تعمیلی عملے کی فرضی رپورٹس پر سخت کارروائی ہو گی، عدالت
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعمیلی عملے کی فرضی رپورٹس پر سخت کارروائی ہو گی، عدالت

راولپنڈی (نمائندہ جنگ) ڈیوٹی جج ایف آئی اے کورٹ راولپنڈی سہیل ناصر نے تعمیلی عملے کی فرضی رپورٹس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ آئندہ جو بھی ایسی رپورٹ پیش کرے گا اس کیخلاف سخت کارروائی کی جائیگی۔یہ صورتحال گزشتہ روز ایک کیس سرکار بنام جاذب علی وغیرہ کی سماعت کے دوران اس وقت سامنے آئی جب ایف آئی اے کے کانسٹیبل فغفور شجاع نے عدالت میں رپورٹ پیش کی کہ اس نے دو ملزمان کے اشتہارات گوجرانوالہ جاکر حسب ضابطہ تعمیل کرا دیئے ہیں، عدالت نے رپورٹ کو مشکوک جانتے ہوئے تعمیلی سے سوال کیا کہ اگر آپ گوجرانوالہ گئے تھے تو وہاں مقامی یا ایف آئی اے کے تھانے میں اپنی آمد اور روانگی کا اندراج تو ضرور کروایا ہوگا جس پر تعمیلی نے نفی میں جواب دیا مگر اس بات پر بضد رہا کہ وہ گوجرانوالہ گیا تھا، جس پر عدالت نے کہا کہ چلو آپ کا موبائل ڈیٹا منگوا کر چیک کر لیتے ہیں کہ اس روز آپ کی لوکیشن کیا تھی جس پر تعمیلی گھبرا گیا اور عدالت سے آئندہ ایسا نہ کرنے کی معافی مانگ لی۔ یاد رہے کہ دو تین روز قبل بھی اسی طرح کی ایک صورتحال میں سب انسپکٹر وسیم نے پہلے عدالت میں دروغ گوئی سے کام لیتے ہوئے رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ وہ سیالکوٹ گیا تھا لیکن ساتھ ہی جب عدالت نے جانچ پڑتال شروع کی تو اس نے بھی اس طرح معافی مانگ لی تھی۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی عدالت میں زیرسماعت مقدمات کی تعداد سیکڑوں میں ہے اور بیشتر مقدمات میں گھر بیٹھے اسی قسم کی فرضی رپورٹ تیار کر کے عدالت کو بھجوا دی جاتی ہیں اور ٹی اے ڈی اے وصول کر لیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بار بار سمن وارنٹ جاری ہونے کے باوجودعملاً تعمیل نہ ہونے کی وجہ سے برسہا برس گواہ پیش نہیں ہوتے۔ دوسری طرف تعمیلی سٹاف کا یہ کہنا ہے کہ عملے کی کمی کی وجہ سے ہر تعمیلی کے پاس سیکڑوں کی تعداد میں سمن، وارنٹس گرفتاری اور اشتہارات ہوتے ہیں جس کی وجہ سے تعمیل کروانے میں بے پناہ رکاوٹیں آتی ہیں۔
اسلام آباد سے مزید