• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عرفان صاحب مضمحل سے گھر میں داخل ہوئے تو سلمیٰ پریشان ہوگئیں کہ اتنے برسوں سےان کا یہی معمول تھا کہ لاکھ تھکے ہوتے، مگر گھر میں ہمیشہ مُسکراتے چہرے کے ساتھ ہشّاش بشاش داخل ہوتے۔’’کیا ہوا…؟ طبیعت تو ٹھیک ہے ناںآپ کی؟‘‘سلمیٰ نے استفسار کیا۔’’ہاں !ٹھیک ہوں، بس ذرا تھکاوٹ سی ہوگئی ہے۔ چائے مل جائے تو…‘‘ 

انہوں نے جواب دیا۔’’ہاں،ہاں! ابھی لاتی ہوں‘‘ وہ کچن کی طرف چل دیں۔ چائے لے کر آئیں تو عرفان صاحب نے پوچھا’’گھر میں بڑی خاموشی ہے،بچیاں کہاں ہیں؟ ہماری چڑیوں کی چہچہاہٹ نہیں سنائی دے رہی۔‘‘ ’’مارکیٹ تک گئی ہیں، کچھ ضروری سودا لانا تھا۔ آج کوئی نئی ریسیپی ٹرائےکرنے کا پروگرام ہے، کہہ رہی تھیں اس بار رمضان اور عید پر نئے نئے پکوان بنائیں گی۔‘‘سلمیٰ نے مُسکراکر کہا، تو بیٹیوں کے ذکر پر وہ بھی مُسکرا دیئے۔ ’’وہ… سلمیٰ بیگم ! مَیں کچھ کہنا چاہتا ہوں‘‘ ’’جی جی کہیے، کیا پریشانی ہے؟‘‘ وہ جیسے شوہر کی پریشانی بھانپ گئی تھیں۔ 

’’میری ملازمت ختم ہوگئی ہے۔‘‘ چائے کا خالی کپ میز پر رکھتے ہوئے عرفان صاحب نے تھکے تھکے لہجے میں بیوی کو اطلاع دی اورسلمیٰ کا دل دھک سے رہ گیا، مگر چہرے پر پریشانی کے تاثرات لائے بغیر بظاہر نارمل لہجے میں بولیں ’’آپ نے اُنہیں زندگی کے بائیس برس دیئےہیں۔ وہ اس طرح کیسے آپ کو جواب دے سکتے ہیں؟‘‘ ’’پرائیویٹ سیکٹر میں یہی حالات ہیں۔ کسی بھی وقت، کسی کو بھی جواب مل سکتا ہے۔‘‘عرفان صاحب دل گر فتگی سے گویا ہوئے۔’’چلیں ،پریشان نہ ہوں۔ اللہ مالک ہے‘‘۔ سلمیٰ نے شوہر کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تسلّی دی۔کچھ ہی دیر میں تینوں بیٹیاں بھی ہنستی، کھلکھلاتی گھر میں داخل ہوئیں ،تو وہ دونوں اپنی پریشانی بھلا کر ان سے باتیں کرنےمیں مصروف ہوگئے۔

رات کے کھانے کے بعد جب حسبِ معمول گھر کے سارے افرادٹی وی لائونج میں بیٹھے ہنس بول رہے تھے، تو بڑی بیٹی، علیزے نے ماں باپ کے چہرے پہ بکھرے تفکّر کے آثار بھانپ لیے، کیوں کہ وہ شروع ہی سے حسّاس طبع اور سب سے بڑی ہونے کے ناتے والدین سے قریب ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی سمجھ دار بھی تھی، مگر اُس نے کچھ کہا نہیں۔ رات کو سلمیٰ حسبِ معمول سونے سے پہلے بیٹیوں کے کمرے میں گئیں تو تینوں پڑھائی میں مصروف تھیں۔’’مَیں نے کتنی مرتبہ کہا ہے، رات کو دیر تک نہ جاگا کرو ۔ چلو،اب سو جائو ‘‘ انہوں نے ہمیشہ کی طرح تاکید کی۔ 

’’امّی! ہم دونوں تو اپنے اسائنمنٹس بنارہی ہیں ، مگر آپی کا پتا نہیںکہ لیپ ٹاپ پر کیا کر رہی ہیں‘‘ چھوٹی ،شانزے شرارت سے بولی تو علیزے اور آبگینے بھی مُسکرادیں۔ علیزے نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بیڈ پر بٹھالیا۔’’امّی! اب بتائیں،کیوں پریشان ہیں؟مَیں شام سے آپ کو ایسے ہی فکر مند سا دیکھ رہی ہوں…‘‘ بیٹی کے پوچھنے پر سلمیٰ کی آنکھیں نم ہوگئیں ،مگر بات ٹالتے ہوئے کہا ’’ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ 

’’بتائیے ناں! آپ کو پتا ہے ،مَیں جان کر ہی رہوں گی۔‘‘ علیزے نے ضد کی تو شانزے اور آبگینے بھی ماں کی طرف متوجہ ہوگئیں۔ ’’تمہارے ابّو کی ملازمت ختم ہوگئی ہے، ابھی تم تینوں بھی پڑھ رہی ہو۔ اتنے اخراجات ہیں، پتا نہیں گھر کیسے چلے گا؟‘‘ سلمیٰ نے بمشکل بتایا۔’’ارے امّی! اتنی سی بات، ہم ہیں ناں۔ آپ کی تین بہادر بیٹیاں، ہم کس دن کام آئیں گی؟‘‘ شانزے ماں سے لپٹ کر بولی۔ آبگینے اور علیزے بھی ماں کو تسلّی دینے لگیں ، مگر ان کے کمرے سے جانے کے بعد علیزے کتنی ہی دیر گہری سوچ میں گُم بیٹھی رہی، اس کی نیند اُڑ چُکی تھی۔

مُلک میں کورونا کی تیسری لہر خطرناک ثابت ہورہی تھی،صورتِ حال پھر لاک ڈائون کی طرف جارہی تھی۔ شانزے اور آبگینے کا کالج اور علیزے کی یونی وَرسٹی بھی بند ہوگئی تھی، کلاسز آن لائن ہورہی تھیں۔ ساتھ ہی رمضان کی آمد آمد تھی ،مگر چہار سُو ایک اُداسی سی پھیلی ہوئی تھی۔سلمیٰ اب صحیح معنوں میں دانتوں سے پکڑ کر پیسے خرچ کرتی تھیں، کیوں کہ بچت بھی کوئی خاص نہیں تھی۔ 

مستقبل کے اندیشے ہر وقت ستاتے رہتے۔ عرفان صاحب مسلسل کام کی تلاش میں تھے ،مگر ابھی تک مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا تھا۔ ’’امّی! مجھے سحری اور افطاری کے لیے کچھ سامان لانا ہے، پیسے دے دیں…‘‘ علیزے نے ایک دن ماں کو طویل فہرست پکڑائی تو انہیں بیٹی کی ذہنی صحت پر شبہ سا ہوا۔’’بیٹا! ہمارا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں رہا، اتنا سارا سودا…؟ علیزے تم تو میری اتنی سمجھ دار بیٹی ہو‘‘ وہ پریشان ہوکر بولیں۔’’یہاں آئیں، بیٹھ کر میری بات سُنیں۔‘‘ علیزے ماںکی گردن میںبازو حمائل کرکے بولی۔

’’ارے بھئی! اس قدر خوش بوئیں اور رونق، لگتا ہے خوب اہتمام ہورہا ہے پہلی افطاری کا۔‘‘ چاروں ماں بیٹیوں کو کچن میں مصروف دیکھ کر عرفان صاحب تمام پریشانی بھول کرخوش دِلی سے بولے۔’’جی ابّو! آپ بیٹھیں ، اب آپ کو اِن شاء اللہ روزانہ ایسی ہی رونق نظر آیا کرے گی کچن میں۔‘‘ شانزے نےخوش ہوکر کہا۔افطاری سے دو گھنٹے پہلے ڈور بیل بجی تو عرفان صاحب اُٹھ کر باہر چلے گئے۔ واپس آئے تو حیران سے تھے۔

’’علیزے بیٹا! باہر کوئی لڑکا آیا ہے،موٹرسائیکل پہ کہتا ہے کہ ڈیلیوری کے لیے افطاری باکسزلینے آیا ہوں۔‘‘ ’’جی ابّو! آپ کی بیگم اور بیٹیوں کی تیار کردہ افطاری سے اب آپ کے علاوہ بھی بہت سے لوگ لطف اندوزہوں گےاور ہماری مالی پریشانی بھی ختم ہو جائے گی۔‘‘ آبگینے نے مُسکراتے ہوئے جواب دیا۔’’کیا مطلب؟‘‘

وہ ناسمجھی کے عالم میں بولے۔ ’’مطلب یہ کہ یہ پچاس باکسز باہر کھڑے لڑکے کو پکڑا دیجیے‘‘ علیزے نےبڑی سی ٹرے میں سلیقے سے رکھے باکسز عرفان صاحب کو تھمائے۔وہ باکسز دے کر واپس آئے تو اُداس سے تھے۔ چُپ چاپ لائونج میں رکھے صوفے پر سر جُھکاکر بیٹھ گئے۔’’کیا ہوا ابّو…؟‘‘ تینوں بہنیں باپ کے گرد گھیرا ڈال کر بیٹھ گئیں۔’’اگر آج آپ کے بیٹے آپ کا یوں ساتھ دیتے تو کیا تب بھی آپ اسی طرح ادا س ہوتے؟‘‘ علیزے نے باپ کے کندھے پر سر رکھ کر کہا۔ ’’ابّو آپ نے ساری زندگی ہمارے لیے اتنا کچھ کیا ہے، تو کیا آج ہم آپ کے ساتھ کھڑی نہیں ہوسکتیں؟‘‘ آبگینے نے بھی گفتگو میں حصّہ لیا۔

’’دنیا بدل چُکی ہے عرفان صاحب! کورونا وبا کے باعث پوری دنیا پہ کڑا وقت ہے۔یہ وقت ہم نے ایک دوسرے کا بوجھ بانٹ کر، ایک دوسرے کی ڈھارس بن کر کاٹنا ہے‘‘ سلمیٰ نے شوہر کو تسلّی دی۔’’ابّو آپ اُداس نہ ہوں، اس کام میں آپ بھی ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں، کیوں کہ جس طرح ایک اورایک گیارہ ہوتے ہیں، اسی طرح تین بیٹیاں اور ایک ابّو 13 ہوتے ہیں۔‘‘اب تک چُپ بیٹھی شانزے نے شوشاچھوڑا تو عرفان صاحب سمیت سب ہنس دئیے۔

بس پھر تو واقعی عرفان صاحب بھی ان کے ساتھ ہر کام میں شامل ہوگئے، سودا سلف لانے میں،سبزی سلاد کاٹنے میں، باکسز ڈیلیور کرنے میں۔ وہ ہر ہر کام میں شامل رہتے۔ اللہ نے کام میں اتنی برکت دی کہ آرڈرز روز بروز بڑھتے گئے اور ان کا کام خُوب چل نکلااور دیکھتے ہی دیکھتے عید آن پہنچی اور عید پر تو ان لوگوں کو کھانے کے خُوب آرڈرز ملے۔ چاند رات پر جہاں دیگر لڑکیاں ہاتھوں میں منہدی لگانے ، کپڑے ، جیولری سیٹ کرنےاور گھر سجانے میں مشغول تھیں، وہیں عرفان صاحب کا گھرانہ کھانے کے آرڈرز کی تیاری میں مصروف تھا۔

صبحِ عید بڑی نرالی تھی۔ ماں، بیٹیوں کے چمکتے چہرے عرفان صاحب کے دل کو تابانی بخش رہے تھے۔ وہ دل ہی دل میں اللہ پاک کا شُکر ادا کر رہے تھے کہ اس نے انہیں اتنی لائق، فائق، سمجھ دار اور محنتی بیٹیوں سے نوازا ۔ وہ سوچ رہے تھے کہ ’’ بیٹیوں سے بڑھ کر بھی کوئی نعمت ہو سکتی ہے بھلا؟وہ کیسے ماں باپ کے درد کو اپنا درد بنالیتی ہیں‘‘ ’’کن سوچوںمیں گُم ہیں؟ شیر خُرما کھائیے‘‘ سلمیٰ انہیں کھویا کھویا دیکھ کر محبّت سے بولیں۔’’پہلے آپ…‘‘ عرفان صاحب نے چمچ بھرکر سلمیٰ کی طرف بڑھایا۔ ’’سلمیٰ! مَیں تمہارا ممنون ہوں کہ تم نے ہماری بچیوں کی اتنی اچھی تربیت کی۔ بے شک، تم ایک مثالی ماں ہو‘‘ ’’یہ تو سچ ہے ابّو! اگر امّی نے ہمیں اس طرح مزے مزے کے کھانے بنانے نہ سکھائے ہوتے اور آڑے وقت کے لیے بچت نہ کی ہوتی تو ہم کبھی کیٹرنگ کا کام شروع نہیں کر پاتیں۔‘‘

آبگینے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال کر بولی۔’’میری مجال کہ تمہاری بات سے اختلاف کروں؟‘‘ عرفان صاحب نے خوش دِلی سے قہقہہ لگاکر کہا۔’’اچھا ، اچھا! یہ سب باتیں چھوڑیں اور یہ بتائیں کہ میری منہدی کیسی رچی ہے؟ اور ابّو چلیں، میری عیدی تو دیں، اس بار مَیں ڈبل عیدی لوں گی کہ اب تو میرے ابّو کاروباری آدمی ہو چُکے ہیں۔‘‘ ’’ہاں، ہاں کیوں نہیں‘‘ شانزے نے منہدی لگے ہاتھ باپ کو دکھاتے ہوئے عیدی کی فرمایش کی ، توعرفان صاحب نے جھٹ جیب سے پیسے نکال کر بیٹی کے ہاتھ پر رکھ دئیے۔