• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آتی جاتی ہے۔ بالخصوص کووِڈ-19 کے نتیجے میں روزمرہ زندگی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے نہ صرف کافی کچھ بدل ڈالا ہے بلکہ لوگوں کو نئے زاویوں سے سوچنے پر بھی مجبور کیا ہے۔ 

ایسا ہی کچھ تعلیمی میدان میں بھی دیکھا جارہا ہے، جہاں کورونا وبائی مرض کے باعث لگنے والے لاک ڈاؤن میں اسکولوں کی بندش، پھر چھوٹے بچوں کی آن لائن کلاسز اور وبائی مرض کی وجہ سے بچوں کی صحت کے حوالے سے خدشات نے والدین کو فکرمند کردیا ہے۔ ساتھ ہی وہ بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے حوالے سے بھی پریشان ہیں۔ ایسے میں کچھ والدین اپنے بچوں کے لیے ہوم اسکولنگ کا انتخاب کررہے ہیں۔

ہوم اسکولنگ

ہوم اسکولنگ، دنیا بھر میں ایک ترقی پسند تحریک ہے، جس میں والدین اپنے بچوں کو روایتی سرکاری یا نجی اسکول میں بھیجنے کے بجائے گھر پر ہی تعلیم دیتے ہیں۔ والدین کی جانب سے مختلف وجوہات کی بناء پر گھر پر تعلیم دینے کا انتخاب کیا جاتا ہے، جن میں دستیاب تعلیمی آپشنز پر عدم اطمینان ، مختلف مذہبی یا تعلیمی فلسفے اور اس بات پر یقین ہوجانا کہ روایتی اسکول بچوں کی شخصی اور علمی تربیت نہیں کررہے۔ 

ہوم اسکولنگ کا ایک فائدہ یہ ہے کہ بچے اپنے مزاج اور ٹائم ٹیبل کے مطابق آگے بڑھ سکتے ہیں۔ یہ تعلیم اس وقت تک جاری رہ سکتی ہے جب تک کہ کوئی طالب علم کالج میں داخلہ نہ لے لے۔ ہوم اسکولنگ کے ذریعے بچوں کو مکمل طور پر تعلیم و تربیت فراہم کی جاسکتی ہے یا پھر چند سال ہوم اسکولنگ کے بعد بچوں کو مرکزی دھارے میں شامل تعلیمی نظام (اسکول) میں شامل کروایا جاسکتا ہے۔

آغاز

بنیادی طور پر ہوم اسکولنگ کی تحریک کا آغاز 1970ء کی دہائی میں ہوا، جب کچھ مشہور مصنفین اور محققین — جیسے جان ہولٹ، ڈوروتھی اور ریمنڈ مور — نے تعلیمی اصلاحات کے بارے میں لکھنا شروع کیا۔ انھوں نے متبادل تعلیمی آپشن کے طور پر ہوم اسکولنگ کی تجویز پیش کی۔ امریکا کے نیشنل ہوم ایجوکیشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق، امریکا میں 20لاکھ سے زائد بچوں کو گھروں پر تعلیم دی جاتی ہے اور اس کی شرح ہر سال تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

ہوم اسکولنگ کے تقاضے

جان ہولٹ، بیسٹ سیلنگ کتاب "Teach Your Own" کے مصنف ہیں، ان کے مطابق ، ’’والدین کا اپنے بچوں کی ہوم اسکولنگ کے لیے انھیں پسند کرنا، ان کی توانائی ، بے وقوفی، جذبے اور ان کے ساتھ سے لطف اندوز ہونا ضروری ہے۔ والدین اپنے بچوں کی ساری گفتگو اور سوالات سے لطف اٹھائیں، اور ان سوالوں کے جوابات بھی اسی طرح دینے کی یکساں کوشش کریں‘‘۔ ہوم اسکولنگ کے لیے صرف ایک ہی شرط ہے وہ یہ کہ تعلیمی عمل میں لگن کے ساتھ ایسا کرنے کی خواہش ہونا۔

نظام الاوقات

کچھ لوگ ہوم اسکولنگ کے لیے روایتی اسکولوں کی طرح صبح سویرے تربیتی عمل شروع کرتے ہیں جبکہ کچھ اسکول اور گھر کے مابین زیادہ فرق نہیں رکھتے۔ اگر بچہ بستر پر جانے سے پہلے سائنسی تجربے سے پُرجوش ہوتا ہے تو کچھ والدین یہ دیکھتے ہیں کہ بچے کا جوش و خروش کہاں تک جاتا ہے۔

ہوم اسکولنگ پر عمل کرنے والے جس تعلیمی فلسفہ انتخاب کرتے ہیں وہ ان کے روزمرہ کے معاملات کو نمایاں طور پر متاثر کرتا ہے۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ صرف ایک طرزِ تعلیم سے واقف ہیں جس میں درسی کتب کا روایتی نظام، قطار میں لگی میزیں اور امتحانات وغیرہ شامل ہیں۔

تاہم، دنیا میں کئی طرح کے تعلیمی فلسفے موجود ہیں، جن میں والڈورف ، مانٹیسوری ، شارلٹ میسن، کلاسیکی ، قائدانہ تعلیم ، دلچسپی کے مطابق تعلیم ، یونٹ کا مطالعہ وغیرہ شامل ہیں۔ ہوم اسکولنگ میں ان تمام نظریات کی آمیزش کی آزادی میسر ہوتی ہے، جو بچوں کی ضروریات کو بہترین طور پر پورا کرسکتی ہے۔

ہوم اسکولر (والدین/استاد) تعلیمی کیلنڈر کی پیروی کرنے یا نہ کرنے میں آزادہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ روایتی اسکول کیلنڈر کی پیروی کرتے ہیں جبکہ کچھ ضرورت پڑنے پر مخصوص ہفتوں کے لیے اس میں ردوبدل کرلیتے ہیں۔

نصاب کی منصوبہ بندی

ہوم اسکولنگ کے رجحان میں تیزی سے اضافے کے نتیجے میں متعدد نصاب اور وسائل دستیاب ہیں۔ کیٹلاگ مختلف تعلیمی فلسفوں ، سیکھنے کے نقطہ نظر اور ہوم اسکولنگ کے اساتذہ کو روزمرہ کی تعلیم کے لیے کتنا وقت دینا چاہیے، وغیرہ پر مبنی اختیارات کی کثرت سے بھر جاتے ہیں۔ عام طور پر جن مضامین کو پڑھایا جاتا ہے، ان میں روایتی اسکول پروگرام کے ساتھ ساتھ ادب، تہذیب اور نظم وضبط کی تربیت شامل ہوتی ہے اور ساتھ ہی وہ بھی جو بچوں کے شوق کو تقویت دیں۔ 

کین رابنسن اپنی کتاب "The Element" میں لکھتے ہیں کہ’’تعلیمی تبدیلی کی کلید تعلیم کو معیاری بنانا نہیں بلکہ اسے ذاتی بنانا ہے، ہر بچے کی انفرادی صلاحیتوں کو دریافت کرنے میں کامیابی حاصل کرنا ہے، طلبا کو ایسے ماحول میں رکھنا جہاں وہ سیکھنا چاہتے ہیں اور جہاں وہ فطری طور پر اپنے حقیقی جذبات کو دریافت کرسکیں‘‘۔ 

ہوم اسکولنگ کا ماحول ایک فطری ترتیب مہیا کرتا ہے، جس میں بچے کو انفرادی نوعیت کا طریقہ تعلیم فراہم کیا جاسکتا ہے جو اس کی انفرادیت ، قابلیت اور سیکھنے کے انداز سے مماثلت رکھتا ہو۔ ہوم اسکولنگ میں بچوں کو اکثر ایسے مضامین ساتھ پڑھائے جاتے ہیں جن میں جماعت یا عمر کا تعلق نہیں ہوتا جیسے کہ تاریخ ، ادب اور فنون مگر اس میں ہر بچے کی قابلیت کا امتحان لینے کے لیے اس کے حساب سے اسائنمنٹس دیے جاتے ہیں۔ ریاضی جیسے مضامین کے مطالعے کے لیے ہر بچے کی انفرادی ضروریات کے مطابق سکھایا جاتا ہے۔ دریں اثنا، ہر بچے کی عمر کے لحاظ سے علیحدہ علیحدہ اسائنمنٹس دیے جاتے ہیں۔