• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گا ڑیوں کو شرائط لاگو کرنے کے بعد کھول دیا گیا،ٹرانسپورٹر سراپا احتجاج

پشاور (وقائع نگار) صوبائی دارالحکومت میں حکومت کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹ کو نئے شرائط لاگو کرنے کے بعد کھول دی گئی جس پر ٹرانسپورٹر سراپا احتجاج بن گئے فیصلے کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا عندیہ دے دیا۔ حکومت کی جانب سے کورونا کی تیسری لہر میں کمی لانے کیلئے جاری لاک ڈائون کی ڈیڈ لائن ختم ہوتے ہی پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی نئے شرائط کے ساتھ اجازت مل گئی جس کے تحت ٹرانسپورٹرز ایس او پیز کو مد نظر رکھتے ہوئے گاڑیوں میں پچاس فیصد سواریوں کو بٹھانے کی پابند ہونگے جس پر ٹرانسپورٹروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ اونر ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر خان زمان آفریدی نے ایک بیان میں فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ٹرانسپورٹروں کا معاشی قتل عام بند کیا جائے۔ انہوں کہا کہ پہلے لاک ڈائون کے دوران انہیں بے تحاشہ مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا اور اب آدھی سواریاں بٹھانے کی شرط پر انہیں تنگ کیا جارہا ہے جو کہ سراسر ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ گاڑی میں آدھی سواریاں بٹھائینگے تو ان کا سارا منافع ختم ہوجائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹروں نے حکومت کی جانب سے طے شدہ ایس او پیز کے تمام شرائط مان لیئے ہیں اور کسی بھی سواری کو ماسک کے بغیر گاڑی میں نہیں بٹھایا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور اس نامناسب فیصلہ کو واپس لے بصورت دیگر اس کے خلاف بھر پور احتجاج کیا جائیگا۔
پشاور سے مزید