آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایمان صغیر

تتلیوں کی پھڑپھڑاتی ہوئی پرواز بہت عرصے سے سائنسدانوں کے لیے چکرانے کا باعث رہی ہے۔محققین کو یہ سمجھنے میں مشکل رہی ہے کہ یہ نازک بدن اپنے بڑےمگر ناکافی پروں کے ساتھ کیسی اڑتا ہے۔اب ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ تتلیاں اپنے پروں کو گولائی دے کر ایک خاص زاویے سے تالی بجانے کے انداز سے آپس میں ٹکراتی ہیں، جس سے ہوا پر دباؤ پڑتا ہے اور اس کے ردعمل میں یہ نرم و نازک کیڑا اپنی منزل کی جانب محو سفر رہتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ طریقہ تتلیوں کو خطرناک شکاریوں سے بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

جانداروں کی اُڑنے والی انواع نے موت سے بچنے کے مختلف طریقے بنائے ہیں۔ بعض کے پر بڑے اور طاقتور ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ تیزی سے خطرے سے دور نکل جاتے ہیں۔ ان نازک جسموں کی مشکل یہ ہے کہ ان کے پر بقیہ جسم کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر بڑے ہوتے ہیں جو پرواز کے قوانین کے اعتبار سے اڑنے کے اہل نہیں ہیں۔ 1970 ءکی دہائی میں محققین نے نظریہ پیش کیا تھا کہ تتلی کے بڑے پر جب اوپر کی جانب آپس میں ٹکراتے ہیں تو تتلی کو اڑنے میں مدد ملتی ہے ،مگر قدرتی ماحول میں اڑان کے دوران کوئی بھی سائنسدان اس کا عملی مظاہرہ نہیں کروا سکا تھا۔

اب سویڈن کے سائنسدانوں نے ایک وِنڈ ٹنل یا ہوائی سرنگ اور ہائی اسپیڈ کیمروں کی مدد سے تتلی کے اس مخصوص طرزِ اڑان کی عکس بندی کی ہے۔ڈاکٹر پر ہینِنگسن کا کہنا ہے کہ پر ایک نہایت دلچسپ انداز میں حرکت کرتے ہیں۔پروں کے اگلے اور پچھلے حصے مرکزی حصے سے پہلے آپس میں ملتے ہیں، جس سے ایک گولائی یا پیالہ نما شکل وجود میں آتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرز عمل سے پروں کے درمیان ہوا قید ہو جاتی ہے اور جب پر مکمل طور پر ملتے ہیں تو یہ ہوا تیزی سے خارج ہو کر تتلی کو آگے دھکیلتی ہے۔ محققین نے دو چمٹے بھی تیار کیے، تاکہ اپنے نظریے کی آزمائش کر سکیں۔ ایک سخت تھا اور دوسرا تتلی کے پروں کی طرح لچکدار۔

محققین کی ٹیم نے دیکھا کہ لچکدار پروں والے چمٹے کو جب وِنڈ ٹنل میں آزمایا گیا تو اس سے ڈرامائی طور پر زیادہ قوت پیدا ہوئی۔اس سے کارکردگی میں 28 فی صد اضافہ ہوا، جو سائنسدانوں کی نظر میں اڑنے والے جانداروں کے لیے بہت بڑا نمبر ہے۔ سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پیالہ نما بڑے پروں کے پھڑپھڑانے کے عمل نے تتلوں کو اپنی ارتقا کے دوران شکاریوں پر سبقت دی ہے۔

محققین کا خیال ہے کہ ان کی تحقیق زندگی کے دوسرے شعبوں کے لیے کارآمد ہو سکتی ہے۔بعض ڈرون اور زیر آب مشینوں میں پھڑ پھڑانے کے عمل پر مشتمل پروپلشن سسٹم یا دھکیلنے کا نظام پہلے ہی محدود پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تتلیوں کے اڑنے کا انداز اپنا کر ان مشینوں کی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید