آپ آف لائن ہیں
بدھ16؍ربیع الثانی 1442ھ2؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پشاور: مدرسے میں دھماکا، 8 شہید، 112 زخمی


خیبر پختون خوا کے دارالخلافہ پشاور کے مدرسے میں ہونے والے دھماکے کا لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زیرِ علاج ایک اور زخمی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا، جس کے بعد دھماکے میں شہید افراد کی تعداد 8 ہوگئی، واقعے میں 112 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پشاور کے علاقے دیر کالونی میں کوہاٹ روڈ پر واقع مسجد و مدرسے میں آج صبح دھماکا ہوا تھا۔

مسجد کے مرکزی ہال میں دھماکے کے وقت مولانا رحیم اللّٰہ درس دے رہے تھے، درس میں ایک ہزار سے زائد مدرسے کے طلباء موجود تھے۔

پولیس حکام کے مطابق دھماکا ایک بیگ میں موجود ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے سے قبل ایک مشکوک شخص مسجد کے ہال میں داخل ہوا تھا، جس کے پاس ایک بیگ تھا جو اس نے ہال میں طلباء کے درمیان رکھ دیا تھا۔

دھماکے سے مسجد کے ہال میں گڑھا پڑگیا جبکہ چھت اور دیواروں کو بھی نقصان پہنچا، دھماکے سے مسجد کی محراب والی دیوار کا کچھ حصہ گر گیا، کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

پولیس، سیکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیموں نے دھماکے کے مقام پر پہنچ کر امدادی کام انجام دیئے، زخمیوں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کیا۔

ریسکیو 1122 کے حکام کے مطابق زخمی ہونے والے متعدد بچوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کے حکام نے 70 زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کی بھی تصدیق کی جن میں 40 بچے شامل ہیں۔


لیڈی ریڈنگ اسپتال (ایل آر ایچ ) کے ترجمان کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت کے بعد میتیں ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال نے بتایا کہ اسپتال میں آنے والے 40 سے زائد معمولی زخمیوں کو علاج کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ زیادہ تر زخمیوں کو برن یونٹ اور ای این ٹی وارڈز میں شفٹ کیا گیا ہے۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال انتظامیہ نے دیر کالونی دھماکے کے 96 زخمیوں کی فہرست بھی جاری کر دی ہے۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کے ترجمان کے مطابق شہید افراد میں کوئی بچہ شامل نہیں ہے، 5 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے، شہید افرادکی عمریں 30 سال سے زائد ہیں۔

دھماکے کے زخمیوں کو خیبرٹیچنگ اسپتال اورحیات آباد میڈیکل کمپلیکس بھی منتقل کیا گیا۔

خیبر ٹیچنگ اسپتال کے حکام کے مطابق دھماکے کے 4 زخمیوں کو خیبر ٹیچنگ اسپتال سے بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب بم دھماکے کا نشانہ بننے والی مسجد میں نمازِ ظہر ادا کر دی گئی ہے، نماز کی ادائیگی سے قبل مسجد کو دھویا گیا اور صفائی کی گئی۔

پشاور پولیس کے مطابق دھماکا ٹائم بم کے ذریعے کیا گیا جبکہ دھماکا خیز مواد بیگ میں رکھ کر مدرسے لایا گیا تھا۔

آئی جی خیبر پختون خوا ثناء اللّٰہ عباسی نے دھماکے میں 4 افراد کے شہید ہونے کی تصدیق کی ہے۔


ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے متعلق عمومی تھریٹ الرٹ تھا، دھماکے بارے میں تفتیش جاری ہے۔

پولیس حکام کے مطابق واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق دھماکا آئی ای ڈی کا ہے، جس کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

سی سی پی او پشاور محمد علی گنڈا پور کے مطابق دھماکا مسجد کے مرکزی ہال میں ہوا، بارودی مواد 5 سے 6 کلو وزنی تھا۔

سی سی پی او پشاور کا مزید کہنا ہے کہ مدرسے سے متعلق کوئی تھریٹ نہیں تھی، واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

ایک عینی شاہد کے مطابق مدرسے میں دوسرا پیریڈ شروع ہونے والا تھا کہ اچانک دھماکا ہوا، دھماکے کے وقت 1 ہزار سے 12 سو افراد مدرسے میں موجود تھے۔

اے آئی جی بم ڈسپوزل اسکواڈ شفقت ملک کے مطابق پولیس نے دھماکے کی جگہ سے شواہد جمع کر کے فرانزک لیب بھیج دیئے ہیں، دھماکا بظاہر ٹی این ٹی کا لگتا ہے تاہم اس کی تصدیق فرانزک سے ہو سکے گی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دھماکے میں 5 کلو اعلیٰ کوالٹی کا بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے، دھماکے کا طریقہ کسی منظم گروپ کی کارروائی لگتا ہے۔

قومی خبریں سے مزید