں ہی نہیں رہی اس کا اثر اب تمام پاکستان میں ہو رہا ہے۔

اب عمران خان نہ کسی کا ہدف ہیں نہ کوئی ان کو موضوع بنا رہا ہے۔ اس جمہوری سیٹ اپ کی قلعی کھل گئی ہے۔ اب آئی جی اغوا ہو رہے ہیں اور نہ وزیر اعلیٰ کے علم میںہے، نہ پارٹی قیادت کو اسکی خبر ہوئی۔ معاملات اس سے ماورا ہی طے ہو رہے ہیں۔ ایسے میں جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچ رہا ہے ، چادر اور چار دیواری کا تحفظ ختم ہو رہا ہے۔ عوامی اداروں کی بے توقیری اپنے عروج پر ہو تو سندھ پولیس جیسے جری احتجاج سامنے آتے ہیں۔

ایسے احتجاج جس میں لوگ نہ مصلحت کا شکار ہوتے ہیں نہ نوکری کی پروا کرتے ہیں نہ اے سی آر کی انہیں فکر ہوتی ہے نہ کسی کا خوف ہوتا ہے۔ ایک صوبائی محکمے کے لوگ مشترکہ فیصلہ کرتے ہیں اور باطل سے ٹکرا جاتے ہیں۔ خود سوچئے اس سے پہلے کتنے ہی سرکاری ملازمین کی تضحیک اور توہین ہو چکی مگر سندھ پولیس جیسا جری قدم کسی محکمے نے نہیں اٹھایا۔

اب ان محکموں کی تذلیل کرنے والے کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے سوچیں گے تو سہی کہ کیا خبر کل کو سول سرونٹس ہڑتال کر دیں، میڈیا چینل بند کردیں، استاد تعلیم دینے سے انکار کر دیں۔ یہ سب آگہی کے مرحلے ہیں اور اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ اس ملک کے عوام کو یہ آگہی نواز شریف کی ایک تقریر سے حاصل ہوئی ہے۔

اب بھی بہت سے سوال تشنہ ہیں۔ ایک صوبے کے ایک محکمے کے ردِعمل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب معاملات ٹھیک ہوگئے ہیں۔ اب جمہوریت کا بول بالا ہو گیا ہے۔ اب پارلیمان کی عزت بحال ہو گئی ہے۔ اب ووٹ کو عزت ملنے لگی ہےیا پھر اب عوام کی توقیر ہونے لگی ہے۔

ابھی بہت سے مرحلے باقی ہیں۔ بہت کچھ ہونا ہے لیکن بہت کچھ ہونے کا آغاز ضرور ہو چکا ہے۔ اصل تبدیلی ذہنوں میں آچکی ہے۔ اندھیرا گھٹ رہا ہے ، خوف کے بادل چھٹ رہے ہیں۔ امید کا دامن وسیع ہو رہا ہے۔ نئے نئے امکانات سامنے آ رہے ہیں۔لوگ بہت سادہ لوح ہوتے ہیں۔ کٹھن سوالات کے سہل جواب مانگتے ہیں۔ وہ بار بار پوچھتے ہیں کہ اس نااہل اورناکام حکومت سے کب تک نجات مل جائے گی؟ کیا اس دفعہ بھی تبدیلی کا پیش خیمہ بلوچستان کی اسمبلی ثابت ہو گی؟ کیا حکومت کی بساط سینیٹ الیکشن سے پہلے لپٹ جائے گی؟

نئی حکومت کس کی آئے گی؟ کیا پی ڈی ایم کا اتحاد قائم رہے گا؟ نواز شریف چوتھی دفعہ وزیر اعظم بنیں گے؟ کس پارٹی کو کتنا حصہ ملے گا؟ کرپشن کرنے والوں پر نیب اسی طرح گرفتاریاں ڈالے گی ؟ کیا اس دور میں لوٹی رقم واپس وطن کے خزانے میں آئیگی؟ کیا وزیر اعظم اسمبلی توڑ دیں گے؟ کیا اسمبلی میں’’اندر‘‘ سے کوئی تبدیلی آئے گی؟ پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک بنے گا؟

عمران خان کی جگہ پی ٹی آئی کس کو پارٹی کی قیادت سونپے گی؟ کیا اس دفعہ بھی تبدیلی زور آوروں کی مدد سے آئے گی یا عوام کا بھی اس میں کوئی عمل دخل ہو گا؟ کیا ہم ایک چنگل سے نکل کر کسی دوسرے جال میں تو نہیں پھنس جائیں گے؟ کیا میڈیا کی زبان سے تالے ہٹائے جائینگے ؟ کیا نفرت کی سیاست ختم ہو گی؟ کیا نیب کا قانون تبدیل ہوگا؟ نئے الیکشن کب ہوں گے؟ کیا اس دفعہ بھی جھرلو پھر جائے گا یا انتخابات منصفانہ ہوں گے؟

میرے پاس لوگوں کے ان تمام سوالات کے جواب نہیں لیکن قیافے اور اندازے کی بنا پر اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ان سب سوالات کے جوابات کا انحصار نواز شریف کی دوسری تقریر پر ہو گا۔ میں نہیں جانتا کہ اس تقریر میں کیا ہو گا لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ دوسری تقریر کے بعد ہمارا موضوع بحث وہ نہیں ہو گا جو آج کل ہے۔ بات اس سے کہیں آگے چلی گئی ہو گی۔

تازہ ترین