بھارت، آزادی کے بعد پہلی خاتون کو پھانسی دینے کا فیصلہ
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت، آزادی کے بعد پہلی خاتون کو پھانسی دینے کا فیصلہ

بھارت میں آزادی کے بعد اپنے گھر کے سات افراد کو قتل کرنے والی خاتون شبنم  کو پھانسی دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

آزادی کے بعد ایسا پہلی بار ہوگا کہ بھارت میں کسی خاتون کو پھانسی لگائی جائے گی۔ آزادی کے بعد بھارت میں آج تک کسی خاتون کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا، اپنے اہلخانہ کو قتل کرنے والی شبنم وہ پہلی خاتون ہوگی جو 1947 کے بعد تختہ دار پر لٹکے گی۔

شبنم پر اپنے خاندان کے افراد کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہوا ہے، اس نے یہ جرم اپنے آشنا کے ساتھ مل کر انجام دیا تھا۔

امروہہ کی رہائشی شبنم نامی خاتون نے اپنے آشنا سلیم کے ساتھ مل کر 2008 میں گھر کے سات افراد کو کلہاڑی کے وار کرکے قتل کیا تھا۔

عدالت نے مجرمہ کو پھانسی کی سزا سنائی جس کے بعد اپیلوں کا سلسلہ شروع ہوا، سپریم کورٹ سے اپیل خارج ہونے کے بعد صدر نے بھی شبنم کی رحم کی اپیل خارج کردی جس کے بعد متھرا جیل میں خاتون کو پھانسی دینے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔

شبنم اس وقت رامپور ڈسٹرکٹ جیل میں قید ہے جبکہ قتل میں اس کا ساتھ دینے والا سلیم آگرہ جیل میں قید ہے۔

رامپور ڈسٹرکٹ جیل کے جیلر راکیش کمار ورما کا کہنا ہے کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے پھانسی دیے جانے کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔


2008 میں وقوع پذیر ہونے والے اس ہولناک واقعہ کے متعلق مجرمہ شبنم کے قریبی عزیز ستار علی کا کہنا ہے کہ شبنم کو ہر قیمت پر پھانسی کی سزا ہونی چاہیے کیونکہ اس نے نہایت درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ہی خاندان کے سات افراد کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا تھا۔

پھانسی دینے والے جلاد پون سنگھ دو بار پھانسی گھاٹ کا دورہ کرکے انتظامات کا جائزہ لے چکا ہے، ان کا خاندان کئی نسلوں سے جلاد کا کام کر رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی ڈیتھ وارنٹ جاری ہوں گے مجرمہ کو پھانسی پر لٹکادیا جائے گا۔

خاص رپورٹ سے مزید