• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوجوان قوم کا مستقبل ہیں، نوجوان مستقبل کے معمار ہیں، نوجوان دنیا کو تبدیل کرسکتے وغیرہ۔ یہ باتیں یہ نعرے اکثر دہرائے جاتے ہیں، توکیا نوجوانوں سے منسوب یہ نظریئے درست ہیں، جی ہاں بالکل درست ہیں کیوں کہ جوانی کا دَور سب سے بہترین دَور ہوتا ہے۔ 

عمر کا یہی وہ حصہ ہوتاہے، جس میں نوجوانوں کے اندر انقلابی سوچ پیدا ہوتی ہے لیکن اُن کے ساتھ ہو کیا رہا ہے وہ کس ڈگر پر چل رہے ہیں اُن کا خود کا مستقبل کتنا تاب ناک ہے؟ اس بارے میں کوئی کچھ نہیں کہتا۔بس وعدے، دعوے اور باتیں ہی باتیں ہیں۔ہر قوم میں زندگی کی تحریک اور حرکت نوجوانوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔اگر وہ بلند حوصلہ اور قوم کی خدمت کے لئے کچھ کر گزرنے کا جنون رکھتےہیں تو وہ قوم ترقی کی منازل طے کرکے اعلیٰ اقدار کے منصب پرفائز ہوتی ہے۔

سال 2020ء کے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں نوجوانوں کی تعداد ایک ارب ستر کروڑ سے زائد ہے۔ نوجوانوں کی عمر کے تعین میں مختلف ممالک اور معاشروں کی وجہ سے فرق ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر کی زیادہ اہمیت نہیں ہے بلکہ ان کا ذہن، ان کے رجحانات، غور و فکر کا معیاراور رویے اہمیت رکھتے ہیں۔

ترقی پذیر ممالک میںنوجوانوں کی تعداد بہت نمایاں ہے، مگر ان ممالک میں غربت، تعلیم کی کمی، صحت عامہ کی سہولتوں کے فقدان اور بیروزگاری جیسے مسائل ان کے راستوں کومسدودکرتے ہیں اور اکثر معاشرے میں لڑائی جھگڑے ، انتہا پسندی اور مایوس جیسے عوامل دکھائی دیتے ہیں، مگر ان مسائل اور مصائب کے باوجود ترقی پذیر ممالک کی نوجوان نسل نے ماضی میں اور موجودہ حالات میں بھی اپنی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ مشکل راستوں کو کس طرح ہموار بنایا جاسکتا ہے۔ ان کے نزدیک اصل جوہرپروازِ خیال،، ہدف پر نظر اور جذبہ سچا ہونا چاہیے۔

دنیا عمومی طور پر دو سمتوں میں بٹی ہوئی ہے، مشرق اور مغرب ۔ ایک اصطلاح میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر بھی کہتے ہیں۔ آئیے ایک مختصر سا تقابلی جائزہ مغربی اور مشرقی نوجوانوںکا لیتے ہیں۔ مغربی ممالک میں بعض نوجوان ایسے بھی ہیں جو اعلی تعلیم، تحقیق اور محنت سے جان چھڑاتے ہیں، ان کے خیال میں ہمارے بزرگوں نے جو کرلیا وہ بہت ہے ہم مزید کیا کریں۔ اس سوچ کے حامل مغربی نوجوان زیادہ تر اپنا وقت کھیل کود، مٹر گشتی، آوارہ گردی اور لڑائی جھگڑوں میں گزار دیتے ہیں، اورکچھ جرائم اور منشیات کے سحر میں گم ہوجاتے ہیں۔ لیکن ایسا بالکل نہیں کہ سارے نوجوان ایسے ہیں ان میں ایک طبقہ تعلیم، جستجو اور بہتر سے بہتر کی لگن میں محو پرواز نظر آتا ہے ،جبکہ ترقی پذیر ممالک کے زیادہ تر نوجوانوں میں بہت کچھ کرنےکی امنگ تو ہوتی ہے، مگر مفلسی اور عدم رہنمائی کی وجہ سے پیچھے رہ جاتےہیں۔

امریکی معاشرہ ایک ترقی یافتہ معاشرہ ہے۔ دنیا کے ہر خطے کا باشندہ یہاں آباد ہے۔ نوجوانوں کو یہاں سیکھنے، جدوجہد کرنے اور آگے بڑھنے کے بہت راستے دستیاب ہیں۔ شرط یہ ہے کہ نوجوانوں خیال اچھوتا ہو، آپ کے پلان میں تنوع ہو اور آپ لگن کے پکے ہوں پھر بہت کچھ آپ کا ہے،جبکہ دیکھا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے بیشترمعاشروں میں نوجوانوں پر اعتماد نہیں کیا جاتا انہیں ہر دور میں بچہ ہی تصور کیا جاتا ہے اور روک ٹوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اکثر بزرگ اور والدین اپنی مرضی تھوپتے ہیں۔ 

باپ اکثر اپنی ادھوری خواہشات کی تکمیل اپنے بیٹوںکے ذریعےپوری کرنا چاہتا ہے۔ان کی مرضی خواہشات اور ان کے خوابوں کو اکثر مستردکرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔پرانے خیالات اب تک حاوی دکھائی دیتے ہیں کہ ڈاکٹر بنو، انجینئر بنو، بیرسٹر بنو اور افسر بنو۔ اس کے برعکس مغربی معاشروں میں محنت اور ہنرمندی کا احترام کیا جاتا ہے۔وہاں کا نوجوان اگر کارپینٹر ہے تو وہ اپناتعارف پیشے کے لحاظ سے کرانے میں کوئی جھجک محسوس نہیںکرتا ،جبکہ ہمارے معاشرے میں ابھی تک پیشوں کا احترام نہیں کیا جاتا۔اسی لیے نوجوان انہیں اپنانے سے گریزاں رہتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک مزید ترقی کے لئے نوجوان پر انحصارکرتے ہوئے نئے نئے منصوبوں کو سامنے لاتے ہیں اور نوجوانوں کوان منصوبوں کے تحت جدید تعلیم و تربیت دی جاتی ہے،ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگرکیا جاتا ہے۔ مثلاً کچھ عرصہ قبل برطانیہ کے معروف ادارے برٹش کونسل کے زیر اہتمام ’’دنیا کےدریا‘‘ کے عنوان سے ایک اچھوتا پروگرام شروع کیا ،جس میں بچوں اور نوجوانوں کو اپنے ملک اور پڑوسی ممالک کے دریائوں کی ڈرائنگ بنانے کے ساتھ ان دریائوں کی ان کےملکوں میں اہمیت، افادیت اور تاریخی پس منظر سے بھی آگہی فراہم کی گئی ہے۔ نوجوانوں نے پوری دلچسپی سے آگہی حاصل کرکے پانی کی اہمیت اور حفاظت کے طریقے سیکھے۔ مغربی ممالک اس طرح کے چھوٹے چھوٹے منصوبوں کے ذریعے ہی بڑے منصوبوں کی طرف نوجوانوں کوشامل کر تے ہیں ۔

بہت سے ترقی پذیر ممالک اپنے نوجوانوں کو آگے لانے ان کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرنے کے بجائے مغربی ممالک پر تنقید اور نکتہ چینی کرتے ہیںان کی برائیوں پرِ نظر رکھتے ہیں، اگر ان کی برائیوں کو پسِ پشت ڈال کر اچھائیوں پر نظر رکھیں جو ان کی ترقی خوشحالی اور استحکام کا باعث ہیں۔ مثلاً وقت کی پابندی، ذمہ داری کا احساس، کام کے وقت صرف کام، عقلیت پسندی، اعتدال پسندی، دوسرے کی بات سننے کاحوصلہ، جدت طرازی، جستجو، مہم جوئی اور زندگی جینے کا سلیقہ اپنالیں تو بہت آگے جاسکتے ہیں۔جنوبی کوریا اس کی عمدہ مثال ہے۔ اس نے ابتداء سے سب سے زیادہ توجہ سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی، بالخصوص نوجوانوں کی تعلیم، تربیت، ہنرمندی اور محنت سے محبت پر دی ،آج وہاں کے نوجوان برسرروزگار ہیں۔بےروزگاری کا تناسب وہاں بہت ہی کم ہے۔

نوجوانوں کو یہ بات ذہن میں رکھنا چاہیے کہ معاشرے کی اٹھان یکجہتی، ترقی اور خوشحالی ایک دوسرے کے احترام اور ایک دوسرے کی اہمیت اور افادیت کو تسلیم کرنے سے وابستہ ہے۔ علم، تحقیق، ہنر، جستجو، فراست اور اعتدال پسند رویئے ہی معاشروں کی ترقی کا راز ہیں۔ اگر اس سے ہٹ کر کوئی راستہ اپنانے کی کوشش کی تو کامیابی ممکن نہیں ہے۔ مغربی ممالک کی برائیوں کے بجائے ان کی اچھائیوں کو اپنانے میں کوئی قباحت نہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کے لئے ہمیں تعلیم و تحقیق پر خصوصی توجہ دینا ہوگی ۔

تازہ ترین