آپ آف لائن ہیں
پیر6؍رمضان المبارک 1442ھ 19؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

طالبان نے عبوری حکومت کی امریکی پیشکش مسترد کردی، صرف اسلامی نظام مسائل کا حل ہے، ترجمان

کابل (جنگ نیوز )افغان طالبان نے امریکا کی جانب سے عبوری حکومت کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر زور دیا ہے، دوسری جانب افغانستان کے وزیرِ داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات ابھی بھی برقرار ہیں اور ان کے جنگ سے دو چار ملک سے امریکی افواج کے جلد بازی میں کیے گئے انخلا سے دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق طالبان ترجمان امریکا کی عبوری حکومت کی پیشکش پر شکوک وشبہات کا اظہار کیا ہے،ان کا کہنا تھا کہ ایسی عبوری حکومت غیر موثر ہوگی،ترجمان محمد نعیم نے عرب میڈیا کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ طالبان کا گروہ ایسی عبوری حکومت پر یقین نہیں رکھتا،انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسے تجربات سے کچھ حاصل نہیں ہوا،ہم صرف مضبوط اور آزاد اسلامی نظام چاہتے ہیں جس سے ملک کے مسائل حل ہوجائیں۔انہوں نے ایک بار پھر افغانستان سے غیر ملکی فوجی انخلا کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے گزشتہ برس دوحا میں امریکا کے ساتھ معاہدے پر عمل کیلئے زور دیا۔دریں اثنا افغانستان کے وزیر داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے ساتھ تعلقات ابھی بھی برقرار ہیں اور ان کے جنگ سے دو چار ملک سے امریکی افواج کے جلد بازی میں کیے گئے انخلا سے دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔امریکی میڈیا کو ہفتے کو دیے جانے والے انٹرویو میں مسعود اندرابی کا کہنا تھا کہ افغان سیکیورٹی فورسز نے امریکی اشتراک سے افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو اب تک قابو میں کر رکھا ہے جن میں دہشت گرد تنظیم ʼداعش سے منسلک گروہ بھی شامل ہیں۔وزارتِ داخلہ میں دیے گئے انٹرویو کے دوران مسعود اندرابی کا مزید کہنا تھا کہ امریکی افواج کے جلد بازی میں انخلا سے یقینی طور پر دہشت گردوں سے دنیا کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔افغان وزیر داخلہ کی طرف سے یہ انتباہ ایسے وقت میں کیا ہے کہ جب امریکہ، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں طالبان کے ساتھ گزشتہ برس کیے گئے معاہدے پر نظرِ ثانی کر رہا ہے جس کے مطابق امریکہ، افغانستان میں تعینات اپنی 2500 فوجی اہلکاروں کا رواں سال یکم مئی تک انخلا کا پابند ہے۔مذکورہ معاہدے کے مطابق بدلے میں طالبان بھی القاعدہ جیسے گروہوں سے تعلقات ختم کرنے کے پابند ہوں گے۔امریکی حکام کا اس بارے میں تفصیلات بتائے بغیر کہنا تھا کہ اس ضمن میں کچھ ہیش رفت ضرور ہوئی ہے تاہم ان کے بقول مزید پیش رفت ہونا باقی ہے۔مسعود اندرابی نے امریکی وزیرِ خارجہ کی گزشتہ ہفتے کی گئی اس پپیشین گوئی کو چیلنج کیا کہ امریکی افواج کے انخلا سے طالبان مزید علاقوں پر قابض ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز بڑے علاقے پر کنٹرول برقرار رکھ سکتی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دور دراز کی چوکیوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے انہیں فضائی مدد درکار ہو گی۔مسعود اندرابی کا کہنا تھا کہ افغان سیکیورٹی فورسز دارالحکومت، شہروں اور ان علاقوں کو جو اس وقت ان کے کنٹرول میں ہیں، ان کے مکمل دفاع کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اہم خبریں سے مزید