• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

بے بدل اداکارہ، بے مثال شریکِ حیات فلم اسٹار ’’زیبا‘‘

فلم اسٹار زیبا کے پیکر حُسن کو فلمی شاعروں نے شامِ کشمیر سے تشبیہ دی، تو کبھی ان کے سراپا کو فلمی نغمہ نگاری کے طور پر یُوں بیان کیا گیا۔

’’ٹکڑا وہ چاند کا رخ زیبا کہیں جسے

دیکھا ہے اس کو حسن سراپا کہیں جسے‘‘

ایک موقع پر حمایت علی شاعر نے زیبا بیگم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ۔

’’مانا کہ حضور آپ ہزاروں میں حسین ہیں‘‘

کسی ادیب نے اُن کے حُسن کے بارے میں لکھا کہ زیبا اگر فرانس میں جنم لیتیں تو مادام پامپا ڈور کی طرح ادب کا موضوع بنتیں، کوئی زولا اسے ’’ناناں‘‘ جیسے اعلیٰ ناول کی ہیروئن بناتا۔ برصغیر پاک ہند کی فلمی ہیروئنز کے سراپا کے حُسن کی بات کی جائے تو ان میں زیبا بیگم کا نام سر فہرست ہوگا۔ ان کی تمام ہم عصر ہیروئنز جو آج حیات ہیں، ان کے مد مقابل زیبا کا چہرہ اور سراپا آج بھی گریس فل ہے۔ 

اس سدا بہار حسن کو کشمیر کی شاداب اور دلفریب خُوب صورت پہاڑوں اور پنجاب کے لہلہاتے سر سبز باغات اور بَل کھاتے ہو ئے دریائوں کے بانکپن سے اگر تشبیہ دی جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ زیبا کے والد اعظم خان کا تعلق کشمیر سے تھا اور ان کی والدہ لالی مشرقی پنجاب کے شہر انبالہ کی رہنے والی تھیں۔ کشمیر اور پنجاب سے تعلق بھی چوں کہ حُسن کی تعریف ہے۔

13اکتوبر 1943کو پیدا ہونے والی شاہین نے 1962میں ’’زیبا‘‘ کے نام سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز فلم ’’چراغ جلتا رہا‘‘ سے کیا۔ اداکاری کاشوق ان کو فلموں کی طرف لے آیا ۔ ابتدائی زمانے میں ان کی فیملی سٹی کورٹ کراچی کے قریب رہائش پذیر تھی۔ اس کے بعد یہ لوگ کراچی کے علاقے ناظم آباد شفٹ ہو گئے۔ فلم ساز و ہدایت کار فضل کریم فضلی نے انہیں پہلی بار ناظم آباد والے مکان میں دیکھا اور انہیں ’’زیبا‘‘ کا نام دے کر اپنی فلم میں کاسٹ کر لیا ۔ اداکار محمدعلی کی بھی ’’چراغ جلتا رہا‘‘ پہلی فلم تھی۔

فلم ’’چراغ جلتا رہا ‘‘ کے ساتھ زیبا کی دو نامکمل فلمیں ’’شام اودھ‘‘ اور ’’زندگی ‘‘ بھی بن رہی تھیں۔ یہ تینوں فلموں 1961میں شروع ہوئیں، صرف چراغ چلتا رہا، مکمل ہو کر 1962عیدالفطر کے بعد کراچی کے نشاط سینما میں ریلیز ہوئی۔

زیبا نے جس دور میں فلمی کیریئر کا آغاز کیا تھا، تو اس وقت شمیم آرا،حُسنہ اور نیلو کا دور تھا۔ شمیم آرا ان کی سب سے مضبوط حریف ثابت ہوئیں۔ زیبا نے بہت جلد اپنی دل کشی ،حُسن و رعنائی، اداکاری کے ذریعے ہر طرح کے کرداروں میں بہترین کردار نگاری سے اپنا مقام بنا کر صفِ اول کی ہیروئن میں اپنا نام شامل کر لیا۔اداکار محمد علی سے فلم ’’چراغ جلتا رہا ‘‘ کے موقع پر ملاقات ایک لازوال محبت کے قالب میں ڈھل گئی،علی زیب کی محبت نہ تو افسانوی ہے اور نہ ہی لوک داستانوں سے تعلق رکھتی ہے۔ نہ ہی کوئی ان دیکھی کہانی ہے۔اس محبت بھری داستان کو لوگوں نے نہ صرف کئی فلموں میں اپنی آنکھوں سے دیکھا، بلکہ ان دیکھی آنکھوں نے بھی اس محبت کے لمس و وجود کو محسوس کیا۔ 

سینما کے پردے پر فلم کی صورت میں گاتی مسکراتی اس محبت کو حقیق رنگ میں دیکھنے والی آنکھوں اور سننے والے کانوں نے بار بار دیکھا اور سُنا۔ دُنیا کی حسین و جمیل فلمی اور حقیقی جوڑی علی زیب کی محبت ایک زندہ جاوید محبت اور رشتے کی وجہ شامل ہے، جس کی نظیر تلاش کرنا بے حد مشکل ہے۔ زیبا اگر محبت کا پھول ہے، تو علی اس کی خُوش بُو، پھول اور خُوش بُو کی جوڑی فلم ’’ تم ملے پیار ملا ‘‘ کی شوٹنگ کے دوران حقیقی میاں بیوی کے طور پر سامنے آئے۔ ان دونوں کا چراغ پہلی فلم سے اس طرح جلا کہ پھر ایک عرصے تک وہ فلمی صنعت کو جگمگاتا رہا۔

زیبا بیگم نے فلمی دنیا میں دیگر ہیروز کے مدمقابل بھی ہیروئن کے کردار کیے، درپن کے ساتھ جب سے دیکھا ہے تمہیں، باجی، بالم، اداکار کمال کے مدِمقابل دل نے تجھے مان لیا،توبہ، آشیانہ، ایسا بھی ہوتا ہے، شبنم، جوکر ،درد دل، سہاگن میں پسند کی گئیں۔ جنگجو ہیرو سدھیر کے ساتھ باغی سپاہی،جوش، کوہ نور ،مفرور میں وہ ہیروئن آئیں۔ محمد علی سے قبل وہ سدھیر کی بیوی بھی بنیں، مگر بہت جلد طلاق ہو گئی، جن دِنوں زیبا اداکارہ کے طور پر متعارف نہیں ہوئیں صرف شاہین تھیں، تو کراچی میں ان کی شادی ہوئی تھی، جن سے ان کی بیٹی ثمینہ پیدا ہوئیں ۔

زیبا وہ واحد کام یاب ہیروئن ہیں، جو ایک بچی کی ماں ہونے کے باوجود بھی کام یاب رہیں۔ جب ان کی پہلی فلم ’’چراغ جلتا رہا ‘‘ ریلیز ہوئیں تو اس وقت ثمینہ کی عمر بہت کم تھی ،ثمینہ ان کی واحد اولاد ہے۔ محمدعلی نے ثمینہ کو ہمیشہ اپنی سگی اولاد سے بھی زیادہ چاہا اور ایک باپ ہونے کے ناطے اس کے تمام حقوق پورے کیے۔

پاکستان کے سب سے مشہور رومانی چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کے ساتھ زیبا کی جوڑی ہیرا اور پتھر ،عید مبارک، کنیز، جاگ اٹھا انسان، احسان، ماں باپ ، رشتہ پیار کا ‘نامی فلموں میں بے حد پسند کی گئی۔ وحید مراد کے ساتھ سپر ہٹ کام یاب فلم ارمان کو پاکستان کی پہلی پلاٹینم جوبلی کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ یہ فلم 1966میں نمائش پذیر ہوئی۔ لیجنڈ اداکار ندیم کے ساتھ زیبا نے فلم دامن، اور چنگاری اور پالکی میں ہیروئن کے روپ جلوہ گر ہوئیں ۔

زیبا بیگم کی اب تک ریلیز فلموں کی تعداد93ہے، جن میں59فلموں میں انہوں نے محمد علی کی ہیروئن کے کردار کیے، جو ایک عالمی ریکارڈ ہے اور آج تک قائم ہے۔ اپنے پورے کیریئر میں زیبا نے نہ صرف ایک پنجابی فلم ’’ مہندی والے ہتھ ‘‘میں ہیروئن کا کردار کیا، جس کے ہدایت کار ایس سلیمان تھے اور یہ فلم 1963میں کراچی کے پلازہ سینما میں ریلیز ہوئی تھی۔

1974میں زیبا اور محمد علی کو جرمن کے اشتراک سے بننے والی جوائنٹ ونچر فلم ’’ٹائیگر گینگ ‘‘ کو لیڈنگ رولز کے مواقع ملے۔ ایک بھارتی فلم ’’کلرک ‘‘ میں بھی زیبا اور محمد علی کے کام کیا۔

زیبا کی فلموں میں ان کی کردار نگاری کےحوالے سے 1964میں ریلیز ہونے والی فلم’’رواج‘‘ وہ پہلی فلم تھی، جس میں انہوں نے ایک ایسی لڑکی کا کردار کیا، جس کی شادی بچپن میں ہو جاتی ہے۔ رضیہ کا یہ کردار ان کے فلمی کیریئر میں بڑی اہمیت کا حامل رہا، جو اپنے شرابی اور جواری شوہر اسلم پرویز کا ظلم سہتی ہے۔ 

یہ علی زیب کی بطور ہیرو ہیروئن پہلی فلم تھی۔ حمایت علی شاعر کی گھریلو فلم ’’لوری‘‘ میں ان کا کردار اپنی سہیلی کو دیئے ہوئے قول کا پاس نبھانے والی ایک ایسی عورت کا تھا، جس نے سہیلی کے مرنے کے بعد اس کے معصوم بچے کی خاطر اپنی محبت کی قربانی دے کر اس کی ماں بن جاتی ہے۔ ہدایت کار ایس ایم یوسف کی فلم ’’’آشیانہ ‘‘ کے بعد فلم ’’بہو رانی‘‘ میں ان کے کردار کی مثال نہیں ملتی۔ 

ایک غریب گھر کی بیٹی ہونے پر اسے فخر تھا اور اپنی ذہانت سے وہ کس طرح وہ اپنے خاندان کی عزت اور وقار کو بچاتی ہے۔ فلم ’’ارمان‘‘ کی یتیم لڑکی کے کردار میں بڑی اعلیٰ معیار کی کردار نگاری سے اپنی فنی صلاحیتوں کا اعتراف سال کی بہترین اداکارہ کا نگار ایوارڈ حاصل کر کے کروایا ۔ 1970میں شباب کیرانوی کی اسلامی گھریلو معاشرتی سپر ہٹ فلم ’’ انسان اور آدمی ‘‘زیبا کا کردار نہ صرف پیچیدہ تھا، بلکہ تہ در تہہ نرم و ناک انسانی جذبات اور آنسوئوں سے چھلکتا ہوا تھا۔ یہ اس انسانیت کی علامت ہے،جو خاک بسر ہونے کے باوجود اپنی عظمت سے آگاہ ہوتا ہے۔ اس فلم میں یہ کردار ان کی فنی زندگی کا سب سے بڑا اور اہم تھا، اپنے محبوب رضیہ کو ’’بدنامی اور رسوائی کے اس جملے میں پہنچا دیا۔ جہاں اس کے نغمے سننے والے تو بہت تھے، لیکن اس کی آواز اور پکار سننے والا کوئی نہ تھا۔ وہ رو رو کر کہنے لگی:

’’وہ آنچل ہو جس کی ہوا بک گئی ہے

وہ نغمہ ہو جس کی صدا بک گئی ہے

تڑپتا سسکتا ہوا اک دل ہو

جسے نہ سننے کوئی وہ التجا ہو

زمانے کی نظروں میں میں بے وفا ہوں‘‘۔ اس فلم میں زیبا کی کردار نگاری اس کی فنی عظمتوں کی گواہی دیتی ہے۔ یہ پہلی فلم تھی، جس میں وہ ینگ ٹو اولڈ رول میں جلوہ گر ہوئی تھیں۔ زیبا اپنے اس کردار میں ایک ایسی مظلوم عورت کےروپ میں نظر آئیں، جو معصوم ہے، زمانے کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے اس المیہ کردار کو بڑی عمدگی اورفطری انداز میں ادا کیا۔ خاص طور پر چہرےکے تاثرات کے اظہار میں جس قدر مہارت کا ثبوت دیا، وہ ان کے فن کی بھر پور صلاحیتوں کی غمازی کرتا ہے۔

اسی طرح فلم ’’انصاف اور قانون‘‘ میں امیر زادی سفینہ کا کردار بھی ان کے فلمی کرداروں میں ایک خوب صورت اضافہ تھا۔ انسان اور آدمی کے بعد ایک مرتبہ پھر وہ اس فلم میں فن کی بلندیوں پر نظر آئیں۔ فلم ’’افسانہ زندگی کا‘‘ جس کی کہانی میں انسانی احساسات اور جذبات کی عکس بندی کی گئی تھی۔ اس فلم میں ان کی اداکاری اور کردار کو دیکھنے کے بعد تجزیہ نگاروں نے یہاں تک کہہ دیا کہ زیبا نے اپنی فنی کیریئر کا سب سے بڑا کردار اس فلم میں ادا کیا، یہ کردار ذہنی امراض کی ایک شفیق اور فرض شناس ڈاکٹر رضیہ کا تھا ۔ 

محمد علی نے نفسیاتی مریض کا یاد گار کردار ادا کیا تھا۔ زیبا ڈاکٹر کی حیثیت میں ان کی معالج بن کر آتی ہے۔ اور پھر اسے ایک نئی زندگی سے ہمکنار کرتی ہے۔ رضیہ بٹ کے ناول ’’تمنا‘‘ کو جب ہدایت کار ایس سلیمان نے فلم ’’محبت ‘‘ کو نئے انداز سے فلمایا تو زیبا کو ’’تمنا‘‘ کا کردار سوپنا۔ اور اس کردار کو انہوں نے اپنی عمدہ اداکاری سے یاد گار بنا دیا۔

زیبا نے کبھی بھی زیادہ فلموں کا لالچ یا فلمیں حاصل کرنے کے لیے وہ طریقے نہیں اپنائے، جس سے انسانی وقار کو نقصان پہنچے۔

29ستمبر 1966ء کو زیبا، محمد علی کے نکاح میں آگئیں۔ اداکار آزاد جو ان دنوں اسٹیرن اسٹوڈیو کے قریب رہا کرتے تھے، ان کے گھر میں یہ نکاح ہوا۔ دُلہن زیبا کی طرف سے آزاد صاحب کے سرپرستی کے فرائض انجام دیے، جب کہ محمد علی کے بڑے بھائی ارشاد علی اپنے بھائی کے سرپرست سے قاضی سید احتشام علی نے 37ہزار حق مہر کے ساتھ اس نکاح کو پڑھوایا ۔ اس نکاح کے سارے انتظامات آزاد کے بھائی امین قریشی نے نبھالے۔

آزاد کی بیٹیوں نے زیبا کو دُلہن بنایا، جب کہ محمد علی کو آزاد کی دونوں بیویوں نے دولہا کا روپ دیا، آزاد کے ایک عزیز عتیق عالم، محمدعلی کے بھائی ارشاد علی اور آزاد کے صاحب زادے انیس آزاد نے نکاح میں گواہ اور وکیل کی ذمے داریاں نبھائیں۔ نماز ظہر کے بعد تین بجے یہ نکاح ہوا۔ جب زیبا ، محمد علی کے سامنے دلہن کے روپ میں آئیں تو ان کے لبوں پر بے اختیار یہ گیت آگیا۔

’’گوری کے سر پہ سج کے سہرے کے پھول کہیں گے…تم ملے پیار ملا رہے۔‘‘

شادی کے بعد جس طرح ازدواجی زندگی میں میاں بیوی کی حیثیت سے انہیں کام یابی ملی، اسی طرح فلمی دُنیا میں ہیرو ہیروئین بھی ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ جو فلمی تاریخ میں ایک ایسا ریکارڈ ہے جو آج تک کسی اور فلمی میاں بیوی کو حاصل نہ ہوا۔علی کی بیوی بن کر زیبا نے ان کے گھر اور زندگی کو خُوب سنورا۔ جن فلموں میں صرف محمد علی کام کر رہے تھے، تو زیبا خود اپنے ہاتھوں سے کھانا تیار کرکے ان فلموں کے سیٹ پر لے جایا کرتی تھیں۔ دونوں نے مل کر اپنا پروڈکشن آفس بنایا جس کے تحت ’’آگ‘‘ اور’’جیسے جانتے نہیں‘‘ فلمیں بنائی گئیں۔ ’’آگ‘‘ ان کی بے حد سپرہٹ اور یاد گار فلم تھی، جس نے شان دار گولڈن جوبلی منائی۔ 

شادی کے بعد زیبا نے اپنے آپ کو ایک ایکسٹریس سے زیادہ بیوی کے طور پر منوایا۔ ایک موقع پر خود محمد علی نے زیبا کی اس قربانی کے بارے میں کہا تھا ’’زیب اگر میری بیوی نہ ہوتیں تو میں آج فٹ پاتھ پر ہوتا‘‘ علی زیب اپنے رکھ رکھائو اور ادبی ذوق اور شوق کی بناء پر فلمی دنیا کے علاوہ سیاسی شخصیات میں بھی بے حد مقبول رہے۔ ہر دور میں حکومتی سطح پر ان کی اہمیت اپنی جگہ قائم رہی۔ 

جہاں علی زیب کی رہائش تھی، گلبرگ کی اس سڑک کا نام علی زیب شاہراہ رکھنا خود اس بات کی دلیل ہے ۔ ان کا گھر علی زیب ہائوس کا شمار ایک دور میں لاہور کے سب سے بڑے اور خُوب صورت مکان کے طورپر ہوتا تھا۔ جسے محمد علی کی وفات کے کچھ عرصے بعد زیبا نے فروخت کر کے اپنی رہائش گاہ کہیں اور شفٹ کر لی۔

محمد علی کی وفات کے بعد ایک بار زیبا بیگم نے اپنے تاثرات میں کہا تھا کہ علی نے ساری زندگی میری ہاں میں ہاں ملائی، زندگی کے اہم فیصلوں میں مجھے اہمیت دی۔ ہرحال میں اپنے نام کے ساتھ میرے نام کو جوڑے رکھا۔ میں نے انہیں محبوب کے روپ میں ایک بےمثال محبوب پایا، شوہر کے روپ میں وہ دنیا کے ایک ایسے شوہر تھے ، جنہیں ماڈل شوہر کہا جا سکتا ہے۔ وہ ایک بے مثال دوست تھے، جو اپنے دوستوں کی تکلیف پر تڑپ اٹھتے تھے ۔ وہ ہر ممکن ان کی مدد کے لیے حاضر ہوتے تھے۔

میری زندگی علی کی محبت اور ان کی یادوں سے عبارت ہے۔ ان کی یاد نہ ہو تو شاید دل سانس لینا بھول جائے۔ میں زندہ ہوں ، کھاتی ہوں پیتی ہوں، لیکن مجھے علی کے بغیر بس یوں محسوس ہوتا ہے جیسے؎

’’ہم اپنی زندگی تو بسر کر چکے رئیس

کسی کی زیست ہے جو بسر کر رہے ہیں ہم‘‘

تازہ ترین
تازہ ترین