آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍رجب المرجب 1442ھ25؍فروری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

صدر نے سینیٹ الیکشن پر سپریم کورٹ کی رائے مانگ لی


صدرِمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سینیٹ کے الیکشن اوپن بیلٹ/شو آف ہینڈز کے معاملے پر سپریم کورٹ آف پاکستان کی رائے مانگ لی ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوانے کی وزیرِاعظم عمران خان کی تجویز کی منظوری دے دی اور ریفرنس پر دستخط کر دیئے ہیں۔

صدر کی جانب سے آئین میں ترمیم کیئے بغیر الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن(6)122 میں ترمیم کے لیے سپریم کورٹ کی رائے مانگی گئی ہے۔

صدر کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد حکومت کی جانب سے سینیٹ کے الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کا ریفرنس سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر کیا گیا ہے۔

حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سینیٹ انتخابات کا طریقہ کار آئین میں واضح نہیں ہے، سینیٹ کا انتخاب الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت کرایا جاتا ہے، سینیٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ کے تحت ہوسکتا ہے، اوپن بیلٹ سے سینیٹ الیکشن میں شفافیت آئے گی۔

وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ سینیٹ میں خفیہ بیلیٹنگ سے ارکان کی خرید و فروخت میں منی لانڈرنگ کا استعمال ہوتا ہے، خفیہ ووٹنگ سے سینیٹ الیکشن کے بعد شفافیت پرسوال اٹھائے جاتے ہیں، سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانا چاہتے ہیں تاکہ ووٹوں کی خرید و فروخت کا الزام نہ لگے۔

دائر کیئے گئے صدارتی ریفرنس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت خفیہ ووٹ آئین کے تحت ہونے والے انتخابات کیلئے لازم ہے،آئین کے تحت الیکشن میں صدر، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات آتے ہیں، اس میں وزیرِاعظم اور وزرائے اعلیٰ کے الیکشن کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔


صدارتی ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں کے انتخابات شامل ہیں، جو الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت ہوتے ہیں، سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے اور آئین کی تشریح کرتی ہے، موجودہ صدارتی ریفرنس کے ذریعے آئینی نکتے پر سپریم کورٹ کی رائے کیلئے درخواست کی جاتی ہے۔

صدارتی ریفرنس میں سوال اٹھایا گیا ہےکہ کیا سینیٹ الیکشن آئین کے آرٹیکل 226 میں نہیں آتے؟ کیا الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت انتخاب کیلئے اوپن یا سیکرٹ طریقہ کار اختیار نہیں کیا جاسکتا؟ الیکشن ایکٹ 2017ء آئین کے آرٹیکل 222 کے تحت جاری نہیں کیا گیا، موجودہ الیکشن ایکٹ کے ذریعے 1975ء کا سینیٹ الیکشن ایکٹ کالعدم ہوچکا ہے۔

ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017ء میں سینیٹ الیکشن کا خفیہ رائے شماری کا طریقہ کار دیا گیا ہے،سینیٹ آئینِ پاکستان کی تخلیق ہے، اس کی ہیئت اور ڈھانچہ آرٹیکل 59 میں دیا گیا ہے۔


صدارتی ریفرنس میں بھارت کے عوامی نمائندگی ایکٹ 1951ء کا حوالہ بھی دیا گیا ہے،بھارت کے عوامی نمائندگی ایکٹ میں 2003ء میں ترمیم کے بعد راجیہ سبھا میں اوپن بیلٹ کا طریقہ کار اپنایا گیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید