• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سعودیہ کے دورہ سے تعلقات مزید مضبوط ہوئے، عمران خان

سعودیہ کے دورہ سے تعلقات مزید مضبوط ہوئے، عمران خان


جدہ‘مکہ مکرمہ(شاہدنعیم‘ایجنسیاں)وزیر اعظم عمران خان نے اتوار کو وفد کے ہمراہ عمرہ کی سعادت حاصل کی اور بیت ﷲ میں نوافل ادا کیے‘ وزیراعظم کے لئے خانہ کعبہ کے دروازے خصوصی طور پرکھولے گئے جہاں انہوں نے نوافل ادا کرنے کے علاوہ امت مسلمہ کے ساتھ ساتھ ملک کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے دعا کی۔

دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کے دورہ سعودی عرب سے دونوں ممالک کے تعلقات مزیدمضبوط ہوئے ہیں ‘برے وقت میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ہماری مدد کی اور ادھار پر تیل فراہم کیا ‘اگر دوست ممالک بروقت مدد نہ کرتے تو پاکستان ڈیفالٹ کرجاتا‘ہم دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ایک ہیںجنہوں نے کورونا سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ وباءسے اپنے لوگوں اور معیشت کو بھی بچالیا۔

پاکستان میں مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں جو پرانے نظام کو بچانا چاہتے ہیں جبکہ ہم پاکستانی عوام کے ساتھ مل کر نیا پاکستان بنائیں گے ‘ اب تبدیلی کو کوئی روک نہیں سکتا‘یہ فیصلہ کن لمحہ ہے ‘ پاکستان میں مافیا سے ملک کو آزاد کرانے کی جدوجہد جاری ہے۔

مشکل وقت سے نکل چکے‘ معیشت ٹریک پر آگئی ہے ‘اب آگے روشن مستقبل نظر آرہا ہے‘ اوآئی سی کو اسلامو فوبیاپر ٹھوس ردعمل دینا چاہئے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوآئی سی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمدسے ملاقات میں گفتگو اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی تقریب میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اعلامیے کے مطابق او آئی سی سیکرٹری جنرل نے وزیراعظم کو مسئلہ کشمیر پرتنظیم کے کردار سے آگاہ کیا اور کہا کہ او آئی سی نے ثابت قدمی کے ساتھ کشمیر کاز کی حمایت کی اور او آئی سی مسئلہ کشمیرکے حل کیلئے اپنا کردار جاری رکھے گی۔ 

جدہ میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نےکہا کہ پاکستان میں اس وقت فیصلہ کن لمحہ ہے، ایک طرف پرانا اسٹیٹس کو بیٹھا ہوا ہے، مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں جو پرانے نظام کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان کے عوام میرے ساتھ ہیں جو تبدیلی اور قانون کی بالادستی کی طرف لے کر جا رہے ہیں‘ یہ اصل میں قانون کی بالادستی کی جدوجہد ہے۔ ایک طرف انسانیت اور انصاف کا نظام ہے جبکہ دوسری جنگل کا نظام ہے۔

ایک طرف پرانا اسٹیٹس کو اور مافیاز ہیں جو کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور سب اکٹھے ہیں‘دوسری طرف عوام اورہماری حکومت ایک تبدیلی کے لیے لڑ رہی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی کو کوئی روک نہیں سکتا کیونکہ ملک کے اندر آگاہی ہے اور قوم مسائل کو سمجھ گئی ہے جو پہلے نہیں تھی، اس کی وجہ سوشل میڈیا ہے، نوجوانوں کے پاس وہ معلومات ہیں جو پہلے کبھی تھی نہیں۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ ہماری پارٹی اقتدار میں سوشل میڈیا اور نوجوانوں کی وجہ سے آئی، یہ تبدیلی بھی نوجوانوں کی وجہ سے آرہی ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ نئے پاکستان کے لیے جدوجہد چل رہی ہے۔ اب فیصلہ کن وقت ہے۔ خوش خبری دیتا ہوں جلد نیا پاکستان بنے گا۔

قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان نے مکہ مکرمہ میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمد سے ملاقات کی۔اس موقع پر عمران خان نے زوردیاکہ اوآئی سی کو اسلامو فوبیا پرٹھوس ردعمل دینا چاہئے ‘ مسلم قائدین کی اجتماعی کوشش کرنی ہوگی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ دنیا حضور اکرم ﷺسے عقیدت و حقیقت کو تسلیم کرے۔ 

وزیر اعظم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ عدم رواداری اور مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر تشدد پر اکسانے کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تیار کرے اور بین المذاہب ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کے لئے مل کر کام کریں۔ 

وزیر اعظم نے او آئی سی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لئے اپنا ٹھوس کردار ادا کرے۔ سیکریٹری جنرل نے وزیر اعظم کے ساتھ جموں و کشمیر کے تنازع کی حمایت میں او آئی سی کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات شیئر کیں۔

ادھروزیراعظم عمران خان اپنا تین روزہ کامیاب دورہ مکمل کر کے وطن واپس روانہ ہوگئے- کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر مکہ مکرمہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل ‘سفیر پاکستان بلال اکبر اور سفارت عملے نے انہیں الوداع کیا۔

اہم خبریں سے مزید