• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر: نرجس ملک

مہمانانِ گرامی : روبینہ خان، دُعا،

سعدیہ انور، دانیہ علی سیّد، گوہرین علی سیّد

مقام: الحمراء آرٹس کاؤنسل

عکّاسی: عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

یوں تو اقبال کے کلام ’’وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ‘‘ کو گویا ایک آفاقی، عالم گیر سچّائی کا درجہ حاصل ہوچُکا ہے، لیکن اس کے باوجود دنیا کی اس ’’نصف سے زیادہ‘‘ بلکہ ’’نصف بہتر‘‘ کو سدا تجدیدِ عہد، تجدیدِ محبّت کی ضرورت ہی رہی ہے۔ تب ہی تو دنیا بھر کے علم و ادب میں ایک عورت کو جس قدر موضوعِ سخن، موضوعِ قلم بنایا گیا ہے، شاید ہی کسی اور کو بنایا گیا ہو۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں 6,500 کے لگ بھگ زبانیں بولی جاتی ہیں اور کوئی ایک زبان ایسی نہیں، جس میں عورت سے متعلق کچھ کہا، سُنا یا لکھا، بولا نہ گیا ہو۔ سرِدست اردو شاعری کی بات کریں، تو رہبر جونپوری نے کیا خُوب صُورت نظم لکھی ہے ؎ دنیا کے لیے تحفۂ نایاب ہے عورت.....افسانۂ ہستی کا حسیں باب ہے عورت ہے.....قائم اسی عورت سے محبّت کی فضا ہے......عورت کی عطا اصل میں احسانِ خدا ہے.....ہے ماں تو دل و جاں سے لُٹاتی ہے سدا پیار.....ممتا کی لیے پِھرتی ہے دولت سرِ بازار..... قدموں میں لیے رہتی ہے جنّت کا خزانہ.....عورت کے تصوّر میں ہے تعمیرِ زمانہ.....بیوی ہے تو غم خوار ہے، پیکر ہے وفا کا.....آنچل کو بنالیتی ہے، فانوس حیا کا.....ہے شکل میں بیٹی کے بہار سحرو شام.....قدرت کا عطیہ ہے، یہ قدرت کا ہے انعام.....دختر ہے تو اَن مول گہر کہتے ہیں اس کو.....اللہ کی رحمت کا ثمر کہتے ہیں اس کو.....صُورت میں بہن کی ہے چمن کا یہ حسیں پُھول.....ایثار و محبّت ہے شب و روز کا معمول.....لکھی ہے ہر اِک رنگ میں عورت کی کہانی.....کہتے ہیں اسے عظمتِ انساں کی نشانی.....اِک پَل میں یہ شعلہ ہے تو اِک پَل میں ہے شبنم.....یعنی ہے کبھی گُل تو کبھی خارِ مجسّم.....ہو صبر پہ آمادہ تو سہہ جائے ہر اِک غم.....ہوجائے مخالف تو پلٹ دے صفِ عالم.....پابندِ وفا ہو تو دل و جان لٹُادے.....آجائے بغاوت پہ تو دنیا کو ہلادے۔

بلاشبہ عورت اپنے ہر رُوپ میں نہ صرف قابلِ عزّت و تکریم ہے، بلکہ لائقِ الفت و محبّت بھی ہے۔ دینِ اسلام سے قبل واقعتاً اس کا کوئی مقام و مرتبہ نہ تھا، لیکن اللہ کے آخری نبی حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد تو عورت کے حقوق و فرائض کا ایسا تعیّن، تقسیم کردی گئی کہ جو رہتی دنیا تک کے لیے مکمل اور مثالی ہے۔ تعلیماتِ دین پر عمل نہ ہو، وہ علیٰحدہ بات ہے، لیکن دینِ اسلام کو مرد و عورت میں تخصیص یا عدم مساوات کاموردِ الزام ٹھہرانا سراسر جھوٹ، مغربی پروپیگنڈا اور حقوقِ نسواں کی کچھ نام نہاد عَلم برداروں کا بلاوجہ کا واویلا، سیاپا ہے۔ اس ضمن میں معروف محقّق، اسکالر، ڈاکٹر محمّد رضی الاسلام ندوی کا ایک مقالہ ’’اسلام میں عورت کی مستقل حیثیت‘‘ پڑھنے سے تعلق رکھتاہے، جس میں انہوں نے قرآن و حدیث کے حوالہ جات کے ساتھ بہت مدلّل انداز میں ثابت کیا ہے کہ اسلام نے مرد و عورت کو برابر حیثیت دی ہے، ہاں البتہ ان کا دائرئہ کار علیٰحدہ رکھا ہے۔ 

دونوں کے کام، ذمّے داریاں الگ الگ ضرور ہیں، لیکن ایسا ہرگز نہیں کہ عورت کی کوئی مستقل حیثیت نہیں، وہ محض مرد کا ضمیمہ ہے یا اُسے مرد کا ماتحت، تابع، دستِ نگر بنا کر بھیجا گیا ہے۔ عورت، مرد ہی کی جنس سے ہے۔ دونوں کی تخلیق میں کوئی فرق نہیں۔ ارشادِ ربّانی ہے ’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اُس کا جوڑا بنایا۔ اور اُن دونوں سے بہت سے مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیئے۔‘‘ مومنانہ زندگی کے اوصاف اپنانے پر دونوں کے لیے یک ساں ثواب و انعام، آخرت میں برابر اجر کا استحقاق ہے۔ جیسا کہ کلامِ الٰہی میں ہے ’’مَیں تم میں سے کسی کا عمل ضایع کرنے والا نہیں ہوں۔ خواہ مرد ہو یا عورت۔ 

تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔‘‘ یہ ایک طے شدہ اصول ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں ذاتی مسئولیت ہوگی۔ جو راہِ راست اختیار کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، اجرکا مستحق ہوگا۔ یعنی بہرطور مرد و عورت کی حیثیت بالکل برابر، بس دائرئہ کار مختلف ہے۔ اور وہ بھی اس لیے کہ ایک خاندان، معاشرے کا پورا نظام خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے یہ تقسیم اشد ضروری تھی۔ تو، کم از کم اس ’’عالمی یومِ خواتین‘‘ پر اس بےسروپا، بےجہت ہاہاکار، پروپیگنڈے کاتو خاتمہ ہونا چاہیے کہ عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک میں خدانخواستہ دینِ اسلام کا کوئی عمل دخل ہے۔ کیوں کہ اسلام نے تو جس مضبوط و مستحکم خاندان کا تصوّر دیا ہے، اُس میں نہ صرف عورت کا کردار، اہمیت مسلّمہ ہے، بلکہ اِس چادر، چار دیواری میں تو وہ انتہائی محفوظ اور قابلِ صد احترام بھی ہے۔

اِمسال ’’عالمی یومِ خواتین‘‘ پر خصوصیت سے اُن تمام خواتین کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا جارہا ہے کہ جنہوں نے عالم گیر وبا، کورونا کے ایّام میں نہ صرف گھروں، اپنے کام کی جگہوں پر فرنٹ لائن ورکرز کا کردار ادا کیا، بلکہ لیڈر شپ (قیادت) کا کردار بھی نبھایا۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ اب اگلے کچھ برسوں بلکہ شاید طویل مدّت تک دنیا کو کووڈ۔19 کے ساتھ ہی گزارہ کرنا ہوگا، تو اس ’’کووِڈ ورلڈ‘‘ میں ایک عورت کی ذمّے داریوں، فرائض میں کچھ اور بھی اضافہ ہوگیا ہے، لہٰذا یہ موقع ہے، خواتین کی محنتوں مشقّتوں، خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا، نہ کہ ’’کھانا خود گرم کرلو، تمہارے باپ کی سڑک نہیں، اپنا ٹائم آگیا، مجھے کیا پتا تمہارا موزہ کہاں ہے، لو بیٹھ گئی صحیح سے، عورت بچّے پیدا کرنے کی مشین نہیں اور میرا جسم، میری مرضی‘‘ جیسی بے مقصد، واہیات اور سطحی قسم کی باتوں میں الجھنے کا۔ قصّہ مختصر، عورت ہر رنگ، ہر روپ میں باعثِ تکریم، لائقِ تحسین و الفت ہے۔ اور وہ جو زبان زدِ عام مقولہ ہے کہ ’’اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے‘‘ تو بہرکیف، عورت کو اپنی عزت خود ہی کروانی ہوگی، جو مقابل کو احترام و اکرام دینے ہی سے ملے گی، اُس کی عزت اُتارنے یا چھیننے سے ہرگز نہیں۔

سو، ہماری آج کی بزم دنیا کی اُن تمام خواتین کے نام ہے، جو اپنے ہر رشتے، ہر رُوپ کے تقدّس و پاکیزگی کا بھرپور خیال رکھتی ہیں۔ صرف حقوق ہی نہیں مانگتیں، فرائض نبھانا بھی جانتی ہیں۔ ’’عالمی یومِ خواتین‘‘ پر ہماری طرف سے ایسی ہر ماں، بہن، بیٹی، بیوی کی خدمت میں سلامِ عقیدت و ستایش اور ارشد محمود ارشد کے الفاظ میں یہ چھوٹا سا نذرانہ ؎ بنایا ہے مصوّر نے حسیں شہکار عورت کو.....الگ پہچان دیتا ہے کہانی کار عورت کو.....وہ ماں ہو، بہن، بیوی یا کہ بیٹی ہو، سنو لوگو.....ہر اِک کردار میں رکھا گیا غم خوار عورت کو.....یہی سچ مچ بنادے گی تِرے گھر کو حسیں جنّت.....ذرا تم پیار سے کرنا کبھی سرشار عورت کو۔

تازہ ترین
تازہ ترین