آپ آف لائن ہیں
اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’شُکر گزاری‘‘ اللہ کے قُرب اور اعترافِ بندگی کا بہترین ذریعہ

ڈاکٹر آسی خرم جہانگیری

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’ اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گااور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے ۔‘‘(سورۂ ابراہیم)

علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی ؒ خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ’’اس آیت سے معلوم ہوا کہ شکر سے نعمت زیادہ ہوتی ہے ۔ شکر کی اصل یہ ہے کہ آدمی نعمت کا تصوّر اور اس کا اظہار کرے اور حقیقت شکر یہ ہے یعنی نعمت دینے والےکی نعمت کا اس کی تعظیم کے ساتھ اِعتراف کرے اور نفس کو اس کا خُوگر بنائے ۔ یہاں ایک باریکی ہے ،وہ یہ کہ بندہ جب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے طرح طرح کے فضل و کرم و اِحسان کامشاہدہ کرتا ہے تو اس کے شکر میں مشغول ہوتا ہے، اس سے نعمتیں زیادہ ہوتی ہیں اور بندے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہ مقام بہت برتر (اونچا)ہے اور اس سے اعلیٰ مقام یہ ہے کہ مُنْعِم کی محبت یہاں تک غالب ہو کہ قلب کو نعمتوں کی طرف التفات باقی نہ رہے، یہ مقام صدیقوں کا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں شکر کی توفیق عطا فرمائے ۔

ارشادِ ربانی ہے:ترجمہ: اگر تم کفر کرو تو بے شک اللہ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے کفر (و ناشکری) پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکرگزاری کرو (تو) اسے تمہارے لئے پسند فرماتا ہے۔(سورۃ الزمر:۷)اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے بہت واضح انداز میں بیان فرمادیا ہے کہ وہ کفر و ناشکری کو ناپسند کرتا ہے‘‘ کیونکہ وہ بندوںکے لئے نقصان اور خسارے کا باعث ہےاور’’ شکر گزاری و تابع داری کو پسند فرماتاہے‘‘ اس لئے اس میں بندوں ہی کا فائدہ ہے۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ بندوں کو اپنے رب کی شکر گزاری بجالانی چاہیے۔

آج اس وقت ہم مسلمانوں میں جو بیماریاں اور مایوسیاں پھیلی ہوئی ہیں ،اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اجتماعی طور میں ’’ناشکری‘‘ کے مرض میں مبتلا ہیں۔آپ کسی بھی مجلس میںشریک ہوجائیں،کہیں دوچارآدمیوں کے ساتھ بیٹھ جائیں، کسی سواری میں سفر کررہے ہوں، کسی ہوٹل پر کھانا کھا رہے ہوں، کوئی دوست آپ کو ملنے آجائے یا آپ کسی دوست کو ملنے چلے جائیں، کہیں دوچار شتے دار ہی اکٹھے کیوں نہ ہوجائیں ، ہرجگہ یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ ابتدائی دوچار حال واحوال کی باتیں پوچھ کر پھر جو مختلف تبصرے وتاثرات شروع ہوں گے، وہ سب اول تا آخر ناشکری سے لبریز ہوں گے۔ حالانکہ اگر بندہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا احساس کر کے اس کا شکر بجا لائے تو یہ خود اس کے لئے فائدہ مند ہے ،کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے مزید نعمتوں میں اضافہ فرماتا ہے۔

ارشاد نبویﷺ ہے ’’یہ ہو نہیں سکتا کہ اللہ اپنے کسی بندے کو شکر کی توفیق دے اور پھر اس کی اس نعمت میں،جس پر وہ شکر کرتا ہے، اضافہ نہ فرمائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خود فرمایا ہے کہ ’’اگر تم شکر گزار بنو گے تو میں تمہیں اور زیادہ نوازوں گا‘‘۔

جس طرح نعمتوں پر شکر ، نعمتوں میں اضافے کا باعث ہے ،اسی طرح نعمتوں کی ناشکری ،نعمتوں کے چھن جانے اور زوال کا باعث ہے۔تفسیر دُرِّ منثور میںحضرت حسن بصری علیہ الرحمہ سے نقل کیا گیا ہے ’’اللہ جب تک چاہتا ہے بندے کو نعمت سے لطف اندوز ہونے دیتا ہے، پھر جب اس کی طرف کوئی شکر نہیں پاتا تو اسی نعمت کو عذاب میں بدل دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم سے پہلے لوگ شکر کو ’’محافظ اور نگہبان‘‘ کے نام سے یادکرتے تھے، وہ کہا کرتے تھے، نعمت کا تحفظ کرنے اور نعمت کو بچا رکھنے والی کوئی چیز ہے تو وہ شکر ہے، وہ کہا کرتے تھے شکر وہ چیز ہے جو کھوئی ہوئی نعمت کو بھی لوٹا لائے!!‘‘

یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ ایک تو قولی شکر ہے جو زبان سے ادا کیا جاتا ہے ،جو اپنی جگہ بہت ضروری ہے لیکن اس پر اکتفا ء کرنا کافی نہیں ہے ،بلکہ ایک دوسراشکر ہے جو فعلی شکر کہلاتا ہے، جو اپنے اعضاء وجوارح کے ذریعے بجا لایا جاتا ہے،اس کا بھی ساتھ میں بجا لانا ضروری ہےیعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو جن جسمانی اور مالی نعمتوں سے نوازا ہے تو انسان ان کا شکر اپنے فعل سے اس طور پر ادا کرے کہ ان کا استعمال اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماںبرداری کے کاموں میں کرے، مثلاً وہ پنج وقتہ نمازوں کا ،روزوں کا اہتمام کرے،حج فرض ہونے پر اس کی ادائیگی کرے، زکوٰۃ فرض ہونے پر اس کی ادائیگی کرے ،اپنے مال سے صدقہ وخیرات کا اہتمام کرے، آنکھوں کو بد نظری وبد نگاہی سے بچائے،زبان سے شکوے و شکایت ،گالم گلوچ،چغلی و غیبت کے بجائے خیر و سلامتی کی بات کرے، اپنی قوت و توانائی کو انسانیت کی بہتری و بھلائی کے کاموں میں خرچ کرے ،اپنی صلاحیتوں کو ملک و قوم کے لئے وقف کرے،کسی کو اپنی ذات سے کوئی دکھ اور تکلیف نہ دے ،کسی کی کوئی حق تلفی نہ کرے۔تب جاکر وہ اللہ کے شکر گزار بندوں میں شامل ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں اور ہر طریقے سے شکر بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے۔( آمین)