• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موسیقار نوشاد، ماضی کی شاہکار فلم مغل اعظم کی بلامعاوضہ موسیقی دی

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک)فلم انڈسٹری میں ایک بیش بہا خزانے کے طور پر سمجھے جانے والے موسیقار نوشاد کی موسیقی اور ان کے نغموں کو برصغیر کے عوام شاید کبھی نہیں بھلا سکیں گے۔ لکھنؤ کے ایک متوسط مسلم خاندان میں 25دسمبر 1919 کو نوشاد کی پیدائش ہوئی۔ ان کا رجحان بچپن سے ہی موسیقی کی طرف تھا اور انہیں اپنے اس شوق کو پروان چڑھانےکےلئے اپنے والد کی ناراضگی بھی برداشت کرنی پڑتی تھی۔نوشاد ایسے پہلے موسیقار تھے جنہوں نے پلے بیک سنگنگ کے میدان میں ساؤنڈ مکسنگ اور گانے کی ریکارڈنگ کو الگ رکھا۔فلم موسیقی میں ایکورڈین کا سب سے پہلے استعمال بھی انہوں نے ہی کیاتھا۔ہندی فلم انڈسٹری کے وہ پہلے موسیقار تھے جنہیں فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا اور یہ ایوارڈ انہیں1953 میں ریلیز ہوئی فلم بیجو باورا میں بہترین موسیقی کےلئے دیا گیا۔ہندوستانی سنیما میں ان کی قابل ذکر خدمات کےلئے 1982 میں دادا صاحب پھالکےایوارڈ اور 1992 میں بدم بھوشن سے نوازا گیا۔تقریباً چھ دہائی کے طیویل سفر میں اپنی موسیقی سے شائقین کا دل جیتنے والے موسیقار نوشاد پانچ مئی 2006 کو اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔سال 1960 میں ریلیز ہوئی شاہکار فلم مغل اعظم کی موسیقی کے لئے ہدایت کار کے آصف جب نوشاد کے گھر ان سے ملنے گئے ۔وہ اس وقت ہارمونیم پر کوئی دھن تیار کررہے تھے۔اسی وقت کاردار آصف نے 50ہزار روپے کے نوٹوں کا بنڈل ہارمونیم پر پھینکا ،نوشاد کو اس بات پر بے انتہا غصہ آیا اور نوٹوں کا پھینکا ہوا بنڈل واپس کرتے ہوئے نوشاد نےکہا کہ ایسا ان لوگوں کے لئے کرنا جو بغیر ایڈوانس فلموں میں موسیقی نہیں دیتے۔ میں آپ کی فلم میں موسیقی نہیں دوں گا۔‘‘ بعد میں کے آصف کی منت سماجت پر نوشاد نہ صرف فلم میں موسیقی دینے کے لئے تیار ہوئے بلکہ اس کےلئے ایک پیسہ تک نہیں لیا۔ نوشاد نے چھ دہائی کے اپنے فلمی کریئر میں تقریباً 70فلموں میں موسیقی دی ہے۔نوشاد کے پسندیدہ گلوکار کے طورپر محمد رفیع کا نام سرفہرست آتا ہے۔انہوں نے شکیل بدایونی اور محمد رفیع کے علاوہ لتا منگیشکر ،ثریا،اوما دیوی اور نغمہ نگارمجروح سلطان پوری کو بھی فلم انڈسٹری میں اعلی مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا ۔نوشاد کی موسیقی سے آراستہ مشہور فلموں میں پریم نگر،بیجو باورا،آن،بابل،رتن،شاہ جہاں، دلاری، دیدار، درد،انداز،امر،مدر انڈیا، اڑن کھٹولا،کوہ نور ،مغل اعظم ،پالکی اور میرے محبوب قابل ذکر ہیں۔

دل لگی سے مزید