آپ آف لائن ہیں
جمعہ یکم جمادی الثانی 1442ھ15؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میں نے آرمی چیف سے کراچی واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، بلاول


پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ انھوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کراچی واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

نگر میں انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ خوشخبری مل رہی ہے کہ کراچی واقعے کی انکوائری مکمل ہو کر ایکشن بھی لے لیا گیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہمیں اس عمل کو خوش آمدید کہنا چاہیے، ایسے عمل سے اداروں کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ جمہوری طریقہ یہی ہے کہ جو غلطی ہو اس کا اعتراف کیا جائے، غلط کے خلاف ایکشن لیا جائے۔

بلاول بھٹو زرداری کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں مل کر اور جمہوری طریقے سے آگے بڑھنا ہے،  یہ شروعات ہے، امید ہے اس سلسلے کو آگے لے کر چلیں گے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ جمہوریت اور پاکستان کے لیے سب کو مل کر کام کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مزارِ قائد کی بے حرمتی کے پسِ منظر میں رونما ہونے والے واقعے پر آئی جی سندھ کے تحفظات کے حوالے سے فوج کی کورٹ آف انکوائری مکمل ہو گئی۔

آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حکم پر ہونے والی انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ آفیسرز نے شدید عوامی ردِ عمل اور تیزی سے بدلتی ہوئی کشیدہ صورتِحال کے مدِ نظر سندھ پولیس کے طرزِ عمل کو اپنی دانست میں ناکافی اور سُست روی کا شکار پایا۔

اس کشیدہ مگر پُر اشتعال صورتِ حال پر قابو پانے کیلئے اِن آفیسرز نے اپنی حیثیت میں کسی قدر جذباتی ردِ عمل کا مظاہرہ کیا، تاہم ذمے دار اور تجربہ کار آفیسرز کے طور پر انہیں ایسی ناپسندیدہ صورتِ حال سے گریز کرنا چاہیے تھا جس سے ریاست کے 2 اداروں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔

آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ کورٹ آف انکوائری کی سفارشات کی روشنی میں متعلقہ آفیسرز کو اپنی موجودہ ذمے داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید