• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’بھالوا گاؤں‘‘ اس سے’’عمر ماروی ‘‘ کی داستان جڑی ہوئی ہے

سندھ کی لوک کہانیوں میں ضلع تھر اور نگرپارکرکو خاص اہمیت حاصل ہے۔باکڑو دریا کے کنارے بھالوا نامی قصبہ جو سیاحت کے حوالے سے خطے میں اہم مقام رکھتا ہے، سندھ دھرتی کی بے شمار لوک داستانوں کا امین ہے۔ مٹھی سے ننگرپارکر جانے والی سڑک پر جین مندروں کے قریب قدیم زمانے سے آباد تھرپارکر کی تاریخ، تہذیب وتمدن سے جڑا ہوا یہ گاؤں بھالوا انتظامی طور تحصیل ننگرپارکر کا حصہ ہے۔ کسی زمانے میں اس علاقے میں ریباری قبیلے کے 12 گاؤں آباد تھے، جب کہ بھالوا کے قریب ملیر نامی بستی تھی۔ بھالوا کے نام کے بارے میں ماہرین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ 

کچھ کا کہنا ہے کہ یہ لفظ ’’بھلی واء‘‘سے بنا ہےاور بعضٗ اس کا قدیم نام بھیل واءبتاتے ہیں۔ اس وقت یہاں خاص خیلی، مینگھواڑ اور بھیل قبیلے کے افراد آباد ہیں۔’’ واء ‘‘تھر میں کنویں کو بھی کہتے ہیں۔ اسےمشہور لوک کہانی کے کردار، ماروی کا گاؤں بھی کہا جاتا ہے۔ ماروی کی داستان میں ایک کنوئیں کا بھی ذکر ملتا ہے جو بھالوا میں واقع ہے، شاید اس قصبے کا نام اسی کنوئیں سے منسوب کیا گیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ سندھ کی مشہور لوک داستان، عمر ماروی کی ابتدا اسی گاؤں سے ہوئی تھی۔ سندھی مؤرخین کے مطابق شاہ عبدالطیف بھٹائی کی ’’سورمی ‘‘حب الوطنی کے عظیم کردار ماروی کا آبائی گاؤں بھالوا ہے، لیکن کچھ محقق اس رائے سے اختلاف رائے رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ماروی کا گاؤںتلہار یا تلواڑا ہے۔ایک لوک روایت میں ہے کہ بھالوا کے قریب ملیر نامی بستی تھی، جہاں ماروی نے جنم لیا تھا۔ تھر کی تاریخ اور لسانیات کے ماہر کہتے ہیں کہ ملیر ایک گاؤں کا نام نہیں بلکہ ساون رت میں سبز تھر کو ملیر کہا جاتا ہے۔

دوسری روایت کے مطابق بھالوا کے رہائشی ،پالنو پنہوار نے اپنی بیٹی کی سگائی رسم و رواج کے تحت کھیت سین سے کی تو علاقے کے ایک بااثر شخص ’’پھوگ‘‘ کو بہت صدمہ ہوا۔ اس کی آرزو تھی کہ ماروی اس کی دلہن بنے۔پہلے تو اس نے ماروی کے والدین پر دباؤ ڈالنےکے لیے اپنا اثر رسوخ استعمال کیا۔ جب اس کا ہر حربہ ناکام ہوگیا توماروی کے والدین سے انتقام لینے کے لیے عمرکوٹ پہنچا ۔ وہاں اس نے سومراحکم راں ،عمر سومرو کی خدمت میں حاضر ی دی۔ عمر سومرو سے ملاقات کے دوران اس نے ماروی کے حسن کی داستانیں سنائیں۔

عمر سومرو ،ماروی کے حسن کی تعریف سن کر دیوانہ ہو گیا، اور اس نے ماروی کوہر قیمت پر حاصل کرنے کا تہیہ کرلیا۔ ایک مرتبہ ماروی اپنی سہلیوں کے ساتھ کنویں سے پانی بھر رہی تھی کہ عمر سومرو وہاں آگیا اور اسے زبردستی اٹھا کر اپنے شہرلے گیا اوروہاں اپنے محل میں قید کر دیا۔قید کے دوران عمر سومرو نے ماروی کوہر طرح کا لالچ دیا لیکن ماروی کا ایک ہی جواب تھا، ’’میں مارو قبیلے کی بیٹی ہوں، کھیت سین میرا خاوند ہے، میں تیرے ریشمی اور اطلس کے کپڑوں سے ملیر کی لوئی کو عظیم مانتی ہوں‘‘

ماروی کی ان جذبات کو شاہ عبدالطیف نے اپنے صوفیانہ کلام میں پیش کیا ہے۔ جدید سندھی شاعری کے نام ور شاعر، شیخ ایاز نے ’’رسالہ شاہ عبدالطیف بھٹائی‘‘ میں اردو ترجمے میں سرُ ماروی کے اشعار کچھ اس طرح تحریر کیے ہیں کہ:

اپنے گھر کی رنگی ہوئی لوئی کیوں نہ رشک اطس و کمخواب

اے عمر اس کے سامنے کیا ہے، مخملی بافتے کی آب و تاب

اوڑھ کر سر پہ پھر حیا کی شال، مارووں کو گلے لگاؤں میں

چھوڑ دے مجھ کو سومرا سردار، پھر انہیں جھونپڑوں میں جاؤں میں

اے عمر تیری خلعت زرتار، میری لوئی کے سامنے بیکار

ریشمی لمس سے نہ کم ہو گا، دل سے ان پیارے مارووں کا پیار

سندھی مؤرخین،’’ عمرماروی‘‘ کی داستان کا کردار،سومرا حاکم، عمرثانی کوبتاتے، لیکن کتاب ’’کھاروڑو چت آیو‘‘ میںکہانی کا کردار سومرا دور کے آخری حاکم ہمیر کےبھتیجےعمر کو بتایا ہے۔شاہ عبدالطیف کی شاعری میں ہمیر اور عمر دونوں کا تذکرہ ملتا ہے لیکن ان کے کلام’ ‘ شاہ جو رسالو‘‘ کے کسی بھی شعر میں’’ بھالوا‘‘ نامی گاؤں کا نام نہیں ملتا۔ لیکن تھرکے باسی ، سگھڑوں کے پاس ایسےاشعارسننے کے لیے جاتے ہیں جن میں بھالوا کا ذکرموجود ہوتا ہے۔بھالوا میں ابھی بھی عمر ماروی کی داستان سے منسوب کنواں موجود ہے، جس کے قریب ہی ایک چھوٹا سا حوض ہے، جسے ’’ماروی کی کونڈی ‘‘کہا جاتا ہے۔ماروی سے منسوب کنویں کے پاس حکومت سندھ کے محکمہ ثقافت کی جانب سے ماروی میوزیم، ثقافتی کمپلیکس اور ریسٹ ہاؤس تعمیر کرایا گیا ہے۔

بارش کے دنوں میں ملک و بیرون ملک سے ہزاروں لوگ تھرپارکرکی سیاحت کے لیے آتے ہیں اور وہ بھالوا بھی جاتے ہیں۔یہاں وہ ماروی کے گاؤں میں ماروی کی بہادری کے قصے سنتے ہیں۔ لوک فنکاروں سے شاہ عبدالطیف کی شاعری کا سرُ، ماروی سنتے ہیںاور اپنے سفر کو یادگار بناتے ہیں۔6 مارچ 1967 کوضلع کونسل تھرپارکر کی جانب سے بھالوا میں میر حاجی محمد بخش کی سربراہی میں پہلی مرتبہ ’’ماروی میلے‘‘کا انعقاد کیا گیا۔ بعد ازاںصوبائی محکمہ ثقافت کی جانب سے 1997، 2003، 2008 کو ’’ماروی میلہ ‘‘سجایا گیا۔اس کے بعد بھی مٹھی کی سرکردہ شخصیات، شعرا، ادیبوں اور صحافیوں کی جانب سے میلے کا انعقاد کیا گیا لیکن حکومتی سطح پر اسے کوئی پذیرائی نہیں ملی۔