آپ آف لائن ہیں
جمعرات19؍ رجب المرجب 1442ھ4؍مارچ 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ڈائریکٹر ساجد خان کیخلاف شرلین چوپڑا کا بھی سنگین نوعیت کا الزام

بھارت کی بولڈ ادکارہ شرلین چوپڑا نے انڈسٹری کے نامور ہدایت کار ساجد خان پر سنگین نوعیت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہدایتکار نے انھیں جان بوجھ کر نازیبا حرکت کرنے پر مجبور کیا۔ 

بھارتی فلم انڈسٹری کے متنازع ہدایت کار ساجد خان پر ایک مرتبہ پھر جنسی ہراسانی جیسا ایک الزام سامنے آیا ہے اور یہ الزام خود ایک بولڈ اداکارہ نے لگایا۔ 

اداکارہ شرلین چوپڑا نے بتایا کہ ان کے ساتھ یہ واقعہ سال 2005 میں ان  کے والد کی موت کے بعد پیش آیا تھا۔ 

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مرحوم اداکارہ جیا خان کی بہن کی جانب سے ساجد خان پر اسی طرح کے الزامات پر ردِ عمل دیتے ہوئے شرلین چوپڑا نے اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کا ذکر کیا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کی موت کے بعد جب ساجد خان سے ملاقات کے لیے گئیں تو اس دوران ہدایتکار انھیں نازیبا حرکت کرنے پر مجبور کیا۔ 

جب ان سے ایک سوشل میڈیا صارف نے سوال کیا کہ وہ اتنے سالوں سے خاموش کیوں تھیں تو شرلین نے کہا کہ ساجد خان کے پاس اپنا کردار ثابت کروانے کے لیے بالی ووڈ کے بڑے بڑے سپر اسٹارز موجود تھے، تاہم ایسے میرا ایک بھی لفظ ان سب کے خلاف ہوتا۔ 

ساتھ میں شیرلین نے یہ بھی کہا کہ بالی ووڈ مافیا ایک بہت مضبوط گروہ ہے۔ 

واضح رہے کہ چند روز قبل مرحوم اداکارہ جیا خان کی بہن نے بھی ایک ڈاکومینٹری میں ساجد خان پر اسی طرح کے الزامات لگائے تھے۔ 

انھوں نے بتایا کہ ساجد نے اسکرپٹ پڑھنے کے ایک سیشن کے دوران جیا سے کہا تھا کہ وہ اپنا زیر جامہ اتاریں۔ اس کے بعد جیا گھر آئیں اور بہت روئیں۔ 

بہن نے بتایا کہ اس وقت جیا نے کہا تھا کہ ’میرا ان کے ساتھ معاہدہ ہے، میں اگر یہ معاہدہ ختم کرتی ہوں تو یہ میرے خلاف قانونی کارروائی کریں گے اور مجھ پر بہتان بھی لگائیں گے، لیکن میں اگر یہاں رُکتی ہوں تو مجھے جنسی ہراساں کیا جاتا ہے۔‘

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی خاتون سیلیبریٹی نے ساجد خان کے خلاف جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا ہو۔ 

سال 2018 میں بھارت میں چلنے والی می ٹو مہم کے دوران خواتین سیلیبریٹز کی جانب سے ساجد خان پر اسی طرح کے الزامات سامنے آئے تھے جس کے بعد انھیں فلم ’ہاؤس فل 4‘ کے پروجیکٹ سے بھی ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ 

یہی نہیں بلکہ ساجد خان کو انڈین فلم اینڈ ٹیلی ویژن ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن سے بھی ایک سال کے لیے نکال دیا گیا تھا، جس کے مطابق وہ اپنی پابندی کے عرصے کے دوران کوئی فلم یا پروجیکٹ نہیں کرسکتے۔ 

انٹرٹینمنٹ سے مزید