آپ آف لائن ہیں
اتوار5؍رمضان المبارک 1442ھ 18؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یوم خواتین پر ملک بھر میں ریلیاں، پارلیمنٹ ہاؤس میں تقریب

کراچی، اسلام آباد ( اسٹاف رپورٹر،جنگ نیوز،خبرایجنسیاں، نمائندگان جنگ)یوم خواتین پر ملک بھر میں ریلیاں، پارلیمنٹ ہائوس میں تقریب، مقررین کاکہناہےکہ گھر ہو یا دفتر، اسپتال ہو یا میدان جنگ، ہر شعبے میں خواتین نے اپنی صلاحیتوں کو منوایا ۔ تفصیلات کےمطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں عالمی یوم نسواں کے موقع پر انتہائی پروقار تقریب منعقد ہوئی، خصوصی خواتین کی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا،تقریب میں خصوصی خواتین رہنماؤں نے پاک فوج کی طرح سول حکومت سے معذور افراد کی مکمل کفالت کا مطالبہ کر دیا ، خواتین رہنماؤں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ خواتین سے زیادتی کے مجرمان کو اسلامی تعلیمات کے مطابق سزائیں دی جائیں، پارلیمنٹ میں خصوصی خواتین کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے، تقریب پارلیمنٹ ہاؤس کے وسیع سبزہ زار میں ہوئی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر مہمان خصوصی تھے، ملک بھر کی باصلاحیت خصوصی خواتین نے شرکت کی،کینیڈین سفیر نے بھی خطاب کیا جبکہ خواتین کی ترقی اور خوشحالی سے متعلق عالمی اداروں کی نمائندہ بھی موجود تھیں۔ تقریب میں نابینا پی ایچ ڈی ڈاکٹر عائشہ سلیم نے انتہائی موثر خطاب کیا،انہوں نے کہاکہ خواتین سمیت تمام طبقوں کے تحفظ کے لئے اسلام کے مطابق قوانین تو ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا، خواتین کی توہین کے مجرمان کو اسلامی تعلیمات کے مطابق سزائیں ملنی چاہئیں،ہم آگاہ ہیں کہ معذور افراد کے کیا مسائل ہیں، ان کے بارے میں قومی معاملات کے بارے میں خصوصی افراد کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کو یقینی بنایا جائے، انہوں نے کہا کہ اسلام نے تمام انسانوں بالخصوص خواتین کو جو حقوق دیئے ہیں وہ کہیں اور میسر نہیں، خواتین کے جائیداد میں حق کو تسلیم کیا گیا ہے، آئینی اور قانونی حقوق ملنے چاہئیں، پاک فوج میں جب کوئی دفاع وطن کے دوران معذور ہو جائے تو پاک فوج اس کے خاندان کی کفالت کرتی ہے، حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ اسی طرح معذور افراد کی کفالت اور ذمہ داری اٹھائے۔ا سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے خصوصی خواتین کو حقوق کی فراہمی کیلئے آئینی و قانونی تحفظ کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس طبقے کا خیال رکھے، پارلیمنٹ اپنی ذمہ داری ضرور ادا کرے گا اور آئندہ چند ماہ میں انتہائی موثر قانون سازی میں پیش رفت ہو گی، یقیناً خصوصی افراد کو پارلیمنٹ میں نمائندگی ملنی چاہئے میں حمایت کرتا ہوں۔ دوسری جانب یوم خواتین کے سلسلے میں کراچی سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں تقریبات، سیمینار کا انعقاد اور ریلیاں نکالی گئیں جن میں خواتین کے حقوق اور ان کے مسائل کو اجاگر کیا گیا،مقررین کاکہناتھاکہ گھر ہو یا دفتر، اسپتال ہو یا میدان جنگ، ہر شعبے میں خواتین نے اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے، خواتین کے عالمی دن کو منانےکا مقصد صنفی امتیاز کے خاتمے اور خواتین کے مساوی حقوق کے لیے کوششوں کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔کراچی پریس کلب کے باہر خواتین ڈاکٹرز، اساتذہ،وکلا، خاتون صحافی، طالبات اورورکنگ ویمن سمیت سول سوسائٹی ،سیاسی جماعتوں و دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنےوالے افراد نے ’’خواتین واک‘‘ میں شرکت کی، واک میں خواتین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے۔معروف سماجی شخصیت بلقیس ایدھی نے کراچی پریس کلب کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقد ہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صحافی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خواتین کے حقوق کے بارے میں لکھیں،تقریب سے پاکستان پیپلزپارٹی کی سیکرٹری اطلاعات و رکن قومی اسمبلی شازیہ مری ، جناح اسپتال کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی ، صوبائی وزیر ترقی نسواں شہلا رضا اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔فریئر ہال کراچی میں بھی عورت مارچ منایا گیا جس میں مختلف شعبوں سے وابستہ خواتین، نوجوان لڑکیوں، سول سوسائٹی سے وابستہ شخصیات، بچوں، بزرگ خواتین، خواجہ سرائوں سمیت مرد حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی، اسٹیج پر خواتین کی جانب سے خواتین کے حقوق سے متعلق نظمیں، گانے، تقاریر اور ایکٹ بھی پیش کیا گیا۔ پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے اپنے مطالبات کے حق میں خواتین نے خوب نعرے لگائے، پلے کارڈز پر مختلف نعرے درج تھے، اس موقع پر دھرنے میں شرکاء کا کہنا تھا کہ عورت اب بھی معاشرے میں اپنے جائز حقوق سے محروم ہے، عورتوں کا استحصال روکنے کیلئے اقدامات کئے جائیں اور انہیں تحفظ فرا ہم کرنے کیلئے قانون پر عملدرآمد کیا جائے۔تحریک نسواں کی سربراہ شیما کرمانی کا کہنا تھا کہ عورت مارچ کا مقصد صنفی انصاف کے مقصد کے لئے خواتین، خواجہ سراوں اور غیر صنفی افراد کو متحد کرنا اور شمولیت، وقار، آزادی اور مساوات کے اصولوں پر مبنی اجتماعی و معاشرتی تبدیلی لانا ہے ۔

اہم خبریں سے مزید