کراچی کے کنٹریکٹرز کیساتھ ناانصافیاں اور غیر قانونی شرائط ختم کرنے کا مطالبہ
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی کے کنٹریکٹرز کیساتھ ناانصافیاں اور غیر قانونی شرائط ختم کرنے کا مطالبہ

کراچی( اسٹاف رپورٹر) کراچی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن (سندھ) نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کے کنٹریکٹرز کے ساتھ ناانصافیاں اور غیر قانونی شرائط ختم ، واجباب فوری ادا کئے جائیں ایسوسی ایشن کا ہنگامی جنرل اجلاس ناصر شہید پارک میں منعقد ہوا جس میں ڈی ایم سی سینٹرل، کے ڈی اے،ڈسٹرکٹ کونسل کراچی اور کے ایم سی کے کنٹریکٹرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی، اجلاس میں ایک قرار دار متفقہ طور سے منظور کی گئی جس میں حکومت سندھ سے مطالبہ کیا گیا کہ کراچی کی تمام ڈی ایم سیز اور ڈسٹرکٹ کونسل کراچی کے کنٹریکٹر کے واجبات ادا کئے جائیں خصوصاً ڈی ایم سی سینٹرل میں کام کرنے والے کنٹریکٹرز مالی طور سے انتہائی پریشان ہیں یہاں پر ڈسٹرکٹ سینٹرل کے ڈپٹی کمشنر کے پاس ڈی ایم سی سینٹرل کا قائم مقام ایڈمنسٹریٹر کا چارج بھی ہونے سے ان کے ماتحت کوئی کام نہں ہورہا کنٹرکٹرز کے واجبات ادا کرنے کا نام نہیں لیتے جو کہ انتہائی تشویش کی بات ہےایسوسی ایشن کے چیرمین ایس ایم نعیم کاظمی نے کہا کہ ہم نے ڈپٹی کمشنر آفس میں ان سے ملاقات کرکے ان کنٹریکٹرز کی پریشانیوں سے آگاہ کیا جس پر انھوں نے وعدہ کے باوجود ان کنٹریکٹرز کے کورنمنٹ آڈٹ سے پاس شدہ بل ادا نہیں کئے ایسوسی ایشن کے صدر رضاءعلی عابدی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پاکستان انجینئرنگ کونسل کی سی آر سی کمیٹی میں C-6 کیٹگری کے کنٹریکٹرز کے رجسٹریشن اور رینول سے مطالق مسائل کو کمیٹی کے سامنے پیش کردیا ہے جس کوعمل درآمد ہونے میں وقت درکا ر ہے ۔ اس کے علاوہ پاک پی ڈبلیوڈی میں کراچی کے کنٹریکٹرز سے امتیازی پابندیوں اور صرف کراچی میں ٹینڈر فیسوں میں اضافہ کے غیرمنصفانہ اور غیرقانونی شرائط سے متعلق اسلام آباد میں ڈی جی کو تحریری طور سے بھیج دیا گیا ہے ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری عبدالرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ پندرہ بیس سال سے سرکاری اداروں میں تباہی ہوتی چلی آرہی ہے افسران کام کو من پسند کنٹریکٹرز کو فروخت کرنے کے لئے غیر قانونی حربے استعمال کررہے ہیں یہ غیرقانونی شرائط اسی لئے عائد کی جارہی ہیں کہ عام کنٹریکٹرز کو روزگار سے محروم کیا جائے سندھ حکومت کے ذیلی ادارے کراچی شہر کے ترقیاتی کاموں کے ٹینڈرز حیدرآباد اور دیگر شہروں سے طلب کررہے ہیں تو آنے والے وقت میں وفاقی حکومت کے ماتحت پاک پی ڈبلیو ڈی گلکت بلتستان کے دفاتر سے ٹینڈرز طلب کرنے کا سو چے گی ان اداروں کا یہ منفی رویہ کراچی کے شہریوں سے کاروبار اور نوکریاں نہ کرنے دینے کے بنیادی حقوق سے احساس محرومی پیدا کررہا ہےجس پر اعلی حکام کو فوری توجہ دینی چاہیے۔

اہم خبریں سے مزید