آپ آف لائن ہیں
بدھ یکم رمضان المبارک 1442ھ14؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آج کے اس جدید دور میں بھی خواتین معاشرتی رسوم و رواج کی بیڑیوں میں جکڑی ہوئی ہیں۔ کبھی اسے غیرت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے، تو کبھی گھریلو تشدد یا تیزاب پھینک کر جلادیا جاتا ہے، کبھی خواتین کو اغواء کرکے اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آج بھی عورت رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑی ہے اور ظلم و ستم کا نشانہ بن رہی ہے، لیکن یہ بات بھی قبل ذکر ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر خواتین پر ہونے والے کسی بھی ظلم و زیادتی کے حوالے سے خبریں آنے کے بعد وفاقی صوبائی حکومتیں اور پولیس متحرک ہو جاتی ہے۔ 

خواتین پر ہونے والے تشدد، ظلم زیادتی، گھریلو جھگڑے، فیملی مسائل سمیت خواتین کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے آئی جی سندھ پولیس کی جانب سے سندھ بھر میں ضلعی سطحوں پر قائم کیے جانے والے وومن پروٹیکشن سیل کے قیام کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آرہے ہیں، سکھر میں ایس ایس پی عرفان علی سموں کی زیر نگرانی ان کے دفتر میں قائم وومن پروٹیکشن سیل میں موجود خواتین پولیس افسر اور عملہ آنے والی شکایات اور خواتین کو درپیش مسائل کو خود سُنتی ہیں اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور اگر وومن پروٹیکشن سیل کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو وہ کافی حوصلہ افزاء ہے۔ 

ایس ایس پی عرفان علی سموں کے مطابق وومن پروٹیکشن سیل اور وومن کمپلینٹ سیل کی انچارج خواتین پولیس افسر ہیں ۔ ہماری ہر ممکن کوشش ہے کہ خواتین کی جو بھی شکایات آئیں، اسے خواتین افسران اور عملہ مل کر حل کریں۔ اگر گزشتہ برس کی بات کی جائے تو سال بھر میں وومن پروٹیکشن سیل میں 112 شکایات موصول ہوئیں، جن میں شوہر اور بیوی کے درمیان جھگڑے کی 33 شکایات، فیملی کے مسائل 36، طلاق، حق مہر، عیوضہ، 21، بچوں کو ماں کے حوالے نہ کئے جانے کے 13، جان سے مارنے، تیزاب پھینکنے سمیت دھمکیوں کی 32، تشدد، مارنے کی 43، خواتین کے اغواء کی 9 خواتین کے فروخت کی 1، زبردستی شادی کی 7، زنا کی 4، سائبر ہراسمنٹ کی 7، سیکسول ہراسمنٹ کی 6 شکایات وومن پروٹیکشن سیل کو موصول ہوئیں۔ ان تمام شکایات کے اور مسائل کے حل کے لیے وومن پروٹیکشن سیل کی انچارج سب انسپیکٹر زینت گجر خواتین پولیس افسران اور لیڈیز پولیس نے احسن انداز میں ان شکایات کو سننے کے بعد اس پر کارروائی کرتے ہوئے جن میاں بیوی میں جھگڑا تھا، انہیں دفتر بلایا اور دونوں کی بات سننے کے بعد انہیں سمجھانے اور مشاورت کے ساتھ جھگڑا ختم کرا کر خوش گوار زندگی کے عزم کے ساتھ روانہ کیا۔ 

اسی طرح فیملی مسائل میں فیملی کے لوگوں کی بات سننے اور مشورے سے ان مسائل کو حل کرکے ان مسائل کو ختم کیا طلاق کے حوالے سے جو شکایات آئیں، خاتون نے آکر شکایت کی کہ میرا شوہر مجھ سے لڑتا ہے اور مجھے طلاق دینا چاہتا ہے، تو خاتون کے ساتھ اس کے شوہر کو بھی بلایا گیا اور اسے سمجھایا کہ طلاق دینا اچھی بات نہیں، آپ دونوں ایک دوسرے کا خیال کریں اور مل کر رہیں، یُوں یہ مسائل بھی بڑی حد تک کام یابی سے حل ہوگئے، بعض خواتین نے آکر بتایا کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے اور گھر سے نکال کر بچوں کو اپنے پاس رکھ لیا ہے ایسی شکایات پر کاروائی کرتے ہوئے بچوں کو ان کی ماں کے حوالے کیا، گیا بعض شکایات ایسی آئیں کہ انہیں دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ 

وہ خوفزدہ ہیں، جس پر دھمکی دینے والوں کے خلاف کارروائی کی اور معاملے کو حل کیا، ایک خاتون کو فروخت کئے جانے کی شکایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے ناکام بنایا، خواتین کو اغواء کرنے کے حوالے سے 9 شکایات موصول ہوئیں، جن کا باریک بینی سے جائزہ اور مکمل معلومات کے بعد خواتین کے اغواء کی شکایات کا بھی ازالہ کیا گیا، زبردستی شادی کرائے جانے کے حوالے سے 7 شکایات ملیں، جس پر کاروائی کرتے ہوئے اس عمل کی حوصلہ شکنی اور ذمے داران کے خلاف کارروائی کی گئی، 4 خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایات پر ان کی تحقیقات کرکے کارروائی عمل میں لائی گئی۔ سائبر ہراسمنٹ کی سات شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ان شکایات کو بھی حل کیا۔ ہماری ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ جو بھی شکایت آئے، اس پر فوری کام کرکے جلد از جلد نمٹا دیا جائے تاکہ معاملہ آگے نہ بڑھے اور کوئی نقصان نہ ہو۔ 

اس سلسلے میں ہماری ٹیم ہمہ وقت پلاننگ مشورے اور معاملے کو حل کرنے میں مصروف عمل رہتی ہے اور یہ خوش آئند بات ہے کہ ہمارے پاس آنے والی شکایات کو بروقت اور جلد از جلد نمٹایا گیا۔ انہوں نے بتایا وومن پروٹیکشن سیل کے قیام کے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں ایس ایس پی عرفان علی سموں اس سیل کی کارکردگی کو مکمل طور پر مانیٹر کرتے ہیں اور ان کا مکمل تعاون اور رہنمائی ہمارے ساتھ ہے، خواتین کے حوالے سے وومن پروٹیکشن سیل کی کارکردگی اپنی جگہ ، لیکن یہ بات یہاں قابل غور ہے کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کا نعرہ لگا کر کام کرنے والی متعدد تنظیمیں خواتین پر ہونے والے تشدد کے واقعات کی روک تھامکے لیے طویل عرصے سے کوششیں تو کررہی ہیں، مگر ان کی یہ کاوشیں صرف اور صرف زبانی و کلامی اور کاغذوں کی حد تک ہی محدود ہے۔ 

یہ تنظیمیں خواتین کے عالمی دن سمیت سال میں 2سے 3 بار اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے سیمینار، ورکشاپ اور پروگرام تو منعقد کرتی ہیں۔ لیکن وہ علاقے جہاں پر فرسودہ رسومات کے تحت خواتین کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، وہاں پر یہ تنظیمیں کام کرتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی ہیں۔ خواتین پر تشدد اور انہیں قتل کیے جانے کے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس ہر ممکن اقدامات کررہی ہے۔ خواتین پر تشدد کے واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ آج کے اس جدید دور میں بھی لوگ پرانی رسوم و رواج میں جکڑے ہوئے ہیں، عورت کو انسان تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور اسے اس کے حقوق نہیں دیے جاتے، معاشرے میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، لوگوں میں شعور اجاگر کرنا ہوگا کہ عورت ماں، بہن، بیوی، بیٹی کے روپ میں خدا کا عطا کردہ بہترین تحفہ ہے، اسے اس کے جائز حقوق دیے جائیں۔

شہری و عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس جدید دور میں انسان آج بھی جاہلانہ رسم و رواج اور طور طریقوں میں جکڑا نظر آتا ہے ، خواتین پر ظلم و تشدد کے واقعات اس بات کی روشن مثال ہیں، ہمیں ان رویوں رسم و رواج کو بدلنا ہوگا۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ آئی جی سندھ کی جانب سے قائم کردہ رومن پروٹیکشن سیل کے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ کے تمام اضلاع میں قائم وومن پروٹیکشن سیل کو سکھر کی طرز پر قائم اور فعال بنایا جائے، تو مسائل کا شکار خواتین کو ریلیف ملے گا اور ان کے مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل ہو سکیں گے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید