• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوبزنس کی رنگین دُنیا ہمیشہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ چمکتے ستاروں کی شہرت اور گلیمر نے اسے ہر ایک کے لیے قابلِ توجہ بنا دیا ہے۔ فن کاروں کا اسٹارڈم ایسی پُرکشش چیز ہے، جس کا کوئی موازنہ نہیں۔ لوگ ہمیشہ سے ہی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اُن کے پسندیدہ فن کار کا رہن سہن کیا ہے، وہ کیسی ڈریسنگ کرتے ہیں، کون سی گاڑی میں گھومتے ہیں؟ فن کاروں کی پسند ناپسند، جدید فیشن، نیا ڈراما یا نیا میوزک البم یہ سب پرستاروں کے لیے دل چسپی کا سامان ہوتا ہے۔

گزرے زمانے میں شائقین اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں، فن کاروں یا اہم شخصیات کے آٹوگراف لیا کرتے تھے۔ ہمارے پاس بھی بچپن میں ایک آٹوگراف بُک ہوا کرتی تھی ،جس میں ہم اپنے اساتذہ سے اور اپنے پسندیدہ کرکٹ کے کھلاڑیوں سے آٹو گراف لیا کرتے تھے۔ ہمیں یاد ہے کہ ایک مرتبہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں میچ کھیلنے آئی تھی۔ ہمارا سارا دھیان میچ کے بہ جائے اس خیال میں لگا تھا کہ کسی طرح سب کھلاڑیوں کا آٹو گراف مل جائے۔ میچ کے اختتام پر ہم اس میں کام یاب بھی ہوئے، ہمیں تو تاریخ بھی یاد ہے کہ 25نومبر اور اُس دن پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان عمران خان کی سال گرہ تھی، انہوں نے کیک بھی کاٹا تھا۔

وقت بدلا تو آٹو گراف کی جگہ سیلفی نے لے لی۔ آٹو گراف سے لے کر سیلفی تک کا زمانہ بھی خُوب ہے۔ پہلے تو جیب میں آٹو گراف بُک اور قلم رکھنا ضروری ہوتا تھا، پھر موقع پر کسی فوٹو گرافر کا ہونا بھی ضروری تھا، جو آپ کی تصویر اُس سیلبرٹی کے ساتھ بنا دے اور پھر اس تصویر کا نیگیٹو حاصل کرنا، اُس کے پرنٹ دُھلوانا وغیرہ اچھا خاصا جھنجھٹ تھا۔ اسمارٹ فون نے گویا دُنیا ہی بدل دی ہے، اب آپ کبھی بھی کسی کے ساتھ اپنی سیلفی بنا کے اُسے فیس بُک یا ٹوئٹر پر لگا سکتے ہیں۔ شہرت کے سفر میں فن کار عموماً اس کی بہت تمنا کرتے ہیں۔ دُنیا میں بڑے بڑے صاحبِ ثروت لوگ موجود ہیں، مگر مشہور لوگ کم ہی ہیں۔ لائم لائٹ میں آنا، اپنے آپ کو اسٹار بنانا اور شہرت حاصل کرنا ایک سنہرا خواب ہوتا ہے۔

پاکستان میں آج جب کہ سوشل میڈیا اور انٹرٹینمنٹ کے بے شمارچینلز ہیں، جن پر 24گھنٹے ڈرامے نشر ہورہے ہیں، اب مشہور ہونا آسان ہوگیا ہے، نئے لوگوں کو مواقع مل رہے ہیں۔ رائٹر، ڈائریکٹر، تکنیکی اسٹاف یا فن کار ہر ایک کے لیے بہت گنجائش ہوگئی ہے۔ پہلے جب صرف ایک سرکاری چینل ہوتا تھا تو ہفتے میں ایک دن ڈراما آتا تھا، رات آٹھ بجے جو نہ تو کبھی نشر مکرر ہوتا تھا ، نہ ہی یوٹیوب پر موجود تھا، جس پر اُسے دوبارہ یا بعد میں دیکھا جاسکتا، اُس ایک ڈرامے میں جو اسکرین پر آجاتا، اُسے لوگ ہمیشہ یاد رکھتے۔

ہم نے اپنی ساری زندگی پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام کرتے ہوئے گزاری ہے۔ بچپن سے لے کر آج تک ہم پی ٹی وی سے ہی وابستہ رہے ہیں، سہیل رعنا کے بچوں کے موسیقی کے پروگرام سے لے کر مختلف ڈراموں، لائیو نشریات، میوزک شوز، حالاتِ حاضرہ کے پروگرام تک ہمارا اور پی ٹی وی کا پُرانا ساتھ ہے۔ حال ہی میں ہم پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز کے پروگرام منیجر امجد شاہ کو ان کے نئے عہدے کی مبارکباد دینے ان کے دفتر گئے، پی ٹی وی کا گیٹ، اس کا لائونج، کوریڈور، اسٹوڈیوز، میک اپ روم دیکھ کر دل خوشی سے بھر گیا۔ امجد شاہ بہت باصلاحیت نوجوان ہیں، انہوں نے ٹی وی پر بے شمار پروگرام پیش کیے ہیں، جو کام یابی اور مقبولیت سے ہم کنار ہوئے ہیں۔ 

بزمِ مہدی حسن ان کا ایک ایسا مقبول پروگرام تھا، جو ہر ایک کو پسند تھا۔ ہم قارئین کو بتاتے چلیں کہ امجد شاہ ایک بہترین میوزیشن بھی ہیں اور لاجواب ڈھولک بجاتے ہیں۔ دوستوں کے اصرار پر وہ اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔ امجد شاہ نے ہم سے فرمائش کی کہ امیر خسرو کا لازوال گیت چھاپ تلک سنائیں، ہم فوراً تیار ہوگئے،امجد شاہ نے ڈھولک سنبھالی، اتفاق سے اُس وقت وہاں ایک ’’کی بورڈ‘‘ پلیئر بھی موجود تھے، جو کچھ نئے گلوکاروں کے آڈیشن کے سلسلے میں آئے ہوئے تھے۔ امجد شاہ نے زبردست ڈھولک بجائی اور ایک کنسرٹ کا ماحول پیدا ہوگیا۔

ایک یادگار شام تھی، خوشیوں، مسرتوں، گیتوں سے بھری ،جس میں دوستوں نے اپنے خلوص اور محبت سے خُوب صورت رنگ بھرے۔ ہم جب بھی اس کو یاد کرتے ہیں ہمارے ذہن میں ’’اسٹوڈیو بی‘‘ آجاتا ہے، جہاں سہیل رعنا، فاطمہ جعفری اور ڈھیر سارے بچوں میں ہم بھی بیٹھے ہوتے تھے۔ ہم ہی ہم، سات سُروں کی دُنیا، یہ پروگرام ہوتے تھے۔ عارف رانا اس کے پروڈیوسرز تھے۔ 

اُس وقت ہماری عمر بہ مشکل پانچ چھ برس کی ہوگی۔ ہم اُس وقت اسٹارڈم اور شہرت کے مفہوم سے ناآشنا تھے، لیکن یہ ضرور معلوم تھا کہ ہم ٹی وی پر آتے ہیں اور سب اسکرین پر دیکھتے ہیں۔ سہیل رعنا کے پروگرام سے بہت سے بچے بڑے بڑے گلوکار بن گئے۔ افشاں احمد اس کی روشن مثال ہے۔ افشاں احمد کی والدہ اسما احمد بھی عمدہ گلوکارہ رہیں۔ افشاں احمد نے بچوں کے گیت گائے۔ پھر اشتہارات میں آنے لگیں اور بعد میں صفِ اول کی گلوکارہ بن گئیں، بچپن میں ملنے والی شہرت جو چائلڈ آرٹسٹ کو ملتی ہے، وہ بڑے کمال کی چیز ہوتی ہے۔ جیسے صائمہ صلاح الدین نے سہیل رعنا کے پروگرام میں گلوکاری کی، پھر بچوں کے نیلام گھر میں گلوکاری کی، ڈراموں میں بھی کام کیا۔ 

ہم نے صائمہ صلاح الدین کے ساتھ بچوں کے بہت سے ڈراموں میں کام کیا ہے۔ یہ اُس وقت کی بات ہے، جب بچوں کے لیے خصوصی پروگرام اور ڈرامے بنتے تھے۔ بعد میں جب ہم بڑے ہوئے تو کاظم پاشا کے ڈرامے میں وہ ہماری بہن کے کردار میں آئیں۔ آج کل صائمہ صلاح الدین سُنا ہے ہالینڈ میں مقیم ہیں۔ بچپن میں شہرت ملنا بڑے نصیب کی بات ہے، یہاں تو لوگوں کی عمریں گزر جاتی ہیں اور پہچان نصیب نہیں ہوتی۔ انور علی رومی کا بیٹا شُارق رومی، احمد جہانزیب، صائمہ صلاح الدین، مونا سسٹرز، افشاں احمد، گرج بابو کی بیٹی نعیمہ گرج (جو آج کل اسٹیج کی مقبول فن کارہ ہیؒں) جویریہ سعود کی بیٹی جنت، یہ سب وہ فن کار ہیں، جو بچپن ہی میں مشہور ہوگئے اور بہ طور چائلڈ اسٹار اپنی شناخت کروائی۔ ڈراما سیریل ’’آنچ‘‘ میں شگفتہ اعجاز اور شفیع محمد شاہ کے تین بچوں کا کردار کرنے والے بچے بھی ناظرین کو بہ خوبی یاد ہوں گے۔ اسی طرح ڈراما سیریل ’’احساس‘‘ میں شہزاد خلیل کے دونوں بیٹوں نے راحت کاظمی اور شہوار رحیم کے بچوں کا کردار نبھایا۔ ابراہیم خلیل اور عمر خلیل ان دنوں کینیڈا میں اپنی والدہ بدر خلیل کے ساتھ رہتے ہیں۔

چائلڈ اسٹار میں سرفہرست اس وقت ڈراما سیریل ’’میرے پاس تم ہو‘‘ سے شہرت پانے والے ’’شیث‘‘ ہیں۔ ڈرامے میں مہوش اور دانش کا بیٹا یعنی رومی کا رول کرنے والے اس ننھے فن کار نے اپنی معصوم اداکاری سے سب کے دلوں میں گھر کرلیا ہے اور اب بہت معروف فن کار بن گئے ہیں۔ شیث آج کل یاسر اختر کی نئی فلم میں ایک اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ 

فنی سفر کا بچپن میں آغاز کرنے والوں میں اگرچہ ہم خود بھی شامل ہیں، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سفر طویل ہے، دشوار گزار تو نہیں، البتہ چیلنجنگ ضرور ہوتا ہے۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ شوبزنس سے تعلق رکھنا ذرا مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں۔ اب آخر ہم بھی تو ڈاکٹر بن گئے ہیں اور میڈیا سے وابستہ بھی رہے ہیں۔ تمام چائلڈ اسٹارز کو ہماری نصیحت ہے کہ پڑھائی نہ چھوڑیں، اداکاری کا شوق ضرور پورا کریں، مگر تعلیم کو مقدم رکھیں۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید