• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ سحر کی مختلف اقسام ہیں، بعض توکفرِ محض ہیں اور بعض نہیں،جو اقسام کفر ہیں ، ان کا استعمال کرنا یا سیکھنا سکھانا ہر حال میں حرام ہے۔ خواہ دفع ضرر کے لیے ہو یا کسی اور غرض کے لیے، اسی طرح جو قسم کفر تو نہیں ہے، لیکن گناہوں پر مشتمل ہے، اس کا استعمال بھی جائز نہیں ہے۔

جواب:۔ البتہ سحر کی جو قسم کسی عقیدۂ کفر پر مشتمل نہیں، اسے اگر دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ بھی حرام ہے، اور اگر جادو کے توڑ کے لیے یا نقصان کو دور کرنے کے لیے کیا جائے تو گنجائش ہے۔

ان دونوں قسموں کی تفصیل یہ ہے کہ جس سحر میں شیاطین و جنات وغیرہ سے استعانت و امداد طلب کی جائے اور ان کو متصرف ومؤثر مانا جائے یا جن میں قرآن شریف یا دوسرے اسلامی شعائر کی توہین کی گئی ہو وہ کفر ہے۔اور جس میں یہ امور نہ ہوں، بلکہ خاص ادویہ وغیرہ سے یا کسی اور خفی طریق سے اثر ڈالاجاتا ہے، وہ کفر تو نہیں، مگر اس کا استعمال بھی نقصان پہنچانے کی غرض سے حرام ہے اور نقصان دور کرنے کی غرض سے جائز ہے ؛ لہذا مسلمانوں کو ضرر اور نقصان سے بچانے کے لیے اس قسم کا سیکھنا اور استعمال کرنا بقدر ضرورت جائز ہے اور غیر مسلم جادو کرنے اور کرانے والے کے شر سے بچنے اور مسلمان کو بچانے کے لئے (کوئی دوسرا حل نہ ہونے کی صورت میں) اس کا کیا ہوا جادو اسی پر ڈالنے کی بھی گنجائش ہے بشرطیکہ اس کے لئے کفر و معاصی کا ارتکاب نہ کرنا پڑے۔