• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صبا احمد

آج کل پورے شہر میں مچھروں کی وجہ سے لوگوں کا رات کو چین سے سونا مشکل ہورہا ہے، پھر اس پرلائٹ کا بار بار غائب ہوجانا ان کی راتوں کی نیند اڑا رہا ہے، ایسے میں مچھروں کی یلغار کیا ستم ڈھاتی ہے، کیا کہنے، اگر آپ کے ہاتھ پائوں پر مچھر آکر بیٹھ جائے تو ذرا بہ غور مطالعہ کریں، کثرتِ خوراک سے ان کے سائز مکھی کے سائز جتنا نظر آئے گا۔

شہری اداروں کے حکام اس بات سے بہ خوبی آگاہ ہیں کہ مچھروں کی وجہ سے لوگوں کی محض نیند ہی خراب نہیں ہوتی بلکہ ڈینگی وائرس، ملیریا اور بعض دیگر مہلک بیماریوں کے پھیلنے کا بھی اندیشہ رہتا ہے، جو جان لیوا بھی ثابت ہورہی ہیں۔ تعجب ہے کہ کراچی جیسے بڑے اور باوسیلہ شہر میں شہریوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ 

اگر شہر کے گلی کوچوں کی صفائی کا مؤثر انتظام کیا جائے تو مچھروں کی افزائش کا مسئلہ ہی پیدا نہ ہو۔ جس انداز سے خاکروب سڑکوں پر جھاڑو لگا رہے ہوتے ہیں، اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جھاڑو کی محبت سے سرشار ہو کر اسے استعمال ہی نہیں کرنا چاہتے۔ 

مچھر مار دوائوں کا اسپرے بھی باقاعدہ نہیں کیا جاتا۔ ڈینگی وائرس کا پھیلائو بڑھا تو انجانے راستے سے ایک گاڑی سفید دھواں اُڑاتی اور جراثیم کش دوا کے نام پر شہریوں کی سانسیں بند کردیتی ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اسی دن مچھروں کی یلغار زیادہ ہوتی ہے اور پھر رات کے وقت بجلی کا بار بار بند ہونا سونے پر سہاگہ۔ 

مچھروں کو دعوت عام ہوجاتی ہے، مچھر انسانی جسم پر مالِ غنیمت سمجھ کر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ متعلقہ اداروں کو ان بنیادی شہری اور انسانی ضرورت کے کاموں پر توجہ دے کر شہریوں کو تکلیف دہ صورت حال سے نجات دلانی چاہیے۔ فرائض سے غفلت کا افسوس ناک رویہ ترک کردینا چاہیے۔