آپ آف لائن ہیں
بدھ یکم رمضان المبارک 1442ھ14؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عدلیہ نے واضح کردیا سینیٹ الیکشن آرٹیکل 226 کے تحت خفیہ رائے شماری سے ہونگے، قانونی ماہرین


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئےقانونی ماہرین نے کہاہے کہ سپریم کورٹ نے واضح کردیا ہے کہ سینیٹ الیکشن آرٹیکل 226کے تحت خفیہ رائے شماری سے ہوں گے۔

سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کوئی ابہام نہیں کہ سینیٹ الیکشن کیسے ہوں گے ،سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد نے کہا ہےکہ الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات شفاف بنانے کیلئے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا اب سینیٹ الیکشن کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی ہوگی، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے سے الیکشن کمیشن کے اختیارات میں اضافہ ہوا ہے۔

سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن حامد خان نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں آرٹیکل 226پر کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ہے،سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن رشید اے رضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کردیا ہے کہ سینیٹ الیکشن آرٹیکل 226کے تحت خفیہ رائے شماری سے ہوں گے۔

سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات میں بیلٹ قابل شناخت ہونا ضروری قرار نہیں دیا ہے، سپریم کورٹ کی رائے ہے کہ سینیٹ الیکشن آئین و قانون کے تحت ہوں گے۔ 

آئین کے آرٹیکل 226میں واضح ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے انتخابات کے علاوہ سیکرٹ بیلٹ ہوگا، عدالت نے 1967ء کے فیصلے میں کہا تھا کہ ناگزیر حالات میں ووٹ کا حق سیکریسی پر فوقیت لے جائے گا، یعنی اگر کوئی شخص معذور یا اندھا ہے اور اپنا ووٹ ڈالنے کیلئے کسی کی مدد لیتا ہے تو یہ سیکریسی پر کسی حد تک سمجھوتہ ہوگا لیکن اس کے ووٹ کا حق فوقیت رکھتا ہے، اگر کوئی شخص ان مشکلات کا شکار نہیں تو وہ ہرگز سیکریسی ختم نہیں کرسکتا۔ 

حامد خان کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن میں آرٹیکل 226پر کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ہے، سیکرٹ بیلٹ کیلئے الیکشن کمیشن کے اقدامات آئین و قانون کے مطابق ہوں گے، الیکشن کمیشن کو خوفزدہ کر کے سیکریسی ختم کرنا سپریم کورٹ کی رائے کا مقصد نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کی رائے کی غلط تشریح کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ کو قائل نہیں کرسکے لیکن اس کی رائے کی مختلف تشریحات کررہے ہیں۔ 

سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن رشید اے رضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کردیا ہے کہ سینیٹ الیکشن آرٹیکل 226کے تحت خفیہ رائے شماری سے ہوں گے، سپریم کورٹ نے جہاں آرٹیکل 218/3اور 222کے حوالے دیئے وہاں کنفیوژن ہورہی ہے۔

یہ دونوں آرٹیکل صدارتی ریفرنس کا حصہ نہیں تھے اس لئے سپریم کورٹ کو ان کا ذکر نہیں کرنا چاہئے تھا، قانون میں کہیں یہ بات نہیں کہی گئی کہ کوئی رکن اسمبلی سینیٹ انتخابات میں اپنی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہ دے تو یہ کرپٹ پریکٹس ہے۔ 

رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں جو موقف اختیار کیا اسی پر چلنا چاہئے۔ ماہر آئین و قانون سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو سینیٹ الیکشن قابل شناخت ووٹ سے کروانے کا پابند نہیں کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے سینیٹ الیکشن کا تمام معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان پر چھوڑ دیا ہے، راتوں رات نئے قواعد وضع کرنے کی بات بھی قواعد سازی کے عمل سے مذاق ہوگا، سینیٹ کے بیلٹ پیپر پر اگر بارکوڈ لگانا ہے تو اس سے بہتر ہے ووٹر کی تصویر لگادیں، اٹارنی جنرل اور حکومتی قانونی مشیروں کی رائے مان لی جائے تو آئین کے آرٹیکل 226کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ 

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں آئین کا انتخاب احترام ملحوظ رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا، سپریم کورٹ کی رائے کے بعد متانت اور ذمہ داری کے احساس کا مظاہرہ کیا جائے،الیکشن کمیشن فوری طور پر قانون میں تبدیلی نہیں کرسکتا ،3مارچ کے سینیٹ الیکشن شیڈول جاری کرتے وقت قانون کے مطابق ہی ہونے چاہئیں۔ 

سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کوئی ابہام نہیں کہ سینیٹ الیکشن کیسے ہوں گے ،سپریم کورٹ نے واضح کردیا ہے سینیٹ الیکشن آئین و قانون کے تحت ہوں گے، آئین کا آرٹیکل 226واضح کرتا ہے کہ سینیٹ الیکشن سیکرٹ بیلٹ سے ہوں گے۔

سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں جو دیگر باتیں کی ہیں صدارتی ریفرنس میں وہ سوالات اٹھائے ہی نہیں گئے، اس فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی کی رائے زیادہ منطقی، قانونی اور آئینی ہے،جسٹس یحییٰ آفریدی کہتے ہیں صدر پاکستان نے سپریم کورٹ کے سامنے ایسا کوئی سوال نہیں رکھا جس کا جواب دیا جاتا۔

اہم خبریں سے مزید