سجدۂ سہَو کی ضرورت اور اس کا طریقہ کار کیا ہے؟
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سجدۂ سہَو کی ضرورت اور اس کا طریقہ کار کیا ہے؟

سوال: سجدۂ سہَو کیوں کیا جاتا ہے؟ نیز اس کا طریقہ بھی بتا دیں اور اگر نماز میں کچھ بھول جائیں تو کیا سجدۂ سہَو ضروری ہے؟ 

جواب: نماز کے واجبات میں سے اگر کوئی واجب بھولے سے رہ جائے یا واجب کا تکرار کیا جائے یا واجب کو مقدم کر دیا جائے یا مؤخر کر دیا جائے یا واجب میں کوئی تبدیلی کردی جائے، مثلاً خاموشی سے تلاوت کے بجائے بلند آواز سے قرأت کی جائے یا کسی رکن کو آگے پیچھے کر دیا جائے تو اس کی تلافی کے لیے سجدۂ سہو کیاجاتا ہے۔

تلافی کی صورت یہ ہے کہ قعدۂ اخیرہ میں التحیات پڑھنے کے بعد دائیں طرف ایک بار سلام پھیر کر دو سجدے کر لیے جائیں اور سجدوں کے بعد پھر التحیات، درودشریف اور دعا پڑھ کر دائیں بائیں سلام پھیر دیا جائے، ان سجدوں کو سجدۂ سہَو کہتےہیں۔ (ہندیہ1/125،126)

کتاب و سنت کی روشنی میں اپنے مزید مسائل کے حل جاننے کے لیے وزٹ کریں:

https://ramadan.geo.tv/category/islamic-question-answers

خاص رپورٹ سے مزید