آپ آف لائن ہیں
منگل5؍جمادی الثانی 1442ھ 19؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شکریہ گلگت بلتستان جنہوں نے میرا بھر پور ساتھ دیا، مریم نواز


مسلم لیگ نون کی نائب صدر اور سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے گلگت بلتستان کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شکریہ گلگت بلتستان جنہوں نے میرا بھر پور ساتھ دیا، گلگت بلتستان کے عوام نے دنیا کو دکھا دیا کہ وہ ن لیگ اور نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نےکہا کہ وہ جلسے نہیں، اس جعلی حکومت کے خلاف ریفرینڈم تھے اور وہ مناظر پوری دنیا نے دیکھے۔

مریم نواز نے کہا کہ گلگت بلتستان کے بہادر لوگو اس دھاندلی سے ہمت نہیں ہارنا، ریت کی یہ دیوار گرنے والی ہے اور انشاء اللّہ کٹھ پتلی کا کھیل ختم ہونے کو ہے۔

ٹوئٹر سلسلہ وار بیان جاری کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کا نہ پہلے کوئی وجود تھا نہ اب ہے، پی ٹی آئی کو بھیک میں ملنے والی چند سیٹیں دھاندلی اور نون لیگ سے توڑے گئے امیدواروں کی مرہون منت ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ وفاق میں موجود حکمران جماعت کو پہلی بار گلگت بلتستان میں ایسی شکست ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی کی یہ شکست آنے والے دنوں کی کہانی سنارہی ہے کیونکہ پی ٹی آئی سرکاری مشینری، وفاداریاں تبدیل کرانے، دھاندلی کے باوجود بھی سادہ اکثریت حاصل نہ کرسکی۔

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کرنا شرمناک شکست ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ پنجاب، وفاق کی طرح سادہ اکثریت نہ ملنے کے باوجود تمہیں بیساکھیاں فراہم کرکے حکومت تو بنوا دی جائے گی لیکن اس آئینے میں اپنا چہرہ ضرور دیکھو جو گلگت بلتستان کے عوام نے تمہیں دکھایا ہے۔

واضح رہےکہ گلگت بلتستان میں گزشتہ روز ہونے والے انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی تا حال جاری ہے، 23 نشستوں پر انتخابات ہوئے جن میں سے 19نشستوں کے مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتائج آگئے ہیں۔ 7 نشستوں پر آزاد امیدوار، 6 پر پاکستان تحریک انصاف، 4 پر پیپلز پارٹی، ایک نشست پر مجلس وحدت المسلمین ( ایم ڈبلیوایم) نے جبکہ ایک نشست پر مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔

گلگت بلتستان انتخابات میں 4 حلقوں کے مکمل نتائج آنا باقی ہیں، 2 حلقوں میں پی ٹی آئی، 1 میں مسلم لیگ ن اور ایک میں پی پی پی کے امیدوار آگے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید