آپ آف لائن ہیں
ہفتہ4؍رمضان المبارک 1442ھ 17؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

الطاف حسین حالی

شادی کے بعد ……

غالباً1909ء کی بات ہے کہ مولوی محمد یحییٰ تنہا، وکیل میرٹھ نے مولانا حالی ؔ کو اپنی شادی میں پانی پت بلایا ۔ شادی کے بعد مولانا حالیؔ اور مولوی محمد اسمٰعیل میرٹھی اور بعض دوسرے بزرگ بیٹھے آپس میں گفتگو کررہے تھے کہ مولانا محمد اسماعیل میرٹھی نے مسکراتے ہوئے مولوی محمد یحییٰ تنہاؔ سے کہا: ’’اب اپنا تخلص بدل دیں ، کیوں کہ اب آپ ’تنہا ‘نہیں رہے ۔‘‘ اس پر مولانا نے فرمایا۔’’نہیں مولوی صاحب یہ بات نہیں ۔ تنہا تو یہ ابھی ہوئے ہیں ۔‘‘ اس پرتمام مجلس مولانا حالیؔ کی جودتِ طبع پر حیران رہ گئی ۔

……٭…٭…٭…٭…٭……

مجذوب کا رد عمل اور مولوی کی مسکراہٹ:

مولانا حالیؔ کے مقامی دوستوں میں مولوی وحید الدین سلیم(لٹریری اسسٹنٹ، سرسید احمد خاں) بھی تھے ۔جب یہ پانی پت میں ہوتے تو روزانہ مولانا حالیؔ کے پاس جاکر گھنٹوں بیٹھا کرتے تھے ۔ ایک روز صبح ہی صبح پہنچے۔ مولانا نے رات کو کوئی غزل کہی تھی، وہ ان کو سنائی ۔ سلیم سن کر پھڑک اٹھے اور کہنے لگے ، ’’مولانا واللہ ،جادو ہے ۔‘‘ مولانا کے بالاخانے کے نیچے ایک کوٹھڑی تھی ، مولانا نے ایک مجذوب فقیر کو رہنے کے لیے دے رکھی تھی ۔ وہ مجذوب باہر گلی میں بیٹھا دھوپ تاپ رہا تھا ۔ جب اس کے کان میں یہ فقرہ پڑا تو بے اختیار چلا اٹھا ’’جادو برحق، کرنے والا کافر۔‘‘ مولانا نے مسکراکر سلیم سے کہا ’’لیجئے مولوی صاحب، سرٹیفکٹ مل گیا ۔‘‘

……٭…٭…٭…٭…٭……

ہالی موالی کا مولوی ہونا:

ایک مرتبہ مولانا حالیؔ سہارن پور تشریف لے گئے اور وہاں ایک معزز رئیس کے پاس ٹھہرے جو بڑے زمیں دار بھی تھے ۔ گرمی کے دن تھے اور مولانا کمرے میں لیٹے ہوئے تھے۔اسی وقت اتفاق سے ایک کسان آ گیا ۔ رئیس صاحب نے اس سے کہا: ’’یہ بزرگ جو آرام کررہے ہیں ان کو پنکھا جھل ‘‘ وہ بے چارہ پنکھا جھلنے لگا ۔ تھوڑی دیر بعد اس نے چپکے سے رئیس صاحب سے پوچھا کہ’’ یہ بزرگ جو آرام کررہے ہیں ، کون ہیں ؟ میں نے ان کو پہلی مرتبہ یہاں دیکھا ہے ۔‘‘ رئیس نے جواب دیا ’’کم بخت تو ان کو نہیں جانتا ، حالاں کہ سارے ہندوستان میں ان کا شہرہ ہے ۔ 

یہ مولوی حالیؔ ہیں ۔‘‘ اس پر غریب کسان نے بڑے تعجب سے کہا۔’’جی کبھی ہالی(ہالی موالی) بھی مولوی ہوئے ہیں؟‘‘۔ مولانا لیٹے تھے ، سو نہیں رہے تھے ۔ کسان کا یہ فقرہ سن کر پھڑک اٹھے، فوراً اٹھ کر بیٹھ گئے اور رئیس صاحب سے فرمانے لگے، ’’حضرت اس تخلص کی داد آج ملی ہے ۔‘‘