شمالی وزیر ستان ،محکمہ ماحولیات بھرتیوں کی انکوائری کا فیصلہ
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شمالی وزیر ستان ،محکمہ ماحولیات بھرتیوں کی انکوائری کا فیصلہ

پشاور(سٹاف رپورٹر) خیبر پختونخوا اسمبلی نے محکمہ ماحولیات ضلع شمالی وزیرستان میں سال 2018سے 2021تک بھرتیوں کی انکوائری کا فیصلہ کرتے ہوئے معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا ، اسمبلی نے محکمہ معدنیات خیبر پختونخوا کے مختلف پراجیکٹس میں گزشتہ پانچ سال سے گریڈ17 اوراس سے بالا سکیل کے افسران کے اضافی چارج کے معاملہ کو بھی سٹینڈنگ کمیٹی کے حوالے کیا گیا، گزشتہ روز صوبائی اسمبلی کے وقفہ سوالات میں ایم پی اے میر کلام خان کےمحکمہ ماحولیات خیبر پختونخوا کی جانب سے موجودہ دور حکومت کے دوران تمام بھرتیوں کی جامع تفصیلات کے تحریری جواب میں محکمہ نے بتایاکہ’’ مذکورہ عرصہ میں15بھرتیاں کی گئی ہیں جو یا تو فوت شدہ ملازمین کے کوٹہ یا پھرمیڈیکل بورڈ کے کوٹہ کے تحت بھرتی کئے گئے، جہاں تک سال2022تک مزید افراد بھرتی کرنے کا تعلق ہے ،جب تک ایس این ای منظور نہیں ہوتی محکمہ نئی پوسٹ و بھرتی کی کوئی تفصیل فراہم کرنے سے قاصر ہے‘‘ جس پر محرک نے کہاکہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی ضلع میں تمام اسامیوں پر فوت شدہ ملازمین کے بچوں کو بھرتی کیا جائے؟ جبکہ میڈیکل بورڈ کے کوٹہ کے تحت بھرتیوں کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہاکہ محکمہ حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کررہا ہے کیونکہ بھرتیوں میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اس لئے بھرتیوں کی انکوائری کرائی جائے، خوشدل خان اور نگہت اورکزئی نے بھی معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا جس پر صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے کہاکہ اگر ارکان بھرتیوں کی انکوائری چاہتے ہیں تو صوبائی حکومت کو کوئی اعتراض نہیں جس کے بعد سپیکرنے ایوان سے رائے سے محکمہ ماحولیات میں بھرتیوں کا معاملہ انکوائری کیلئے قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا، اسمبلی اجلاس کے دوران محکمہ صنعت و حرفت کی جانب سے خاتون شگفتہ ملک کے سوال کا تحریری جواب جمع کرانے پر سوال کمیٹی کو ارسال کردیا، اسمبلی کے دوران حمیرہ خاتون کے سوال پر محکمہ معدنیات نے تحریری جواب میں انکشاف کیا کہ محکمہ ہذا کے تحت چلنے والے پراجیکٹس میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران گریڈ17اور اس سے بالا سکیل کے افسران کو صوبائی پراجیکٹ پالیسی کے تحت اضافی چارج تفویض کیا گیا ہے ،محکمہ ہذا کے بیشتر پراجیکٹس 30جون 2021 کو ختم ہورہے ہیں، تحریری جواب میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران محکمہ معدنیات کی کسی بھی پراجیکٹ میں کوئی بھی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی ہے ، مشتر معدنیات عارف احمدزئی بتایا کہ جن افسران کو اضافی چارج دئیے گئے ہیں ان کو کوئی اضافی تنخواہ نہیں ملتی البتہ الاؤنسز وغیرہ ضرور ملتے ہیں، میاں نثار گل ، خوشدل خان، نعیمہ کشور اور حمیرا خاتون نےکہاکہ افسران کو اقربا پروری کی بنیاد پر اضافی چارج دئیے گئے ہیں بلکہ دوسرے لوگوں کی حق تلفی کی گئی ہے اسیلئے اس معاملہ کی انکوائری ضروری ہے جس کے بعد سپیکر نے ایوان کی رائے سے معاملہ قائمہ کمیٹی کو بھجوادیا۔
پشاور سے مزید