آپ آف لائن ہیں
جمعرات19؍ رجب المرجب 1442ھ4؍مارچ 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آج ایک بہت ہی مختلف موضوع پر قلم اٹھاتے اور غور کرتے ہیں ۔یہ دنیا کی چند تاریخی قسم کی بلنڈرز میں سے ایک سو فیصد سچا واقعہ ہے جس کی تردید بھی ممکن نہیں اور اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ زندہ قومیں کس طرح اپنے احمقانہ فیصلوں پر نظرثانی کرتی ہیں ۔اس تاریخی حقیقت کا تعلق کسی ان پڑھ، ناکام اور للو پنجو ملک سے نہیں بلکہ ایک سپرپاور یعنی امریکہ سے ہے ۔

یہ 17جنوری 1920ء کی رات کا ذکر ہے جب پرجوش امریکن سینیٹر اینڈریو وال سٹیڈ (ANDREW VOL STEAD) نے ریڈیو کے ذریعہ 18ویں ترمیم کے پاس ہونےکا فخریہ اعلان کرتے ہوئے عوام کو مطلع کیا کہ ہر قسم کی شراب کی تیاری اور فروخت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔اس پابندی کے حامی اک اور سینیٹر مارس سیفرڈ MORRIS SEPHARDنے بڑھک ماری اور دعویٰ کیا کہ ’’اس ترمیم کی منسوخی اسی طرح ناممکن ہے جیسے یہ ناممکن ہے کہ ایک ننھی سی چڑیا واشنگٹن کی یادگار کو اپنی دم کے ساتھ باندھ کر مریخ کی طرف اڑان بھرلے‘‘۔

لیکن پھر کیا ہوا بلکہ کیا کیا ہوا ؟اس پر روشنی ڈالنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہو گا کہ اس زمانہ یعنی 1920کے ارد گرد امریکہ کے حالات کیا تھے۔ امریکہ پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر اس صورتحال کو پوری طرح انجوائے کر رہا تھا ۔امریکی معاشرہ میں نئی امنگ، نئی طرز کی موسیقی، نت نئے ناچ اور رسم ورواج انگڑائیاں لے رہے تھے تو ساتھ ہی ساتھ لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں مداخلت کی عادت بھی جڑیں پکڑ رہی تھی جب یہ قانون پاس ہوا کہ شراب کی تیاری اور فروخت وغیرہ پر 1000ڈالر جرمانہ، 5سال قید اور بروری کی بندش تک نے قانون کا درجہ حاصل کر لیا۔ام الخبائث کے حوالہ سے واحد استثنا’’طبی وجہ ‘‘ تھی ۔محکمہ خزانہ میں ایک بیوروتشکیل دے دیا گیا تو دوسری طرف پندرہ ہزار ڈاکٹرز اور تقریباً60ہزار فارمیسی مالکان نے مخصوص مریضوں کو الکوحل تجویز کرنے کی اجازت مانگ لی تو ساتھ ہی جرائم پیشہ لوگ بھی حرکت میں آ گئے کیونکہ جن چیزوں پر پابندی ہو ان میں منافع کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے، ان کی ڈیمانڈ بھی بڑھ جاتی ہے ۔

نتیجہ یہ نکلا کہ تین سال کے اندر اندر اس جرم کی شرح میں شاندار اضافہ نظر آنے لگا ۔سب سے پہلے یہودی تلنگے اس منافع بخش کاروبار میں کودے، پھر آئرلینڈ کے لفنگے اس میدان میں اترے۔رہی سہی کسر اطالوی کن ٹٹوں نے پوری کر دی ۔ان سب نے مل کر شراب کی تیاری سے لیکر ترسیل تک پر قبضہ کر لیا اور پولیس کی بھی چاندی ہو گئی یا یوں کہہ لیں کہ لاٹری نکل آئی ۔

1925ء تک امریکہ کے تمام بڑے شہروں میں تقریباً ایک لاکھ غیر قانونی شراب فیکٹریاں قائم ہو گئیں جن کو مافیاز کی سرپرستی حاصل تھی۔نئے قانون نے بہت کچھ ادھیڑ کر رکھ دیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ سیکرٹری داخلہ البرٹ ہال (ALBERT HALL) اور اٹارنی جنرل ہیری ڈائو ٹری (HARRY DOUGHTERY) کو بھی رشوت خوری کے الزام بلکہ جرم میں سزا ہوئی۔ شراب پر پابندی پورس کا ہاتھی ثابت ہو رہی تھی ۔

شراب پر پابندی کے حامی بری طرح ذلیل ہو رہے تھے کیونکہ چلے تھے شراب نوشی کو مکمل طورپر ختم کرنے لیکن عملاً اس کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا، اس پابندی سے متعلق دیگر جرائم بھی بڑھ رہے تھے اور ٹیکسز کی مد میں ہونے والی سرکاری آمدنی بھی ختم ہو گئی تھی ۔اس نئے قانون کی وجہ سے قیدخانے بھی کچھ زیادہ ہی آباد ہو رہے تھے اور تو اور 1920ء کی دہائی تک شراب کے حوالہ سے ہونے والی گینگ وارز کے نتیجہ میں 500سے زیادہ لوگ بھی مارے گئے کہ اکثر ’’کاروباری حریف ‘‘ آمنے سامنے ہو جاتے تھے ۔

دنیا کے نامور ترین مافیا چیف ایلکپون (ALCAPONE) پر سپرہٹ فلمیں بھی بنی ہیں۔ایلکپون بھی اس زمانہ کی پیداوار اور یادگار ہے جس کا یہ بیان آج بھی ریکارڈ پر ہے.....’’یہ لوگ مجھے غیر قانونی شراب بنانے بیچنے والا کہتے ہیں ۔اگر آپ اس کو ٹرکوں پر بیچیں تو یہ غلط ہے مگر جب آپ اس کو کلبوں ساحلوں پر سرو کریں تو یہ مہمان نوازی شمار ہوتی ہے ۔عوام کی خدمت میرا شعار ہے ۔ملک کے 90فیصد لوگ شراب پیتے اور جوا کھیلتے ہیں اور میرا جرم یہ ہے کہ میں ان کو یہ تفریح مہیا کرتا ہوں‘‘۔

قصہ مختصر کہ آخر کار 4مارچ 1933ء میں خوش قسمتی سے فرینکلن روز ویلٹ (FRANKLIN ROOSE VELT) امریکہ کے صدر منتخب ہو گئے تو اسی سال دسمبر میں آئین کی 21ویں ترمیم پاس ہو گئی جس کے نتیجہ میں شراب پر عائد احمقانہ پابندی ختم ہو گئی ۔کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر وہاں شراب کی جگہ ہیروئین، مارفین، ایش ٹائپ نشے عام ہو جاتے تو امریکیوں کا کیا بنتا کہ یہ شراب سے کہیں زیادہ تباہ کن ہیں ۔

اب ذرا اس بندش کے تباہ کن اثرات پہ اک نظر ---30ہزار لوگ جان سے گئے، ایک لاکھ جعلی شراب پی کر اندھے پن ،فالج کا شکار، دو لاکھ ستر ہزار کو قید جرمانہ، قتل کی وارداتوں میں 49فیصد اضافہ، چوری کی شرح میں 83فیصد اضافہ، 30فیصد سرکاری ملازموں کو سزائیں جبکہ قانون کے خاتمہ کے بعد یہ کاروبار معمول کے منافع کا رہ گیا، جرائم کم ہو گئے، ٹیکس کی آمدنی میں بے حد اضافہ ہوا وغیرہ وغیرہ۔جون ایلیا کا خیال ہے ؎

غم ہائے زندگی کا مداوا نہیں شراب

یہ چیز بے اثر ہے اسے پی چکا ہوں میں

اور چچا غالب کہتے ہیں

مے سے عرض نشاط ہے کس روسیاہ کو

اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہئے

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

تازہ ترین