• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

راول ڈیم میں آلودہ پانی آمیزش روکنے کیلئے 3 سیوریج ٹرٹمنٹ پلانٹ لگانے کا فیصلہ

اسلام آ باد ( رانا غلام قادر، نیوز رپورٹر ) سی ڈی اے نے راول ڈیم میں آلو دہ پانی کی آ میزش روکنے کیلئے تین سیوریج ٹر یٹمنٹ پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے سی ڈی اے کو حکم دیاتھا کہ راول ڈیم میں آ لودہ پانی کو جانے سے روکا جا ئے اور اسے ٹریٹمنٹ کے بعد ڈیم میں ڈالا جا ئے کیونکہ یہ پانی راولپنڈی شہر اور کینٹ کے لوگ پیتے ہیں لیکن یہ منصوبہ رو ایتی سرخ فیتے کی وجہ سے کئی سال سرد خانے میں پڑا رہا ۔ سی ڈی اے نے کنسلٹنٹ فرم عثمانی ایسو سی ایٹ کے ذ ریعے 2011میں سٹڈی کرائی تھی جس کے مطابق بھارہ کہو ‘ مل پور اور نور پور شاہاں اور بنی گالہ سمیت راول ڈیم کیچمنٹ ایریا کی تمام غیر قانونی آ بادیوں کا سیوریج بغیر ٹریٹمنٹ کے راول جھیل میں جا رہا ہے۔ کورنگ نالہ اور شاہدرہ نالہ دونوں راول ڈیم میں گرتے ہیں جن میں سیوریج ڈالا گیا ہے۔ تین مقامات پر سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کا منصو بہ بنایا گیا ہے۔ اس کے پی سی ون کی لاگت 3ارب97 کروڑ10 لاکھ روپے ہے۔ یہ پی ایس ڈی پی پراجیکٹ ہے۔ پلاننگ کمیشن کی ہدایت پر سی ڈی اے نے ترکی کی ایک انٹر نیشنل فرم آرٹ ایشیا کو کنسلٹنٹ فرم کے طور پر ہائر کیا ہے۔تین ٹریٹمنٹ پلانٹ بری امام ‘ کورنگ نالہ اور شاہدرہ پر لگائے جائیں گے۔ ایک پلانٹ کی استعداد چار ملین گیلن یومیہ دوسرے کی3.6ملین گیلن اور تیسرے کی 1.9ملین گیلن ہوگی ۔ پہلے اس پرا جیکٹ کیلئے ٹینڈر نومبر 2020 میں طلب کئے گئے تھے۔ چار آ فر زآئی تھیں مگر یہ پراسیس منسوخ کردیاگیا۔ دوبارہ مارچ میں ٹینڈر طلب کئے گئے جو پانچ مئی کو وصول کئے گئے ۔ اس مرتبہ تین آ فرز آئی ہیں جن کا جا ئزہ عید کے بعد لیا جا ئے گا۔ او یلیو ایشن کمیٹی میں نسٹ کے پروفیسر ڈاکٹر شیر جمال اور واسا کے نمائندے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ کنٹریکٹ انجنیئرنگ ‘ پرو کیو رمنٹ اور کنسٹرکشن کی بنیاد پر دیا جا ئے گا۔ سیوریج ٹر یٹمنٹ پلانٹ لگانے کیلئے 14ماہ دیئے جا ئیں گے ۔ جو کمپنی پلانٹ لگائے گی وہ ایک سال خود پلانٹ کو چلائے گی اور پھر سی ڈی اے کے حوالے کرے گی۔ شہریوں نے چیئر مین سی ڈی اے اور وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس لگانے کا کام جلد شروع کیا جا ئے کیونکہ کئی ملین گیلن آ لودہ پانی راول ڈیم میں جانے سے لاکھوں شہریوں کی صحت کو خطرات لاحق ہیں ۔
اسلام آباد سے مزید