• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:تحریرسفیان وحید صدیقی۔۔کراچی
قرآنِ پاک مسلمانوں کے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہے ۔ اُمت کے بہترین فیصلوں کے لئے عملی اقدامات کے لئے ہدایات قرآنِ پاک سے ہی لئے جانے چاہئیںنہ کے دنیاوی قوانین سے جو محض حکمرانوں کی سیاسی مجبوریوں کا تحفظ کرتے دکھائی دیتے ہوں وہ فیصلے زیادہ افضل ہواکرتے ہیں ہیں جو دین کی راہ پر چل کر کئے جائیں۔ وہ مکالمہ آج بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہے جب عہدِ خلافت حضرت عمر رضی تعالی عنہ ُکے زمانے میں بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا گیا تھا لیکن فتح کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی تب عیسائی پوپ نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اے مسلمانوں تم قیامت تک بھی یہاں پڑے رہوگے توبھی یہ شہر فتح نہ کر پاؤگے البتہ تم میں ایک درویش بادشاہ ہےجس کے ہاتوں یہ شہر فتح ہونا ہے لیکن وہ ہمیں تمہارے درمیان نظر نہیں آرہا ہے تب ابوعبیدہ رضی تعالی عنہ نے کہا تھاکہ وہ درویش بادشاہ مدینہ میں ہیں۔ یوں حضرت عمر ؓ کی یرو شلم آمد پر بغیر کسی خون خرابے کے یہ شہر فتح ہوا ۔ درویش بادشاہ حضرت عمر ؓ کا تذکرہ عیسائیوں کی اُن مقدس کتابوں میں تھاجن کو وہ مستند مانتے ہیں۔اس موقع پر حضرت عمرؓ نے ایک نرمی د کھائی کہ اس شہر کو یہودیوں کے لئے اُوپن سٹی قراردیا حالانکہ اس سے پہلے عیسائیوں نے یہودیوں کے یہاں آنے تک پر بھی پابندی لگائی ہوئی تھی ۔ جب حضرت عمرؓ نے اس شہر یعنی یر وشلم کو اُوپن سٹی قرار دیا تو عیسائیوں نے حضرت عمرؓ سے درخواست کی اور یہ لکھوایا کہ یہودی یہاں زیارت کے لئے آ تو سکتے ہیں لیکن یہاں ہر گز آباد نہ کئے جا ئیں گے۔ مسلمانوں نے حضرت عمرؓ کی خلافت میں یہودیوں پر یہ احسان عظیم کیا کہ یہودی مقام مقدسہ میں عبادت اور زیارت کے لئے آسکتے ہیں لیکن عیسائیوں نے اپنی قدیم دشمنی کے باعث یہود کو فلسطین میں آباد ہونے سے ر کوا دیا۔ یوں عیسائیوں اور یہودیوں کے آپس کا یہ جھگڑاآج بھی ہے جسے کم کرنے کے لئے کئی راستے نکالے جاچکے ہیں ۔ عیسائی اب یہ چاہتے ہیں کہ Balfour Declaration کو عملی جامعہ پہنایا جائےلیکن جو طریقہ کار جنگ و جدل کے ذریعے اپنایاجارہا ہے وہ انسانیت کے برخلاف ہے اور یہاں مسلمانوں کو بھی یہ خطرات اب واضح د کھائی دے رہے ہیں کہ اس Balfour Declaration کوعملی جامعہ پہنانے کی آڑ میں یہودی اور مسلمان مقام مقدسہ پر جنگ محض لڑجا ئیں گے اس میں فتح کسی کے ہاتھ بھی نہیں لگے گی۔ جنگ میں خون صرف مسلمانوں اور یہودیوں کا ہی بہے گا جبکہ عیسائی تماشہ د یکھتے رہیں گے ۔ایسے میں وہ جو بتوں کی پرستش کرتے آرہے ہیں ا ن کا اتحاد عیسائیوں سے ہوجائےگا اس گروہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے جو صیہونی قوت کہلاتے ہیں اور جنہوں نے مسلمانوں کی فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔اِدھر بُت والوں نے مقبوضہ کشمیر پر مسلمانوں کی سرزمین پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے اور دونوں ہی قابض قوتیں عالمی قوانین کے خلاف جانے پر ملزم کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ جب حضرت محمد مصطفی ﷺ نے بتوں کی پرستش کرنے والے لوگوں کے ستائے جانے پر مکہ سے مدینہ ہجرت کی۔ تب بھی آپؐ بیت المقدس کی ہی طرف رُخ کر کے نماز ادا کیا کرتے تھے لیکن کئی روایت میں آیا ہے کہ16یا17مہینے عبادت کا یہ سلسلہ بیت المقدس کی جانب رُخ کر کے اداکرنے کا چلا جب تک کہ یہ حکم الٰہی نہیں آیا تھا کہ مسلمان کعبہ کی جانب رُخ کر کے نماز ادا کریں ۔ جونہی حکم الہی نماز ظہرین کے درمیان یہ حکم الٰہی آیا کہ اے نبی ؐ آپ اپنا رُخ بیت المقدس سے ہٹا کر خانہ کعبہ کی جانب کرلیں تب سے دنیا کے مسلمان جہاں کہیں بھی آباد ہیں وہ اللہ کی عبادت کے لئے خانہ کعبہ کے ہی جانب رُخ کرتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے ۔ سو وہ فیصلہ جو دین نے مسلمانوں کو حکم الٰہی پر سختی سے معمور کردیا ہے ۔وقت آگیاہے کہ اب مسلمانوں کو چاہئے کہ یروشلم پہنچ کر عین آپ ﷺ کی شریعت پر چلتے ہوئے نماز خانہ کعبہ کی جانب رُخ کر کے ادا کرلیں کیونکہ یہی دین کے بڑے فیصلے ہیںجس کا واضح تذکرہ قرآن پاک میں موجود ہے۔خانہ کعبہ ہی مسلمانوں کا اصل قبلہ ہے۔تاہم مقام مقدسہ کی اہمیت و احترام سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن خانہ کعبہ جس کی بنیاد بابائے آدم حضرت آدم علیہ سلام نے حکم الٰہی پر رکھی تھی۔ قبلہ کی تبدیلی ہی درحقیقت ایک نئی اُمت کا ظہور تھا جس پر یہودیوں کو یوں تحفظات ہوئے کہ جس قبلہ پر وہ متوجہ ہوتے ہیں آپؐ بھی اس ہی قبلہ کی جانب رُخ کر کے عبادت کیا کرتے ہیں سو تب یہودی خود کو طاقت ور سمجھتے تھےلیکن تبدیلی قبلہ کے بعد ایک نئی امُت کے ظہور پر یہودی سیخ پا تھے اور ہر طرف سازش کا جال اور مفروضوں کو پھیلانے لگے تھے۔تاہم آج دیکھا جائے تو ایک جانب وہ بُت والے اور وہ جو شرک خُدا کرتے ہیں وہ امن کے برقرار کرنے کو طاقت کے ذریعے ہی عملی جامع پہنانے کو حکمت عملی سمجھتے ہیں جبکہ درحقیقت وہ مظلوم انسان کی آواز حق کو بزور قوت ختم کرنے کو امن کہتے ہیںجہاں وہ اپنے اختیار و اقتدار قائم کرلینے پر مظلوموں کو طاقت کے خوف سے اُن کی آواز کو دفن کرنا اپنی زندگی کا اصل مقصد سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب مسلم حکمرانوں کی دنیاوی مجبوریوں اور کمزوریوں کو پا کر ابراہم معاہدے کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔ ساتھ سیاسی اور جنگی حکمت عملی اپنا رہے ہیں،اس سے یہ صاف واضح ہوہا ہےکہ یہ پہلے سمندری علاقوں کو اپنی گرفت میں لینا چاہتے ہیں اور یہاں تک کہ یہ کعبہ کی جانب میلی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں ۔امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دور اقتدار کے آخری مراحل میں یہ کہتے دکھائی دیئے کہ’’ عرب اور اسرائیلی، مسلمان ، یہودی اور عیسائی اکٹھے رہ سکتے ہیں، اکٹھے عبادت کرسکتے ہیں اور اکٹھے خواب دیکھ سکتے ہیں‘‘ جبکہ ٹرمپ کی گفتگو میں کوئی ایسا بنیادی نقطہ نہیں تھا جس پر اتفاق کی کوئی فضاء پیدا ہوسکے۔سو اس پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں اب تک کوئی آواز سنائی نہیں دی۔ہم یعنی مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ برطانیہ سمیت دیگر ممالک مشرق وسطیٰ کے مسئلہ کے حل کے لئے ماضی کے اُن فیصلوں کو دہرائیں جن پر چلتے ہوئے خود پوپ جو عیسائیوں کے مذہبی رہنما ہیں نے حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں جس طرح یروشلم مسلمانوں کے حوالے کیا تھا اور صرف اس بنیاد پر کہ عیسائیوں کی کتاب مقدسہ میںیہ لکھا ہوا تھا کہ یروشلم مسلمانوں کے درویش بادشاہ کے ہاتھوں فتح ہونا ہے سو اس کی روح پر عمل کیا گیا تاہم اُسوقت جو فیصلہ حضرت عمرؓ نے کیا کہ یروشلم کو یہودیوں کے لئے بھی اُوپن سٹی قرار دیا تب سب کچھ امن میں رہا آج UN کا مشرق وسطیٰ کے مسئلے کے حل کے لئےفیصلہ کسی حد تک حضرت عمرؓ کے فیصلے کے قریب ترہے لیکن صیہونی قوت کا فلسطینی سرزمین پر قبضے کاخاتمہ اوریہاں سے انخلاا دنیا میں پائیدار امن کے لئے لازم ہوگا ۔
تازہ ترین