• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پشاور(وقائع نگار)رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوتے ہی بازاروں میں گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی ہے. خواتین،بچوں کی تیاریاں دیدنی مگر ایس او پیز کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیاگیا ہے ، پشاور میں تجارتی مراکز دو دن بعد بند ہونے کے باعث گذشتہ روز بھی خواتین کے بازاروں میں بدترین رش رہا جبکہ بارش کی وجہ سےٹریفک انتہائی جام رہا آئندہ ہفتے سے لاک ڈاؤن اور تجارتی مراکز بند کئے جانے کے باعث گورا بازار ،شاہین بازار ،کریم پورہ ،ہشت نگری ریلوے پھاٹک ،چوک شادی پیر،مینا بازار ،شفیع مارکیٹ ،کینٹ ،یونیورسٹی روڈ اور سٹی کے تمام بازاروں میں عید شاپنگ کا سلسلہ عروج پر ہے عید کی خریداری شروع ہوتے ہی تجارتی مراکز میں مہنگائی کا سیلاب بھی امڈ آیا ہے سیل کی آڑ میں معمول سے زیادہ قیمت وصول کی جارہی ہے گزشتہ سال کی نسبت رواں سال چوڑیوں سمیت مختلف خواتین کے استعمال کی اشیاءکی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے فینسی چوڑیوں،کانچ کی چوڑیوں اور میٹل چوڑیوں کی قیمتوں میں گزشتہ سال کی نسبت رواں سال دس فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ جیولری کی قیمتیں بھی آسمان پر پہنچ گئی ہیں ، شام چھ بجے تجارتی مراکز بند ہونے کے بعد شہر کے چھوٹے بڑے بازاروں میں تل دھرنے کی گجائش نہیں ہے جس کے باعث کورونا پھیلنے کا خدشہ بڑھتا جارہا ہے ۔
تازہ ترین