• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’مجھے ڈر ہے کہ ہم سب مرنے والے ہیں‘


فلسطینیوں پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کا سلسلہ جاری ہیں، جس کے دوران سیکڑوں افراد شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کے خلاف دنیا بھر سے آوازیں بھی بلند ہورہی ہیں۔

فلسطین پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں نے غزہ میں موجود انسانوں کے ذہن پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، ایسی ہی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔

ویڈیو میں ایک چھوٹی معصوم فلسطینی لڑکی کو خوف زدہ دیکھا جاسکتا ہے جو اپنی ماں سے کہتی ہے، ’مجھے ڈر ہے کہ ہم سب مرنے والے ہیں‘۔


فلسطینی لڑکی اپنی ماں سے مزید کہتی ہے کہ اُسے ڈر ہے کہ اُن کا گھر مسمار ہوجائے گا۔

لڑکی نے یہ بھی کہا کہ جب بھی اُس کی ماں نے اُسے پرسکون کرنے کی کوشش کی تو وہ مرجائیں گی۔

واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیل کی بمباری دوسرے ہفتے میں داخل ہوگئی ہے، آج صبح اسرائیلی طیاروں نےغزہ کے ساحلی علاقے میں بمباری کی، اسرائیلی حملوں سے غزہ شہر دھماکوں سے گونج اٹھا۔

اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کئی علاقوں کے بجلی منقطع ہو گئی اور بڑی تعداد میں عمارتوں کو نقصان پہنچا، غزہ کے ایک رہائشی کا کہنا ہے کہ حملوں کی یہ شدت پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔

فسلطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی جارحیت میں غزہ میں58 بچوں، 34 خواتین سمیت 200 کے قریب فلسطینی شہید جبکہ 1200 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک سابق اسرائیلی پائلٹ کا فلسطینیوں کے حق میں بیان سامنے آیا تھا، جس میں اسرائیل کے حملوں کو سنگین جنگی جرائم قرار دیا تھا۔

اسرائیل کے حملوں سے غزہ کا علاقہ اور مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد اقصیٰ جنگی میدان کا منظر پیش کرتے رہے ہیں۔

مسلمان ممالک کے ساتھ ساتھ کئی اور ممالک بھی اسرائیلی حملوں کے مخالف ہیں، گزشتہ روز بوسنیا کی صدارتی کونسل اور پارلیمان کے رکن نے فلسطینیوں کے حق میں بیان دیا۔

انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جواب دیتے ہوئے کہا تھاکہ ’ ہم فلسطینیوں کے قتل کے حامی نہیں ہیں‘۔

بوسنیا کے رکن پارلیمان کا یہ بیان اسرائیلی وزیراعظم کی طرف سے ایک فہرست کے اجراء کے بعد سامنے آیا تھا ،جس کے بارے میں کہا گیا یہ وہ ممالک ہیں جو فلسطین پر اسرائیل کے حملوں کے حامی ہیں۔

یاد رہے کہ فلسطین پر اسرائیل کی جانب رمضان المبارک کے آخری عشرے سے وحشیانہ بمباری پر مبنی حملے کیے جارہے ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید