آپ آف لائن ہیں
ہفتہ4؍رمضان المبارک 1442ھ 17؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

معیشت کی مکمل بحالی کیلئے کورونا سرٹیفکیشن پر غور کرنا ضروری ہے، ویکسین منسٹرز

لندن(پی اے) ویکسین سے متعلق امور کے وزیر ندیم ضحاوی نے کہا ہے کہ معیشت کی مکمل بحالی کیلئے حکومت کی جانب سے کووڈ سرٹیفکیشن پر غور نہ کرنا حکومت کی غلطی ہوگی اس پر غور کرنا ضروری ہے ،انھوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ہمیں اپنی زندگی معمول پر لانے کیلئے تمام دستیاب آپشنزپر غور کرنا چاہئے۔ حکومت کا کہناہے کہ ویکسین لگوائے جانے کے سرٹیفکٹ وائرس سے پاک ہونے کی یقین دہانی ہوں گے۔ پیر کو اپنی تقریر میں وزیر اعظم بورس جانسن نے بھی اس کو خارج از امکان قرار نہیں دیا لیکن بہت سے ارکان پارلیمنٹ نے اس پر تنقید کی ہے، ٹوری پارٹی کے سینئر رکن مارک ہارپر نے اس مسئلے پر ووٹنگ کرانے کی تجویز دی ہے ،بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے ندیم ضحاوی نے کہاکہ کسی بھی سرٹیفکٹ میں ویکسین کے بجائے تمام دستیاب ٹیسٹ کے رزلٹ موجود ہوں گے ،تاہم انھوں نے کہا کہ 12 اپریل آئوٹ ڈور مہمانداری اور غیر ضروری اشیا کی دکانیں کھولنے اور 17 اپریل سے ہوٹلوں میں کھانے پینے کی اجازت کیلئے اس کی ضرورت نہین ہوگی۔حکومت کے سائنسی مشیروں کی جانب اندرون خانہ لوگوں کے میل جول سے وائرس پھیلنے اور لوگوں کے ہسپتالوں میں داخل ہونے کی شرح میں اضافے کے حوالے سے دی گئی وارننگ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے انگلینڈ کیلئے جاری کردہ روڈ میپ میں 5 ہفتے کاوقفہ دیاگیاہے ۔ انھوں نے بتایا کہ برطانوی حکومت اسکاٹ لینڈ،ویلز اور شمالی آئرلینڈ سے یکساں طرز عمل اختیار کرنے کے حوالے سے بات چیت کرہی ہے ،وزیر اعظم بورس جانسن انگلینڈ کیلئے پبلک ہیلتھ کے قوانین طے کرسکتے ہیں لیکن برطانیہ کی بااختیار اکائیوں کو اس حوالے خود اپنے فیصلے کرنے کا اختیار ہے۔ابھی تک کورونا کے سرٹیفکٹ متعارف کرانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیاگیاہے لیکن حکومت نے اپنے جائزے کا اپ ڈیٹ شائع کردیا ہے ،اس میں کہاگیاہے کہ یہ لوگوں کے تھیٹر،نائٹ کلبس اور ایسی تقریبات میں شمولیت کا اجازت نامہ ثابت ہوں گے جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہوں۔اور اس سے ہوٹلوں اورپبس وغیرہ میں سماجی فاصلے میں سہولت مل سکے گی۔ اس میں کہاگیاہے کہ کورونا سے متعلق سرٹیفکٹ حکومت کی مداخلت کے بغیر کورونا کی وبا میں کمی ہونے تک ہماری زندگی کا ایک حصہ ثابت ہوں گے ۔8,000 سے زیادہ افراد سے کئے گئے ایک تازہ ترین سروے کے دوران بڑی تعداد میں74 فیصد افراد نے بعض صورتوں میں ویکسین پاسپورٹ کی زبردست حمایت کی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی برطانیہ کے اندر کووڈ پاسپورٹ کے استعمال کی مخالفت بڑھتی جارہی ہے ،مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے 70 ارکان پارلیمنٹ نے گزشتہ ہفتے اس پر شدید تنقید کی اور پبس یا کمیونٹی لائف میں شرکت کیلئے میڈیکل ثبوت کی طلبی کو امتیازی سلوک قرار دیا ،لیبر پارٹی کے شیڈو وزیر صحت جوناتھن ایش ورتھ نے بھی اس مسئلے پر ووٹنگ کرانے کی ضرورت کو خارج از امکان قرار نہیں دیا لیکن کہا کہ وہ روزمرہ کی سرگرمیوں میں سرٹیفکٹ کے استعمال کی حمایت نہیں کریں گے ۔حکومت نے وضاحت کی ہے کہ ضروری عوامی سروسز ،پبلک ٹرانسپورٹ اور ضروری اشیا کی دکانوںپر جانے کیلئے سرٹیفکٹ کی کبھی بھی ضرورت نہیں ہوگی ، ندیم ضحاوی نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کو کورونا کے سرٹیفکٹ کی حمایت میں ووٹ دینا چاہئے انھوں نے کہا کہ اگر اس حوالے سے ہم نے کوئی فیصلہ کیا تو اسے منظوری کیلئے پارلیمنٹ ہی میں پیش کیاجائے گا وزیر اعظم بورس جانسن نے پیر کو اپنے بیان میں بھی اس طرح کے سرٹیفکٹ کے حوالے سے اخلاقی اور عملی مسائل کو تسلیم کیا اورکہا اس پر بہت احتیاط سے فیصلہ کرنا ہوگا اوراس سے کوئی نیا امتیازی نظام شروع نہیں ہونا چاہئے،ادھر ندیم ضحاوی نے بتایا ہے کہ کورونا کی ماڈرینا کی تیار کردہ تیسرے قسم کی ویکسین بھی اپریل کے تیسرے ہفتے تک برطانیہ پہنچ جائے گی ،برطانیہ میں اب تک 5.4 ملین سے زیادہ افرا د کو کورونا کی ویکسین لگائی جاچکی ہے جن میں سے31.5 ملین افراد کو ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی ہے ۔

یورپ سے سے مزید