آپ آف لائن ہیں
اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اقتدار کے پہلے سال ہی بلدیاتی الیکشن کروا دینے چاہئے تھے، فواد


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہاہےکہ ڈسکہ میں جو ہوا وہ سب حکومت کا کیا دھرا ہے، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ این اے 75کے معاملہ پر الیکشن کمیشن کا جو فیصلہ ہوگا اسے تسلیم کریں گے،ہمیں اقتدار میں آنے کے بعد پہلے سال ہی بلدیاتی انتخابات کروادینے چاہئے تھے ۔ وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا، پی ٹی آئی کے رہنما بشمول حلیم عادل شیخ غلط زبان استعمال کرتے رہے ہم نے کچھ نہیں کیا۔ن لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ڈسکہ میں جو ہوا وہ سب حکومت کا کیا دھرا ہے، حکومت کی ایماء پر حکومتی امیدوار کو جتوانے کیلئے مقامی پولیس اور انتظامیہ نے 20پریزائیڈنگ افسران کو اٹھا کر فارم ہاؤس میں رکھا اور نتائج کا انتظار کیا گیا، حکومت کو جب کنفرم ہوگیا کہ ان کا امیدوار ہار رہا ہے تو پریزائیڈنگ افسران سے اپنی جیت کیلئے نیا رزلٹ تیار کروایا گیا، ، فردوس عاشق اعوان وہاں بذات خود موجود تھیں۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ڈسکہ میں پی ٹی آئی کے لوگ ہر پولنگ اسٹیشن پر ہوائی فائرنگ کررہے تھے، فائرنگ کی وجہ سے لائنوں میں لگے ووٹرز گھروں کو واپس گئے، پولنگ کے دن ہلاکتوں کا 20پریزائیڈنگ افسران کو اٹھانے سے کوئی تعلق نہیں ہے، جس جگہ سے 20پریزائیڈنگ افسران اٹھائے گئے وہاں کوئی لاش نہیں گری، ڈسکہ سے 20میل دور دوگروپوں کے جھگڑے میں لاشیں گریں۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لوگ ووٹ چوروں کو پہچان چکے ہیں اب انہیں باز آجانا چاہئے، پریزائیڈنگ افسران کو اغوا کرنے والوں کو سزا دی جائے، ڈی ایس پی ذوالفقار کو الیکشن کمیشن نے ڈسکہ سے ٹرانسفر کروایا ،انہوں نے اسے سی آئی اے کا ڈی ایس پی بنا کر اس علاقے کا انچارج بنادیا جہاں سے 20پریزائیڈنگ افسران اٹھائے گئے، پریزائیڈنگ افسران کو جس فارم ہاؤس پر رات بھر رکھا گیا اس کی نشاندہی ہوچکی ہے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی کو ووٹ نہیں کاپیاں پڑی ہیں، ڈسکہ میں پورے حلقے میں دوبارہ ووٹنگ کروائی جائے ، 100سے زائد پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ متاثر ہوئی اس لئے پورے حلقے میں ری پول مناسب ہوگا۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ این اے 75کے معاملہ پر الیکشن کمیشن کا جو فیصلہ ہوگا اسے تسلیم کریں گے، تمام پولنگ اسٹیشنز کے نتائج الیکشن کمیشن کو موصول ہوچکے ہیں، قانون کے مطابق الیکشن کمیشن کو اب نتیجے کا اعلان کرنا ہے، چیف الیکشن کمشنر کا اس پورے معاملہ میں کردار بہت مثبت رہا ہے، چیف سیکرٹری اورآئی جی پولیس کو الیکشن کمیشن کو جواب دینا چاہئے، تمام ادارے آئینی طور پر الیکشن کمیشن سے تعاون کرنے کے پابند ہیں، کوئی ادارہ الیکشن کمیشن سے تعاون نہیں کرتا تو اس کیخلاف کرمنل کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم فوج کو الیکشن کے عمل سے الگ رکھنے کی بات تو کرتے ہیں لیکن انتخابات میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے اداروں کی مدد لینا ضروری ہوجاتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید