آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

قضائے الٰہی اور انسانی گناہوں کی سزا

علامہ خادم حسین رضوی قضائے الٰہی سے رحلت کرگئے، ﷲ کی مرضی میں کس کو کیادخل؟ وہ کئی روز سے بخار میں مبتلا تھے ، سانس کی تکلیف تھی اور کھانسی بھی آرہی تھی ۔تادم تحریر دسیوں ہزار لوگ کسی بھی طرح کی احتیاطی تدابیر کیے بغیر ان کے جنازے میں شریک ہوئے اور کورونا (قضائے الٰہی؟) کی پروا کیے بغیر۔ جانے کس کس کیلئے مغفرت کی دعا پڑھنی پڑے۔ آج جب یہ کالم چھپ چکے گا تو پشاور میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا بڑا مجمع جمے گا تو بھی دسیوں ہزار لوگ کورونا کی پروا کیے بغیر سیاسی و معاشی کورونا کیخلاف جذبات کا اظہار کرتے ہوئے، کورونا کے پھیلاؤ کا سبب بنیں گے۔ ان کے لیے بھی پیشگی مغفرت کے سوا چارا نہیں۔ کورونا قدرت کا تحفہ نہیں۔ قدرت، ماحول اور بازگشت کے نظام ( Echo System) کے خلاف انسانی تجاوزات یا گناہوں کا ثمر ہے۔ ہم پھر بھی قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر رہنے پہ تیار نہیں۔ اور قدرت کو مسخر کرنے اور نفع کے لالچ میں ماحولیات کی تباہی پہ مصر ہیں تو پھر قضائے الٰہی سے مستفید ہونے کے مواقع ہم اندھا دھند اشیاء پرستی (Commodity Fetischism) کے حصول کے لیے صبح شام پیدا کرتے رہیں گے۔ جس طرح کی دینیات ہم پڑھتے پڑھاتے ہیں، اس کا سائنس اور قدرت کے تقاضوں سے کوئی واسطہ نہیں۔ اصرار بس اس پر ہے کہ سب ﷲ کا دیا ہے جو مل جائے، اسے ہڑپ کرکے شکم کی بھوک کیسے مٹائی جائے، بھلے قدرت اور اس کے ذرائع کیسے ہی بڑے سرمائے کے مفاد میں تباہ کیے جاتے رہیں اور انسانی زندگی اور کرہ ارض یا دھرتی ماں کیسے ہی مٹ جائیں۔ اس زمانے کو ماہرین ارضیات اور بازگشت نظام کے مفسرین قدرت پر انسانی یلغار کا زمانہ (Anthropocene) کہتے ہیں جب انسان اور زندگی کے تمام آثار خود انسانی سرگرمی کے ہاتھوں انجام کو پہنچیں گے۔ ماہرین سیاسی معیشت اسے تباہ کن سرمایہ داری نظام (Catestrope Capitalism) کا نام دیتے ہیں، جو تین بلائوں کے امتزاج سے تشکیل پایاہے ۔

1۔ کرہ ارض کا ماحولیاتی اور ایکالوجیکل بحران ۔2۔ مہاماری (Epidemiology) وبائی امراض کی لہر۔3۔ نہ ختم ہونے والا عالمی سرمایہ داری کا بحران۔ اس کے ہاتھوں اور ناہموار عالمگیریت یا گلوبلائزیشن کی بدولت چند عالمی سرمایہ دارکارپوریشنز نہ صرف قدرت کو تباہ کرنے ، وبائی بیماریاں پھیلانے ( اور پھر انہیں کنٹرول کرنے کے کاروباروں تک ) اور نسل انسانی کے جم غفیر کو استحصال کا نشانہ بنانے اور اسے پاتال میں دھکیلنے پہ تلی بیٹھی ہیں۔ کورونا کی اس عالمی وبا کی قیامت میں بھی ان بڑی اجارہ دار سرمایہ دار کمپنیوں کی دولت میں کھربوں ڈالرز کا اضافہ ہورہاہے جبکہ لوگ کورونا کی ویکسین دستیاب نہ ہونے کے باعث قضائے الٰہی کاشکار ہیں۔ لیکن اس سارے بحران کا سیاسی اظہاریاتو نیوفاشزم (ٹرمپ ازم وغیرہ) یا پھر نیولبرل ازم (بائیڈن ازم) کی صورت ہورہاہے جو استحصالی سیاست کے سکے ہی کے دورخ ہیں۔ ایسے میں اچھے انسانی مستقبل کی نوید دینے والوں کو سننے والے کم رہ گئے ہیں۔

خادم رضوی مرحوم اور ان کی طرز کے دیگر مقبول رہنماؤں کا سرعت سے عروج اور اچانک انجام کسی سازش کا نتیجہ نہیں۔ ہمارے عوامی سیاسی و معاشی ماحولیاتی اور ایکالوجیکل نظام ہائے قدرت و حیات کے بحرانوں کی دین ہے۔ مسلک ہو یا نسلی و نسلیاتی و صنفی تقسیم ، اور اس کی لگائی گئی آگ کی بھٹی سے بڑے بڑے دیو برآمد ہوتے ہیں اور انسان انسان کا گلا کاٹنے دوڑ پڑتا ہے۔ ہم مسلم دنیا کے باسی مغرب میں پھیلے اسلامو فوبیا اور مسلمانوں سے کی جانیوالی نسلی یا مذہبی تفریق پہ بہت ناک بھوں چڑھاتے ہیں لیکن کبھی گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھتے کہ خود مسلمانوں کے ہاتھوں فرقہ وارانہ قتل عام میں زیادہ مسلمان مارے جارہے ہیں۔ ایک طرف مسلم دنیا میں مغرب اور امریکہ کے ہاتھوں جاری جنگی جرائم سامنے آرہے ہوتے ہیں جو مسلمانوں کو مغرب کے خلاف بھڑکاتے ہیں تو دوسری جانب مسلمان نوجوان قہرآلود غصے میں دہشتگردی کی راہ اپنا کر مغرب میں فسطائی ردعمل کو جنم دیتے ہیں۔ نتیجتاً اگر مشرق قہرانگیزبنیادپرست تحریکوں کا مرکز بنتاجارہاہے تو مغرب بھی فسطائیت کی جانب گامزن ہوتا دکھائی پڑرہاہے۔ ایسے میں موت اگر ہورہی ہے تو انسانیت کی۔ بھائی چارے کی ، امن وآشتی کی ، قدرت اور ماحول کی ۔اور دنیا امیرترین اور غریب ترین طبقات میں بٹے ہونے کے باوجود بیماری کی اصل جڑکو اکھاڑنے کی بجائے مذہب ، نسل ، فرقے اور علاقے کی بنیاد پر تقسیم ہو کر باہم غارت گری میں ہمہ تن مصروف ۔ہمارے ہاں بھارت کو دیکھیں وہاں ہندوتواکے ہاتھوں مسلمانوں اور اقلیتوں اور خود ہندوستانی سماج میں محروم طبقوں کے ساتھ کیا خوفناک کھیل ہورہاہے ؟اس پر بغلیں بجانے کی بجائے ہم خود اپنا جائزہ لیں تو حالات ٹھیک دکھائی نہیںدیتے۔ فرقہ واریت کی جڑیں تو تاریخی ہیں اور اب وہ ہرسو پھیلتی چلی گئی ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد سے ہی فرقہ واریت نے زیادہ شدت سے سراٹھالیا تھا۔ اور فرقہ واریت کی نفرت انگیزی ایسی زوردار عامل ہے کہ یہ دفعتاً چھوٹے سے قضیہ سے شروع ہوکر پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ لوگ فرقہ وارانہ تقسیم میں اندھے ہوئے جاتے ہیں۔ کتنی ہی فرقہ پرست جماعتیں اور جہادی و فسادی گروہ ملک کے طول و عرض میں پھیل گئے ہیں اور اسلام کے نام پر بننے والی ریاست ہے کہ اپنے ہی نظریاتی بوجھ تلے دبی بیٹھی ہے۔ فرقہ پرستی کی دہشت کا عالم یہ ہے کہ جب کوئی گروہ جب چاہے اسلام آباد کو یرغمال بنالے اور اپنے مقتدیوں سے تحسین پائے۔ خادم حسین رضوی بھی ایک بڑا گرو ہی مذہبی سیاست کا مظہر تھے جن کے جنازے میں دسیوں ہزار چاہنے والے سوگواروں کی شرکت سے ظاہر ہوتاہے کہ بریلوی اور دیوبندی روایت کے نئے لیڈر کیسے غضب کے ہیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

تازہ ترین